پندرہ دن بعد!

پندرہ دن بعد!
پندرہ دن بعد!

  

دل تو چاہتا ہے سب سیاستدانوں سے، اسٹیبلشمنٹ سے قابلِ احترام ججوں سے اور صحافیوں سے ہاتھ جوڑ کر کہوں، ذرا صبر اور حوصلے سے کام لیں، صرف پندرہ دن باقی رہ گئے ہیں، پھر یہ فیز مکمل ہو جائے گا، نگران حکومتیں قائم ہوجائیں گی، نئے انتخابات ہوں گے، عوام اپنا نیا فیصلہ دیں گے، منتخب حکومت قائم ہوگی، وہ جس طرح چاہے گی اپنی پالیسی بنائے گی، جمہوریت چلتی رہے گی، ملک آگے بڑھتا رہے گا، پھر جھگڑا کس بات کا ہے؟ انتخابی سیاست سے اگر ایک نواز شریف مائنس ہوگیا ہے تو کیا اس بات کو اتنا بڑا دکھ بنا لیا جائے کہ باقی سب کچھ بھی تباہ ہوجائے، یہ فوج اور نواز شریف کے درمیان اب کھلی جنگ چھڑ چکی ہے، اور نواز شریف نے سکیورٹی کمیٹی کی قرارداد کو مسترد کردیا ہے کیا موجودہ حالات میں اس کی ضرورت تھی، کیا جاوید ہاشمی نے جو حدود پار کر جانے والی پریس کانفرنس کی ہے کیا وہ ہمارے قومی مفادات سے لگا کھاتی ہے، کس ملک میں کوئی سیاستدان اپنی فوج کو یہ طعنے دیتا ہے کہ تم تو ایک جنگ بھی نہیں جیت سکے، کیا یہ سامنے کی حقیقت نہیں کہ فوج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ حال ہی میں جیتی ہے، جاوید ہاشمی جوشِ جنوں یا پھر ملتان کے جلسے میں نواز شریف کی جپھی سے اس حد تک جذباتی ہوگئے ہیں کہ فوج کو وہ کچھ کہہ دیا ہے جو بہادری نہیں بے وقوفی کے زمرے میں آتا ہے، اپنی ہی فوج کو اس طرح تنقید کا نشانہ بنانا اور پھر اس کی شکست کا تذکرہ کرکے اس کے حوصلے پست کرنا کہاں کی دانشمندی ہے۔

جب نیشنل سکیورٹی کمیٹی بنائی گئی تو اس کا مقصد یہ تھا کہ ملک میں جاری دہشت گردی کے خلاف ایک لائحہ عمل بنایا جائے، اس کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ سول و عسکری قیادت کے درمیان ایک مؤثر رابطہ رہے اور کسی بھی حساس معاملے پر یکساں رد عمل کا اظہار کیا جائے۔ اس کے تحت نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا، جس پر بڑی حد تک عمل ہوا اور مثبت نتائج بھی سامنے آئے، اب اسی نیشنل سکیورٹی کمیٹی نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے دیئے گئے انٹرویو میں بعض باتوں کو من گھڑت اور خلاف حقیقت قرار دے کر انہیں مسترد کیا، اور اس پر سول و عسکری قیادت نے اتفاق بھی کیا، تو اصولاً یہ ایک قومی مؤقف تھا، مگر پہلے وزیراعظم نے اندر متن کو تسلیم کرکے باہر آکر تردید کی اور بعد ازاں نواز شریف نے بھی یہ کہہ دیا کہ وہ سکیورٹی کمیٹی کی قرارداد کو مسترد کرتے ہیں اس کا مطلب ہے ہم اپنے ہی بنائے گئے اداروں پر خطِ تنسیخ پھیرتے جائیں گے، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اس موقع پر اہم کردار ادا کرسکتے تھے، انہیں سکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں جانے سے پہلے نواز شریف سے وضاحت لینی چاہئے تھی، سکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں قرارداد کو تسلیم کرکے وہ بعد ازاں اس سارے عمل کے برعکس بیانیہ لے آئے، اس سے عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوا کہ وزیراعظم جو سکیورٹی کمیٹی کے چیئرمین ہیں، ایک طے شدہ بات کو باہر آکے دوسرا رنگ کیسے دے سکتے ہیں، انہوں نے ایک انتہائی سنجیدہ فورم کو کس قدر غیر سنجیدہ فورم بنا دیا، ان کا کام تو یہ تھا کہ سکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں اس بات کو ثابت کرتے کہ نواز شریف کے انٹرویو سے جس بات کو اچھالا جارہا ہے، وہ اس طرح نہیں کی گئی بلکہ نواز شریف نے اسے ایک دوسرے رنگ میں کہا ہے، چونکہ وہ وہاں یہ بات ثابت نہیں کرسکتے تھے، اس لئے مذمتی قرارداد کی منظوری دے آئے مگر باہر آتے ہی بدل گئے۔

پندرہ دن بعد ملک ایک نئے مرحلے میں داخل ہورہا ہے، 31 مئی کو یہ حکومتیں اور اسمبلیاں ختم ہوجائیں گی اور نگران سیٹ اپ آجائے گا، سب خیریت سے انتخابات کے انعقاد کی دعائیں مانگ رہے ہیں، اس موقع پر ضرورت تو اس بات کی ہے کہ کوئی ایسا رخنہ نہ ڈالا جائے جو انتخابات کے بروقت انعقاد کو شک میں ڈال دے، یہ سوال ابھی تک لایخل ہے کہ نواز شریف نے ایسے موقع پر ایسا انٹرویو کیوں دیا، جو قومی سطح پر ایک انتشار کو جنم دے گا، کیا وہ چاہتے تھے کہ انتخابات سے پہلے ان کو غدار قرار دے دیا جائے تاکہ اس کی بنیاد پر وہ خود کو مظلوم ثابت کرسکیں، ٹھیک ہے ان کے چند ساتھیوں نے ان کے اس انٹرویو میں اٹھائے گئے نکات کی حمایت کی ہے، جاوید ہاشمی نے تو ان کی محبت میں حد ہی کردی ہے، کیا اس ماحول میں مسلم لیگ ن انتخابات میں جاسکے گی، کیا اسے امیدوار مل جائیں گے، کیا وہ انتخابی نتائج کو تسلیم کرے گی، کیا اب انتخابی مہم فوج کے خلاف بیانیے پر چلائی جائے گی، کیا میاں صاحب جیسا کہ کہہ رہے ہیں، ابھی ان کے پاس اور بہت سے راز ہیں جنہیں وہ رفتہ رفتہ سامنے لائیں گے، ایسا کریں گے اور اس صورت میں ملکی فضا کیا شکل اختیار کرے گی، نواز شریف تو کشتیاں جلا چکے ہیں کیا ان کی پارٹی بھی اس راستے پر چلے گی، یہ اور ایسی بہت سی باتیں مستقبل کے حوالے سے ڈراتی ہیں اور اس خدشے کو بھی جنم دیتی ہیں کہ شاید انتخابات وقت پر نہ ہوسکیں، نواز شریف ووٹ کو عزت دو کے بیانیے پر قائم ہیں، مگر ساتھ ہی ساتھ ان کا رویہ یہ ہے کہ سب کچھ تاراج کردو، سب کہہ رہے ہیں کہ ممبئی دھماکوں کے حوالے سے بیان دے کر نواز شریف نے خود اپنی مقبولیت پر کلہاڑا چلایا ہے، آج چند لوگ بھی ایسے نہیں مل رہے جو نواز شریف کی اس بات کو حقیقت سمجھتے ہوں کہ ممبئی دھماکوں کے لئے دہشت گرد پاکستان سے گئے، بھارت کے معاملے میں پاکستان کے اندر ایک دائمی نفرت موجود ہے، کیونکہ بھارت کی پاکستان کے ساتھ ازلی دشمنی کھُلی حقیقت ہے، نواز شریف تو اسے سویلین بالادستی کے خلاف عمل قرار دے رہے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ بھارت کے لئے کسی پاکستانی کے دل میں نرم گوشہ نہیں، سب اس کو اپنا دشمن نمبر ون سمجھتے ہیں، اس لئے مسلم لیگ ن کے لئے اس الزام کے ساتھ انتخابات میں جانا آسان نہیں ہوگا۔ اس صورت حال کو جتنی جلد ٹھنڈا کردیا جائے اتنا ہی مسلم لیگ ن کے لئے انتخابات میں جانا آسان ہوگا۔

میں تو یہ سوچتا ہوں کہ موجودہ حالات میں نگران حکومت کیسے شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنا پائے گی۔ ماحول ایسا بن چکا ہے کہ شدید نوعیت کی کشمکش ہر طرف سے جاری ہے۔ یہ بات بھی طے ہے کہ اس بار کسی نے بھی انتخابی نتائج کو صاف دل کے ساتھ قبول نہیں کرنا، مسلم لیگ ن کو شکست ہوئی تو اس نے اپنی شکست کو موجودہ حالات سے جوڑ دینا ہے، سارا ملبہ خلائی مخلوق پر ڈال کر میاں صاحب نے اپنا بیانیہ جاری رکھنا ہے، بالفرض عمران خان وزیراعظم بن جاتے ہیں تو انہیں نہ صرف اسمبلی کے اندر بلکہ اسمبلی کے باہر بھی ایک شدید نوعیت کی اپوزیشن کا سامنا کرنا پڑے گا۔ نواز شریف کو چونکہ ریلیف تو ملنا نہیں، نہ ہی کوئی این آر او ہونا ہے، اس لئے وہ تو ایک دائمی اپوزیشن لیڈر بن جائیں گے، وہ اب چین نہیں لینے دے رہے تو اس وقت کیسے لینے دیں گے۔ جو لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ نواز شریف بلا سوچے سمجھے چلے جارہے ہیں وہ غلط ہیں، نواز شریف کا ہر قدم سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے، وہ ساری گیم آج کے لئے نہیں مستقبل کے لئے کررہے ہیں، ان کا پلان دو دھاری ہے، اگر مسلم لیگ ن کو انتخابات میں بھاری اکثریت حاصل ہوگئی تو ان کی پوری کوشش ہوگی کہ آئین میں ایسی ترامیم کی جائیں جو کسی طرح ان کی نا اہلی ختم کرانے کا باعث بنیں، اس بارے میں وہ اپنے جلسوں میں اظہار بھی کرتے ہیں اور عوام سے فیصلہ کن ووٹ دینے کی اپیل بھی، اگر مسلم لیگ ن کو اکثریت نہیں ملتی، میاں صاحب نے یقیناً پلان بی تیار رکھا ہوگا۔ وہ اس وقت خلائی مخلوق جیسے بیانیے سے جو فضا بنا رہے ہیں اس کا مقصد یہی ہے کہ شکست کی صورت میں نتائج کو مسترد کرکے تحریک چلائی جائے، میاں صاحب تو 2013ء کے بعد عمران خان اور طاہر القادری کی دھاندلی کے خلاف تحریک کو برداشت کرگئے تھے لیکن نئی حکومت کے لئے نواز شریف کی تحریک کو برداشت کرنا آسان نہیں ہوگا۔ نواز شریف کا لمحۂ موجود میں حد درجہ بلند آہنگی اختیار کرنا اس وجہ سے بھی ہے کہ وہ اس خطرے کو بھی پیشِ نظر رکھے ہوئے ہیں کہ شاید انہیں جیل جانا پڑے، جب کشیدگی حد درجہ بڑھی ہوگی تو نواز شریف کا جیل جانا بھی ایک بڑے طوفان کو جنم دے گا اور شاید مسلم لیگ ن کو سیاسی فائدہ بھی ہو۔

موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے ہر ایک شخص تشویش میں مبتلا ہے، اور رفتہ رفتہ شکوک و شبہات کے بادل گہرے ہوتے جارہے ہیں، امید صرف یہ ہے کہ نگران حکومت ایسی آئے جو حالات کی بڑھتی ہوئی تپش کو کم کرنے کی کوشش کرے۔ یہ ہے تو بہت بڑی خوش فہمی کہ پندرہ دن بعد حکومت بدلے گی تو حالات بھی بدل جائیں گے، تاہم بہتری کی امید رکھنی چاہیے، نوازشریف اس وقت ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے ہیں، وہ اگر چاہیں تو جمہوریت کی گاڑی کو رواں دواں رکھ سکتے ہیں، نہ چاہیں تو اسے کسی بڑے سانحے سے دوچار کرسکتے ہیں، دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں وہ اس حوالے سے کیا فیصلہ کرتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم