پرہیز کے ذریعے بلڈ پریشر کے خطرات سے بچا جا سکتا ہے،غیاث النبی

پرہیز کے ذریعے بلڈ پریشر کے خطرات سے بچا جا سکتا ہے،غیاث النبی

  



لاہور(جنرل رپورٹر)عالمی یوم بلڈ پریشر کے حوالے سے لاہور جنرل ہسپتال شعبہ نیفرالوجی میں منعقد ہ سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پروفیسر غیاث النبی طیب نے کہا ہے کہ متوازن زندگی اور ضروری پرہیز کے ذریعے بلڈ پریشر کے خطرات سے بچا جا سکتا ہے ،انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں بلڈ پریشر کا مرض تیزی سے بڑھ رہا ہے اور پہلے یہ بیماری پختہ عمر میں داخل ہونے یا بڑھاپے میں لاحق ہوتی تھی لیکن اب کم عمر کے لوگ بھی خلفشار خون میں مبتلا ہو رہے ہیں اور ایک محتاط اندازے کے مطابق 40سال کی عمر کے لوگوں میں بلڈ پریشر کا مرض 40فیصد لوگوں کو لاحق ہے ،پروفیسر غیاث النبی طیب نے کہا کہ ہائی بلڈ پریشر انسانی جسم میں نقب لگاتا ہے اور مریض کو اس مرض کے حملے کا احساس ہی نہیں ہوتاالبتہ بعض حالتوں میں اندازہ ضرور لگایا جا سکتا ہے مثلاً مریض کا رویہ اور چال ڈھال غیر متوازن ہو یا پاؤں لڑ کھڑانے لگیں۔پرنسپل پی جی ایم آئی نے شہریوں سے کہا کہ وہ بلڈ پریشر کی علامات کی شکل میں اسے سنجیدگی سے لیں اور فوراً اپنے معالج یا ہسپتال سے رابطہ کریں ،سمپوزیم سے دیگر طبی ماہرین پروفیسر طاہر شفیع،پروفیسر بلال محی الدین، ڈاکٹر اورنگزیب،پروفیسر حافظ اعجاز ، پروفیسر اعزاز مند ، پروفیسرنعما ن تعریف، پروفیسر محمد وقار اور پروفیسر خالد مسعود گوندل و دیگر نے بھی خطاب کیا طبی ماہرین نے کہا کہ بلڈ پریشر پر قابو نہ پانے سے فالج اور جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے

جنرل ہسپتال

مزید : میٹروپولیٹن 1