یوٹیلٹی سٹورز سے سستی اور معیاری اشیاء کی فراہمی

یوٹیلٹی سٹورز سے سستی اور معیاری اشیاء کی فراہمی

  



وفاقی حکومت کی طرف سے رمضان المبارک کے دوران ایک ہزار اشیائے ضروریہ سستے داموں مہیا کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، مجموعی طور پر کھانے پینے کی اشیاء پر پونے دو ارب روپے سبسڈی دی جائے گی، وفاقی وزیر مملکت برائے صنعت و پیداوار سردار ارشد خان لغاری نے نیوز کانفرنس میں بتایا ہے کہ تمام اشیاء کی قیمتوں میں دس فیصد تک کمی کی گئی ہے، یہ سبسڈی دستیاب وسائل کے مطابق دی جا رہی ہے،انہوں نے بتایا ہے کہ آٹا، دالیں، چینی، مصالحہ جات، گھی اور دیگر اشیاء پر خصوصی رعائت دی گئی ہے اشیائے ضروریہ کے معیار کے بارے میں کوئی شکایت نہیں ہوگی، وزیر مملکت نے کہا کہ پندرہ رمضان المبارک کے بعد قیمتوں کا از سر نو جائزہ لیا جائے گا، صارفین کی ڈیمانڈ کے مطابق اشیائے ضرورت فراہم کرنے کو ترجیح دی جائیگی، یوٹیلٹی سٹورز کے ذریعے بارعائت اور سستی اشیاء کی فراہمی رمضان المبارک کے موقع پر ہر سال ہوتی ہے، بنیادی مقصد عوام کو عام مارکیٹ سے سستے داموں اشیاء کی فراہمی ہوتا ہے، اس موقع پر گزشتہ برسوں کی ڈیمانڈ اور برآمد ہوے والے نتائج کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اشیاء ضرورت کا ذخیرہ کیا جاتا ہے، قیمتوں میں رعائت کی وجہ سے یوٹیلٹی سٹورز پر بہت زیادہ رش رہتا ہے، صارفین قطاروں میں لگ کر راشن حاصل کرتے ہیں، عموماً یہ شکایت سامنے آتی ہے کہ آٹا، چینی، گھی اور بعض دیگر اشیاء کی بہت جلد قلت ہوجاتی ہے، اشیاء کے معیار پر بھی اعتراضات کئے جاتے ہیں، صارفین اس رائے کا اظہار کرتے ہیں کہ یوٹیلٹی سٹورز سے خریداری کا فائدہ نہیں ہوتا کیونکہ قطاروں میں کھڑے ہوکر طویل انتظار کے بعد جو اشیاء ملتی ہیں، وہ معیاری نہیں ہوتیں، وزیر مملکت ارشد خان لغاری نے یقین تو دلایا ہے کہ معیاری اشیاء فروخت ہوں گی، خدا کرے کہ ایسا ہی ہو اور صارفین معیار اور قلت کی شکایت نہ کریں، ایسا ہُوا تو تب ہی حکومت کی طرف سے پونے دو ارب روپے کی سبسڈی دینے کا فائدہ ہوگا۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...