’’قلندر کی صدا‘‘ اور معاشرہ کی صدا

’’قلندر کی صدا‘‘ اور معاشرہ کی صدا

پاکستان رائٹرز کونسل کے زیر اہتمام معروف شاعر اور ادیب محمد نوید مرزا کے پانچویں شعری مجموعے ’’قلندر کی صدا‘‘ کی تعارفی تقریب منعقد ہوئی، جس کی صدارت اردو غزل کے معروف شاعر نجیب احمد نے کی۔ مہمانانِ خصوصی معروف شاعر، ادیب، براڈ کاسٹر اور بچوں کے ادب کی نمایاں شخصیت ابصار عبدالعلی، معروف شاعر غلام حسین ساجد، معروف ورسٹائل اداکار اور شاعر راشد محمود، معروف ورسٹائل اداکار اور شاعرراشد محمود، چیئرمین پاکستان ملت پارٹی محمد عبدالحق اعوان، معروف شاعر اور کالم نگار سعد اللہ شاہ، معروف شاعر اور ادیب محمد ممتاز راشد اور معروف نقاد و افسانہ نگار ڈاکٹر امجد طفیل تھے۔ تقریب کا آغاز تلاوت قرآن حکیم سے ہوا، جس کی سعادت حامد عمیر نے حاصل کی۔ جب کہ نوید مرزا کی نعت کو ترنم سے معروف نعت خواں میاں جمیل احمد نے پیش کیا، جس کے بعد تقریب کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ صدر اور مہمانانِ خصوصی کے علاوہ اظہارِ خیال کرنے والوں میں ملک شہباز، مرزا محمد یاسین بیگ چیئرمین رائٹرز کونسل، کاشف مغل، سیّد عارف نوناری، محمد نعیم مرتضیٰ، میجر خالد نصر، ظفر اقبال ظفر اور کنول فیروز کے نام شامل ہیں۔

جب کہ معروف گلوکار خادم حسین اور سہیل خان نے نوید مرزا کا کلام ترنم سے پیش کیا۔ مہمان خصوصی ڈاکٹر امجد طفیل نے ’’قلندر کی صدا‘‘ کو شاعر کی ایک تخلیقی کاوش قرار دیتے ہوئے اُس میں سے کئی اشعار پڑھ کر سنائے۔ محمد ممتاز راشد لاہوری نے کہا کہ میں نوید مرزا کو پچھلے تیس سے زائد برس سے جانتا ہوں، انہوں نے نظم و نثر دونوں میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ ’’قلندر کی صدا‘‘ شاعری کی ایک اچھی کتاب ہے۔ محمد عبدالحق اعوان نے ’’قلندر کی صدا‘‘ کی اشاعت پر نوید مرزا کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے ان کے دیگر ادبی کارناموں خصوصاً شہدائے پشاور کی یاد میں لکھی گئی کتاب ’’زندہ ہیں شاہین‘‘ کو سراہا۔ معروف شاعر اور کالم نگار سعد اللہ شاہ نے کہا کہ نوید مرزا نے جس صنف اور ادبی میدان میں ہاتھ ڈالا اس میں کامیابی حاصل کی ہے، ان کی تخلیقی کاوشوں کے پیچھے برسوں کی ریاضت ہے۔ وہ حضرت اقبال کے ماننے والے ہیں، انہوں نے شاعری کے ساتھ بچوں کا ادب بھی ایک قومی فریضہ سمجھ کر تخلیق کیا، جہاں تک ’’قلند کی صدا‘‘ کا تعلق ہے تو ان کی غزل بہت اعلیٰ معیار کی ہے۔ ان کے والد معروف شاعر بشیر رحمانی ایک درویش منش انسان تھے۔ میرے نزدیک قلندر کی صدا ان کی ایک کامیاب شعری تصنیف ہے۔ میری نظر میں قلندر ایک مزاج کو کہتے ہیں اور یہی وصف نوید مرزا میں ان کے والد کی عجز و انکساری اور درویشی کے ذریعے منتقل ہوا ہے، انہوں نے علامہ اقبال جیسے عظیم شاعر کو اپنا مرشد سمجھتے ہوئے اقبالیات پر بھی بڑا قابل قدر کام کیا ہے۔ خدا ان کی ریاضتوں کو بارآور کرے۔

معروف شاعر اور اداکار راشد محمود نے کہا کہ میرا نوید مرزا سے تعارف ان کے اور میرے مشترکہ دوست نعیم مرتضیٰ کے حوالے سے ہوا اور میں خوش ہوا کہ انہوں نے مجھے نوید مرزا جیسے تخلیق کار سے متعارف کروایا۔ جو ایک حساس طبیعت شاعر ہی نہیں، بلکہ ایک باکمال نثر نگار بھی ہیں۔ جنہوں نے شہدائے اے پی ایس کے لئے انتہائی دردمندی کے ساتھ ’’زندہ ہیں شاہین‘‘ جیسا ناول تخلیق کیا۔میں انہیں ’’قلندر کی صدا‘‘ کی اشاعت پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ معروف شاعر غلام حسین ساجد نے ’’قلندر کی صدا‘‘ کو سراہتے ہوئے شاعر کو مبارک باد پیش کی اور اس میں شاعر کے اپنے عزیزوں اور شاعروں کے لئے لکھے ہوئے نوحوں کا ذکر بھی کیا اور نوید مرزا کے مجموعے ’’روبرو محبت ہے‘‘ کا بھی حوالہ دیا اور زیادہ تر شعر اسی مجموعے سے سنائے۔ معروف شاعر، ادیب براڈ کاسٹر اور بچوں کے ادب کے حوالے سے شہرت رکھنے والی شخصیت ابصار عبدالعلی نے کہا کہ نوید مرزا منفرد اور امکانات سے بھری شاعری کرتے ہیں اور بچوں کے ادب کے حوالے سے ان کی خدمات قابل تحسین ہیں۔ میری دعا ہے کہ ان کا یہ تخلیقی سفر مزید کامیابی سے جاری رہے۔

صاحب صدر معروف سینئر شاعر نجیب احمد نے کہا کہ نوید مرزا کا شعری مجموعہ ’’قلندر کی صدا‘‘ غزلوں اور نظموں پر مشتمل ہے۔ مجھے نوید مرزا کی نظم غزل سے بہتر محسوس ہوئی ہے۔ وہ نظم کو پوری اور مکمل معنویت سے قاری تک پہنچانے کا ہنر جانتے ہیں اور وہ مجھے ایک کامیاب نظم گو دکھائی دیتے ہیں، جہاں تک ان کے بچوں کے ادب کے حوالے سے کام کا ذکر ہے تو میں نے ان کی بچوں کے حوالے سے تخلیقات کا مطالعہ تو نہیں کیا، لیکن احباب کی گفتگو سے پتہ چلا کہ وہ بچوں کے لئے معیاری ادب تخلیق کرتے ہیں جو ایک قابل تحسین کام ہے۔ اُمید ہے کہ وہ یہ کام جاری رکھیں گے، اس موقع پر صاحب کلام نوید مرزا نے صاحب صدر، مہمانانِ خصوصی اور احباب کا شکریہ ادا کیا اور اپنے کلام سے نوازا۔

مزید : رائے /کالم