متنازعہ بیان۔۔۔ وزیر اعظم قومی کمیشن بنادیں

متنازعہ بیان۔۔۔ وزیر اعظم قومی کمیشن بنادیں

  



وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے جس شخص نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا اور ہر طرح کے دباؤ کو برداشت کیا اس پر الزام لگانا درست نہیں غداری کی باتیں ہورہی ہیں، یہ الزام قبول نہیں نواز شریف کو حُب الوطنی کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں پارلیمنٹ چاہے تو کمیشن بنائے وثوق سے کہتا ہوں جن اپوزیشن ارکان نے تقریریں کیں ان میں سے کسی نے بھی وہ اخباری رپورٹ نہیں پڑھی اگر پڑھی ہوتی تو وہ غداری کی باتیں نہ کرتے قومی سلامتی کے معاملات کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال نہ کیا جائے اور بھارت کا آلۂ کار نہ بنا جائے وزیر اعظم عباسی نے کہا کہ غلط رپورٹنگ سے شروع ہونے والا نواز شریف کے بیان کا معاملہ اب ختم ہونا چاہئے بدقسمتی سے بھارتی میڈیا نے اپنے مقاصد کے لئے جس معاملے کو اُٹھایا اسے ہم آج لے کر چل پڑے ہیں، ممبئی حملے کے معاملے پر صرف نواز شریف نے بات نہیں کی بلکہ (سابق صدرو آرمی چیف) جنرل پرویز مشرف، سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل پاشا، جنرل درانی عمران خان اور رحمن ملک نے بھی باتیں کی ہیں، وزیر اعظم عباسی نے کہا ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم بھارتی میڈیا کی تشریح لے کر چل رہے ہیں، وزیر اعظم نے کہا کہ 12مئی کو نواز شریف کے انٹرویو پر مبنی خبر شائع ہوئی ہفتے کو مقامی کسی اخبار میں یہ معاملہ نہیں تھا۔ کیا ہم اپنے آپ کو بھارتی مقاصد کے لئے استعمال ہونے دینا چاہتے ہیں، وزیر اعظم عباسی قومی اسمبلی میں حزبِ اختلاف کے ارکان کی تقریروں کا جواب دے رہے تھے جو ان ارکان نے نواز شریف کے حالیہ متنازعہ انٹرویو کے حوالے سے کیں۔اپوزیشن نے وزیر اعظم کا بیان مسترد کر دیا اور غدار غدار کے نعرے لگائے۔

نواز شریف نے کیا کہا، کس سیاق و سباق اور پس منظر میں کہا، اس سے پہلے کون کون سے ذمہ دار حضرات اس موضوع پر کیسی کیسی گوہر افشانی کرچکے اور ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا وہ اپنا موقف دہراتے رہتے ہیں یہ سب حضرات جو کچھ کہتے رہے یا اب بھی کہہ رہے ہیں نواز شریف کا حالیہ انٹرویو اُن کے فرمودات سے کس حد تک مطابقت رکھتا ہے اور کتنا مختلف ہے یہ سب کچھ موازنہ کرنے سے ہی معلوم ہوگا کہ جس کسی نے جو کچھ کہا اس سے اس کی کیا مراد تھی اور اس کا کیا سیاق و سباق تھا، نواز شریف نے جو کہا وہ بھی اب اس کی تشریح اپنے نقطہ نظر کے مطابق کررہے ہیں اور وزیر اعظم سمیت اُن کے حامی بھی وضاحت کا حق استعمال کررہے ہیں، دوسری جانب مخالفین ہیں جنہوں نے بلند آہنگی سے غدار، غدار کا شوربرپاکررکھا ہے، اس کا ایک حل تو خود نواز شریف نے یہ کہہ کر پیش کردیا تھا کہ کمیشن بنالیں جو یہ فیصلہ کرے کہ محب وطن کون ہے اور غدار کون؟ اور جو غدار ثابت ہو جائے اسے برسر عام پھانسی پرلٹکادیا جائے۔

اب وزیر اعظم نے بھی قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کمیشن بنانے کی تجویز پیش کردی ہے تو اس پر ٹھنڈے دل سے غور کرنے میں کیا مضائقہ ہے؟ شور شرابے، گالم گلوچ، سپیکر کے گھیراؤ اور وزیر اعظم کی تقریر میں بار بار مداخلت کرنے کی کوششوں سے معاملے کو گڈ مڈ کرنے سے یہ بہتر نہیں کہ قومی کمیشن بنالیا جائے جہاں تمام لوگ اپنا کیس پیش کردیں، ’’غدار نواز شریف‘‘ بھی آجائے اور حب الوطنی پر اجارہ داری کے دعویدار بھی اپنے نامۂ اعمال کے ساتھ وہاں پیش ہوجائیں اور کمیشن فیصلہ کردے کہ غداری کا ارتکاب کس نے کیا ہے اور حب الوطنی کے تقاضے کس نے پورے کئے ہیں، ہماری مروج سیاست کا چلن تویہ ہے کہ ہم نے غداری کے سرٹیفکیٹ ہمیشہ بڑی فراخ دلی سے بانٹے ہیں، نواز شریف کو تو خیر یہ سرٹیفکیٹ دینے میں کچھ تاخیر کردی گئی قیام پاکستان کے تھوڑے عرصے بعد ہی ہم نے یہ فیکٹری لگالی تھی جواب تک ڈبل شفٹ میں کام کررہی ہے اور غداری کے سرٹیفکیٹ چھاپ چھاپ کر بانٹے چلی جارہی ہے، ان کالموں میں گنجائش نہیں کہ ہم ماضی میں غدار قرار دئے جانے والوں کی ’’غداریاں‘‘ گنوائیں یا اُن کے نام لیں، لیکن جو حضرات تاریخ سے باخبر ہیں وہ سب جانتے ہیں اور اگر نہیں جانتے تو انہیں تاریخ سیاست پاکستان کی مستند کتابوں کا مطالعہ کرکے یہ جاننے کی کوشش کرنی چاہے۔

فی الحال تو معاملہ نواز شریف کا زیر بحث ہے، جنہوں نے ایک متنازعہ بات کہہ دی جس پر بھارت کے میڈیا کو تو طوفان اٹھانا ہی چاہئے تھا لیکن پاکستان کے اندر جس طرح بھارتی لائن یکایک پاپولر ہوگئی اس پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے، اب اگر یہ معاملہ سامنے آہی گیا ہے تو پھر کیا یہ ضروری نہیں ہے کہ یہ فیصلہ ہوہی جائے، خود ’’غدار‘‘ اپنے آپ کو سرعام پھانسی پر لٹکوانے کے لئے بھی تیار ہے اس لئے کیا حرج ہے قومی کمیشن بناکر یہ معاملہ نبیڑ ہی دیا جائے نواز شریف کو ’’غدار‘‘ کہنے سے پہلے ’’مودی کا یار‘‘ کہنے کا بھی فیشن ہے، خاص طور پر جب آزاد کشمیر کے الیکشن ہورہے تھے تو انتخابی مہم میں یہ بات بار بار کہی گئی کہ آزاد کشمیر کے عوام ’’مودی کے یار‘‘ کو مسترد کردیں گے لیکن کشمیر کے عوام اتنی سیاسی بصیرت رکھتے تھے کہ انہوں نے نواز شریف کی بجائے ان لوگوں کا بوریا بستر کشمیر سے گول کردیا جو ان کے خلاف یہ منفی پروپیگنڈہ کررہے تھے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر ہی بنیادی تنازعہ ہے یہ کسی خطۂ زمین کا مسئلہ نہیں ڈیڑھ کروڑ کشمیریوں کی آزادی کا مسئلہ ہے اور تقریباً آدھے کشمیریوں نے نواز شریف کی جماعت کو کشمیر کا اقتدار دے کر ثابت کردیا کہ وہ نواز شریف کو ایسا نہیں سمجھتے جیسا اُن کے سیاسی مخالفین کا خیال ہے۔

نواز شریف کے متعلق یہ پروپیگنڈہ بھی مسلسل کیا جاتا ہے کہ اُن کا بھارت میں کاروبار ہے اور ابھی زیادہ دن نہیں گزرے نیب نے ایک پریس ریلیز جاری کرکے یہ اعلان کیا کہ وہ نواز شریف کی جانب سے 4.90ارب ڈالر بھارت بھیجنے کے معاملے کی چھان بین کررہا ہے، چیئرمین نیب کا اصرار ہے کہ انہیں احتساب کا حق حاصل ہے اور کوئی اُن کے اس حق کو چیلنج نہیں کرسکتا، وہ بالکل درست کہتے ہیں انہیں لگے ہاتھوں یہ بھی معلوم کرلینا چاہئے کہ نواز شریف یا اُن کے خاندان کا بھارت میں کیا کاروبار ہے، کیا انہوں نے وہاں کسی قسم کے کارخانے لگا رکھے ہیں یا وہ تجارت کررہے ہیں فی الحال ہم یہ سوال نہیں اٹھاتے کہ جو لوگ بھارت کے ساتھ تجارت کررہے ہیں کیا وہ سب غدار ہیں؟ اور اگر ایسا ہے تو یہ تجارت بند کیوں نہیں کردی جاتی، لیکن اتنا تو معلوم ہونا چاہئے کہ بھارت میں اگر نواز شریف کا کوئی کاروبار ہے تو اس کی نوعیت کیا ہے اور اگر اس کاروبار کی بنیاد پر ہی انہیں ’’مودی کا یار‘‘ کہا جارہا ہے تو پھر ان دوسرے لوگوں کے بارے میں کیا خیال ہے جو بھارت میں سیمنٹ وغیرہ کے کارخانے لگا رہے ہیں یا تجارت کررہے ہیں اور یہ جو آزادکشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے درمیان ’’آر پار تجارت‘‘ ہورہی ہے اور اس راستے سے آنے والا بیشترمال لاہور یا دوسرے شہروں میں بک رہا ہے وہ کس ذیل میں آتا ہے۔یہ غداری ہے یا حب الوطنی ؟

بہتر ہو گا کہ وزیر اعظم نے قومی کمیشن بنانے کی جو تجویز پیش کی ہے وہ خود ہی اس کو عملی جامہ پہنادیں، کمیشن کے ٹرمز آف ریفرنس(ٹی او آر) پارلیمنٹ بنائے اور نواز شریف سمیت وہ سارے لوگ اپنے بیانات اور نامہ اعمال کے ساتھ اس کمیشن میں پیش ہو جائیں جو ماضی میں اس موضوع پر اظہار خیال کرتے رہے وہ صدر تھے یا فوجی افسر، سیاستدان تھے یا رکن پارلیمنٹ، جو کوئی بھی تھے اس کمیشن کا دائرہ کار اس موضوع پر اظہارِ خیال کرنے والے تمام ارکان تک وسیع ہونا چاہے، ویسے تو سکھوں کا معاملہ بھی اس کمیشن میں زیر بحث لایا جائے تو شاید کئی چھپے رستم بھی بے نقاب ہو جائیں پھر کمیشن جو بھی فیصلہ کرے اسے خفیہ نہ رکھا جائے اس کا اعلان بھی کردیا جائے، میڈیا ٹرائل تحقیقات کا متبادل نہیں ہوسکتا، یہ بھی بعید نہیں جو لوگ نواز شریف کو ’’ مودی کا یار‘‘ کہتے ہیں تحقیقات کے نتیجے میں ان کا کوئی لیڈر یا ماما چاچا اندرا گاندھی، راجیو گاندھی یا واجپائی کا یار نکل آئے۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...