اللہ اللہ آمدِ ماہِ صیام

اللہ اللہ آمدِ ماہِ صیام
اللہ اللہ آمدِ ماہِ صیام

  



کئی برسوں سے وطن عزیز میں رویتِ ہلال کمیٹی قائم ہے جس کا بجٹ عوام کی نگاہوں سے اسی طرح اوجھل رہتا ہے جس طرح کشمیر کمیٹی کا بجٹ، میڈیا کے کسی ناظر یا قاری کو نظر نہیں آتا۔۔۔۔ اس روئتِ ہلال کمیٹی کی تنظیم پر بحث کرنے لگوں تو چاروں پانچوں صوبوں کے جیدمولانا حضرات غصے سے لال پیلے ہونے لگیں گے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ کمیٹی جس مقصد کو پیشِ نظر رکھ کر قائم کی گئی تھی وہ پورا ہوا ہے یا نہیں؟ کیا ملک بھر میں عیدالفطر اور ماہِ رمضان کی شروعات ایک ہی دن ہوتی ہیں یاہم پاکستانی اپنے اپنے مولاناؤں کی ڈفلی پر ناچتے ہیں؟ کئی برسوں سے مولانا منیب الرحمن صاحب ماہِ شعبان کی آخری دو تاریخوں میں کسی بلند بام عمارت پر چڑھ جاتے ہیں اور لمبی سی نالی والی ایک جدید دوربین کو ایک آنکھ سے بغور دیکھتے پائے جاتے ہیں اور پھر اپنے دوست حضرات کو بھی جن کا تعلق مختلف مسالک سے ہوتا ہے، دکھاتے ہیں اور پھر مل جل کر جو فیصلہ کرتے ہیں اس کا انتظار کرانے میں حد درجہ فیاضی فرماتے ہیں ۔آخر ٹی وی پر آکر جب لب کشائی کرتے ہیں تو ہر دو الفاظ کے دوران 20 سیکنڈز کا وقفہ لے کر آدھ گھنٹے میں اپنے سارے مصاحبین کے اسمائے گرامی پڑھنے کے بعد فرماتے ہیں:’’ناظرین و سامعین! شعبان المعظم کا چاند نظر آگیا ہے اس لئے کل پہلا روزہ ہوگا‘‘۔۔۔ہم بھی کیا سادہ ہیں کہ اس ایک جملے کو سننے کے لئے پورا ایک گھنٹہ انتظار کرتے ہیں اور نگاہیں ٹی وی سکرینوں پر گاڑ کر وقت ضائع کرتے رہتے ہیں۔ جب ٹی وی نہیں آیا تھا تو ریڈیو پاکستان کی معمول کی نشریات روک کر یہ دو حرفی اعلان کر دیا جاتا تھا کہ رمضان کا چاند نظر آگیا ہے۔ کل پہلاروزہ ہوگا۔۔۔۔ اللہ اللہ خیر سلا!

یادش بخیروہ دن کتنے اچھے تھے جب پاکستان کے مسلمان واقعی ماہِ رمضان کا شدت سے انتظار کیا کرتے تھے۔ وہ دور ہمارا عہدِ طفولیت بھی تھا۔ ہم پر روزے تو فرض نہیں تھے لیکن ہمیں دو طرح کی خوشیاں ماہِ رمضان کے پورے 30,29 دنوں تک سرشار رکھا کرتی تھیں۔ ایک تو وہ افطاریاں تھیں جو ہم بے روزہ داروں کو بھی اُسی طرح نصیب ہو جایا کرتی تھیں جس طرح روزہ داروں کو۔۔۔ قسم قسم کے شربت، سکنجبین، دودھ سوڈا، پکوڑے، دہی بھلے اور پھلکیاں وغیرہ اتنی باافراط مل جاتی تھیں کہ رات کے کھانے کی ضرورت نہیں رہتی تھی۔۔۔ اوردوسری خوشی یہ ہوتی تھی کہ جوں جوں دن گزرتے تھے عیدالفطر نزدیک آتی جاتی تھی۔

والدہ مرحومہ ماہِ رمضان کے آخری ہفتے میں میدہ گوندھ کر سویاں تیار کیا کرتی تھیں۔ الاہنی چارپائی کے ادوین والے حصے پر سیرو کے ساتھ سویاں نکالنے والی مشین فٹ کردی جاتی تھی جسے گھوڑی کہا جاتا تھا۔ والدہ گھوڑی کے منہ میں میدے کے پیڑے ڈالتی جاتی تھیں اور ہم بھائی باری باری گھوڑی کے ہتھے کو گھما گھما کر قطار اندر قطار سویوں کے تولد ہونے کا انتظار کیا کرتے تھے جو پیدا ہوتے ہی بچپن سے لڑکپن اور لڑکپن سے جوانی کو پہنچ جاتی تھیں۔ پھر ان کا قد جب ایک ڈیڑھ فٹ ہوجاتا تھا تو والدہ ایک جھٹکے سے گھوڑی کے پیندے پر ہاتھ مار کر اور دوسرے بازو پر سویوں کا گچھا پھیلا کر صحن میں بندھی ایک رسی پر ڈال دیا کرتی تھیں۔ ہم نے اس فن کو سیکھنے کی کئی بار کوشش کی لیکن ہر بار ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ کبھی گچھا ٹوٹ جاتا تو کبھی سویاں بازو پر سے نیچے چھلانگ مار دیتیں۔ آخر ایک دو بار والدہ کی سرزنش سننے کے بعد صرف ہتھی گھمانے ہی پر اکتفا کرلی۔

عید سے پہلے سویوں کا ایک بڑا سا تھال تیار ہوتا جس میں والدہ، حسبِ ضرورت عید والے دن علی الصبح ہمارے جاگنے سے پہلے سویاں تیار کرکے میز پر رکھ دیتیں۔ ناریل، کشمش،پستہ اور چھوہارے رات کو ہی کسی برتن میں ڈال کر رکھ دئے جاتے جو صبح ہونے تک شیر خرما بن جاتے۔ چاندی کے ورق بھی اس زمانے میں عام ملتے تھے۔ اِردگرد کے ہمسایوں اور رشتہ داروں کے لئے جو پلیٹیں تیار کی جاتیں ان کی مخروطی چوٹی پر چاندی کے ورق سجا کر ان پر روح کیوڑہ چھڑک دیا جاتاتو سارا گھر مہک اٹھتا! ہماری چونکہ ہمشیرہ کوئی نہیں تھی اس لئے محلے بھر میں تقسیمِ سویاں کا بار ہم پر ڈالا جاتا تھا۔ والد مرحوم کا حکم تھا کہ چونکہ نوکر چاکر بھی عید منانے کے حقدار ہیں اس لئے ان کو بھی عید اور ٹرو کی دو چھٹیاں دی جائیں۔اس لئے میں اور چھوٹا بھائی سارے محلے میں گھر گھر جاکر سویاں تقسیم کیا کرتے اور یہی حال دوسرے محلے داروں کا بھی تھا۔ ان کے لڑکے بالے ہماری طرح صبح سویرے عید نماز سے فارغ ہو کر اسی ڈرل کی تقلید کیاکرتے!

اس کے بعد رشتے داروں کا آنا جانا اور ان کو عید مبارک کہہ کر عیدی کا منتظر رہنا اور پھر شام تک بار بار جیب کو دیکھنا اور بار بار اپنے سرمایہ دار ہو جانے کی مسرت سے ہمکنار ہونا ایک ایسا سرور تھا جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کم ہوتا چلا گیا۔۔۔پھر ایک دن بازاروں میں بال سے باریک سویاں آگئیں جن کو کڑاہی میں ڈال کر گھی میں زیادہ بھوننے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔۔۔ سکوں کی جگہ نوٹ آگئے اور جیب کی جگہ چمڑے کے پرس آگئے۔۔۔ حلوائیوں کی دکانوں پر رش بڑھ گیا۔۔۔ جنریٹروں سے چلنے والے پنگھوڑے آگئے، موت کا کنواں آگیا اور اوپن ائر سینما بھی بڑے بڑے دیہاتوں اور قصبوں میں عام ہوگئے۔ ہم لوگوں کو جو عیدی ملتی تھی خواہ وہ کتنی ہی زیادہ ہوتی والدہ کی جھڑکیوں کے باوجود ’’بقول خادم اعلیٰ‘‘ہم ان کو ایک دھیلا بھی دینے کو تیار نہ ہوتے۔ آخر تین چار روز بعد جب پرس تقریباً خالی ہو جاتا تو دل کو جیسے بے وجہ قرار آجاتا۔ والدہ کی گھوریاں بھی ساتھ ہی عید کے چوتھے دن شروع ہوجاتیں اور اس طرح ہمارا اگلا سارا ہفتہ پچھتاوے میں گزرتا۔

تب سے لے کر اب تک زمانے نے کئی کروٹیں بدلی ہیں اور ماہِ رمضان اور عیدین کی خوشیوں اور تقریبوں کے چلن بھی بدل گئے ہیں۔

مجھے تسلیم ہے کہ وقت کسی ایک نقطے پر نہیں رکتا۔اس کی یہ پیش روی ایک فطری تبدیلی ہے جو ناگزیر ہے۔ جس ماضی کو میں یاد کررہا ہوں وہ بھی کسی ایک نقطے پر نہیں رکا۔ اس نے تبدیل ہونا ہی تھا۔ لیکن میں جو بات کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ آیا یہ تبدیلی خوبیکی طرف جانی چاہئے یاخامی کی طرف؟ باقی ملکوں کو دیکھتا ہوں تو ان کے معاشرے بھی تبدیل ہوتے ہیں۔ لیکن وہ اندھیرے سے روشنی اور روشنی سے چکا چوند کی طرف بڑھتے ہیں جبکہ ہم پاکستان میں اس تبدیلی اندھیاروں میں سانس لیتا دیکھ رہے ہیں۔

وہ خوشی کہاں ہے جو آج سے دو چار عشرے پہلے تھی؟۔۔۔ وہ خوشی جو روحانی مسرت کہی جاسکتی تھی وہ آج ترقئ معکوس کی طرف جارہی ہے۔ ہمارے معاشرے میں بچے، بچیاں، لڑکے، لڑکیاں اور جوان آج بھی موجود ہیں لیکن کیا ان کو ماضئ قریب کی طرح کی روحانی مسرت نہ سہی، کسی بھی قسم کی کوئی مسرت بھی ملی ہے یا وہ اس سے یکسر محروم ہو رہے ہیں؟آپ کہہ سکتے ہیں کہ مسرت تو آج بھی ہے لیکن اس کے اظہار کے طریقے بدل گئے ہیں۔ لیکن یہی طریقہ ہائے اظہار ہیں جن میں ہم دیکھتے ہیں کہ روحانی خوشی یا سرخوشی پہلے صرف خوشی میں تبدیل ہوتی ہے،پھر یہ خوشی، کھوکھلی خوشی میں بدل جاتی ہے اور پھر یہ کھوکھلی خوشی بھی کہیں نظر نہیں آتی۔چنانچہ آج کا بچہ یا جوان خوش تو ہوتا ہے،حقیقی خوشی سے سرشار نہیں ہوتا۔۔۔۔ اور میں اسی سرشاری کے فقدان اور قحط کو رو رہا ہوں!

یہ کوئی زیادہ دور اور دیر کی بات نہیں۔ 1985ء میں میری پوسٹنگ GHQ راولپنڈی میں ہوئی تو ان دنوں اس آرمی ہیڈ کوارٹر کے ہر دفتر میں ایک انگریزی اور ایک اردو اخبار آتا تھا۔ اردو اخباروں میں ’’جنگ‘‘ کثرت سے پڑھا جاتا۔ ارشاد حقانی مرحوم کا کالم ادارتی صفحے پر سب سے اوپر چھپتا تھا اور اس کے بائیں کونے پر رئیس امروہی مرحوم کا قطعہ شائع ہوا کرتا تھا۔ مجھے یاد ہے آج ہی کی طرح کسی ماہِ رمضان کی پہلی تاریخ تھی کہ رئیس امروہی کا یہ قطعہ شائع ہوا:

اللہ اللہ آمدِ ماہِ صیام

کھنچ کے اک مرکز پہ مومن آگئے

اہتمامِ عیش کی راتیں گئیں

احتسابِ نفس کے دن آگئے

رئیس نے معاشرے کی درست تصویر کھینچی تھی۔۔۔وہ ضیا الحق کا زمانہ تھا۔ ضیا کو ملٹری ڈکٹیٹر کہا جاسکتا ہے، غاصب کا خطاب دیا جاسکتا ہے، بھٹو کا قاتل قرار دیا جاسکتا ہے اور افغان جہاد کے پردے میں پاکستانی معاشرے کو ایک مسلسل عذاب میں گرفتار کرنے والا مطلق العنان حکمران کہا جاسکتا ہے۔لیکن ان کی بعض ’’فتوحات‘‘ ان کے گیارہ سالہ ’’دورِ آمریت‘‘ کے لینڈ مارک بھی تصور کی جاتی ہیں۔ مثلاً انہوں نے غلام اسحق خان کے ساتھ مل کر ریاستِ پاکستان کو جوہری اہلیت کا حامل بنایا، ان کے دور میں مہنگائی کا عفریت قابو میں رہا اور انہوں نے اسلامی معاشرے کے بنیادی خدوخال کو اپنے دور میں ایک حد تک دوام دینے میں کامیابی حاصل کی۔ ان کے دور میں جتنے بھی ماہِ رمضان آئے ان میں واقعی اہتمامِ عیش کی راتیں نہ ہونے کے برابر تھیں اور احتسابِ نفس کے دن واقعی نظر آتے تھے۔

ان کی وفات کے بعد جودور آیا، اس میں سماجی اور مذہبی اقدار بظاہر قدامت کے ’’اندھیروں‘‘ سے نکل کر جدت کے ’’اجالوں‘‘ میں نہانے لگیں۔لیکن سچی بات یہ ہے کہ ان کی حادثاتی وفات کے بعد گزشتہ 30برسوں میں معاشرے میں کیا کیا بگاڑہیں جو پیدا ہو کر فروغ یاب نہیں ہوئے؟

میں بھی اور آپ بھی ایک عرصے سے دیکھ رہے ہیں کہ آمدِ ماہِ صیام کے ساتھ آمدِ گراں فروشی بھی نازل ہو جاتی ہے۔ روز مرہ استعمال کی کونسی چیزیں ہیں جو مہنگی نہیں ہوتیں؟ کوئی پوچھنے والا نہیں۔ میڈیا اگر اس طرف دھیان دیتا ہے تو اس کا اپنا ریونیو گرنا شروع ہوجاتا ہے۔۔۔۔ بیسن، کھجوریں، دالیں اور گھی سمیت ہر چیز کے نرخ بڑھ جاتے ہیں۔ سرشام بازاروں میں کھوے سے کھوا چھلتا ہے۔ لوگ مہنگائی کو ’’حکم ربی‘‘ سمجھ کر برداشت کرتے ہیں۔ جمعہ بازاروں کے نام پر کئی اجناس کا پرانا اور کرم خوردہ سٹاک مارکیٹ میں لایا جاتا ہے۔ جوں جوں عید کا دن نزدیک آتا ہے، ملبوسات و پاپوش فروشوں کی چاندی ہونے لگتی ہے۔ درزیوں کے نخرے آسمان تک چلے جاتیہیں۔ درود و سلام کی محافل میں نعت خوانوں اور قاریوں کی ایک تازہ کھیپ مسجدوں کے آس پاس خیمہ زن رہتی ہے۔ ٹیلی ویژن سکرینوں پر قسم قسم کے شربت اس تواتر سے دکھائے جاتے ہیں کہ ان کو خریدنے والا ان کے بھاؤ نہیں پوچھتا وہ تو جب اگلے سال رمضان میں اس کوشوگر کا دورہ شروع ہوتا ہے تو آنکھ کھلتی ہے۔ مختلف ماڈلز پورے میک اپ کے ساتھ سکرینوں پر آکر نعت گوئی کرتی نظر آتی ہیں۔ زیادہ تر ماڈلز کا سر توڈھانپا ہوتا ہے لیکن پلکوں تک سارا سراپا جدید ترین سامانِ میک اپ اور زرق برق ملبوسات کی نمائش کاپیامبر ہوتا ہے۔ نعت و حمد کی خوش الحانی پیچھے رہ جاتی ہے اور خود نمائی کی اورنج ٹرین آگے نکل جاتی ہے۔ علمائے کرام ماہِ رمضان میں خصوصی مواغط اور مختلف چینل خصوصی پروگراموں میں ’’میڈ اِن چائنا‘‘ الیکٹرانک سازو سامان کے خم کے خم لنڈھاتے دیکھے جاتے ہیں۔

میں سوچتا ہوں کہ کیا یہی احترامِ رمضان ہے؟۔۔۔ کیا اسلام کی سادگی کے اسباق یہی محافل و مجالس ہیں؟۔۔۔ کیا جس طرح آج عرب ممالک(بالخصوص سعودی عرب) میں سارا مہینہ بازار اور مارکیٹیں بند ہوتیں اور سرکاری دفاتر میں چھٹیاں منائی جاتی ہیں وہی مقصودِ ماہِ صیام ہے؟۔۔۔ کیا اسلامی تعلیمات کی روح یہی ہے؟۔۔۔ کیا ہمارے بعض مذہبی سکالرز ٹی وی پر آکر ناظرین و سامعین کو یاد نہیں دلاتے رہتے کہ از روئے اسلام ماہِ رمضان میں روز و شب کے معمولات کیا ہونے چاہیں۔ لیکن کیا ان پر عمل بھی ہوتا ہے؟۔۔۔

آپ شائد مجھ سے اتفاق نہ کریں لیکن میرے ہم عمر پاکستانیوں کا ماہِ صیام آج کے ماہِ رمضان سے بہت بہترہوتاتھا۔خیال کرتا ہوں کہ ہمارا مستقبل میرے آج سے بھی زیادہ افسوسناک ہوگا۔ آنے والے دور کے بوڑھے، ہمارے آج کے عہد کو یاد کرکے ہماری تعریفوں کے پل باندھا کریں گے اور نہائت حسرت سے 2018ء کے اس ماہِ رمضان کو یاد کیا کریں گے!

مزید : رائے /کالم


loading...