مستحق افراد کی تفصیلات پرمبنی قومی سماجی اقتصادی رجسٹری بنانے کا فیصلہ

مستحق افراد کی تفصیلات پرمبنی قومی سماجی اقتصادی رجسٹری بنانے کا فیصلہ

لاہور(رپورٹ: یونس باٹھ) رمضان المبارک شروع ہو تے ہی پاکستان میں غریب خاندان، نابینا، اپاہج اور معذور افراد جنہیں براہ راست سرکاری سرپرستی درکار ہے کی مکمل تفصیلات پر مشتمل قومی سماجی اقتصادی رجسٹری بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔پروگرام کے اہل خاندانوں کی مانیٹرنگ کے لئے بائیو میٹرک نظام بھی بنایا جا رہا ہے تا کہ معاشرے کے ان محروم افراد کی فلا ح کے لئے وفاقی اور صوبائی سطح پر جامع پالیسی اور عملدر آمد پلان تیار کر کے اس پر مشترکہ طور پر عمل درآمد کیا جا سکے اور ان افراد کو سرکاری سرپرستی کے ذریعے غربت اور معذوری جیسے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے قابل بنایا جا سکے، اس امر کا فیصلہ بنائے گئے نئے پاورٹی سکورکارڈ کی بنیاد پر اب تک بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے فائدہ حاصل کرنے والے افراد کی اہلیت کے تجزیہ کے نتیجہ میں سامنے آیا ہے۔ اب تک جانچ کے بعد 7 لاکھ 70 ہزار یعنی 29 فیصد اہل قرار پائے ہیں، نئے سکور کارڈ میں عمر، تعلیمی قابلیت، ہنر، روزگار، گھر کی ملکیت یا عدم ملکیت، ہر قسم کی معذوری، رہائشی سہولیات، منقولہ وغیرہ منقولہ اثاثہ جات کی تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں۔ اس وقت ملک میں 40 لاکھ 50 ہزار خاندانوں کو سہ ماہی بنیادوں پر 47000 روپے امداد دی جا رہی تھی، جو جون 2018 ء تک 53 لاکھ خاندانوں تک پہنچ جائے گی، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت 5 سے 15 سال تک کی عمر کے ایسے غریب بچوں کو جو تعلیمی اخراجات برداشت نہیں کر سکتے، 600 روپے سہ ماہی تعلیمی امداد فراہم کی جارہی ہے، ان کی تعداد 13 لاکھ تک بڑھائی جا رہی ہے، پروگرام کو مزید نئے شعبوں میں توسیع دینے کے لئے جامع منصوبہ بندی کی جا رہی ہے تا کہ کم و بیش 30 لاکھ نئے خاندانوں کو پروگرام کے تحت امداد جاری کی جا سکے، پروگرام کے اہل خاندانوں کی مانیٹرنگ کے لئے بائیو میٹرک نظام بھی بنایا جا رہا ہے، ملک گیر سروے دسمبر 2018 میں مکمل کر لیا جائے گا۔

مزید : صفحہ آخر