عام انتخابات شفاف نہ ہوئے تو 4کی بجائے 40حلقے کھولنا پڑیں گے: سردار ایاز صادق

عام انتخابات شفاف نہ ہوئے تو 4کی بجائے 40حلقے کھولنا پڑیں گے: سردار ایاز صادق

  



اسلام آباد(آئی این پی)اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا ہے کہ کھینچا تانی اورسیاست دانوں کو مینج کرنے کے نتائج اچھے برآمد نہیں ہونگے، ماضی میں سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کرنے کے تمام تجربات ناکام ہوچکے ہیں، جمہوری عمل کے تسلسل سے سیاسی نظام بہتر ہوگا، بطور اسپیکربیوروکریسی کے رویے کے باعث قومی اسمبلی سے احتجاجاً واک آؤٹ کیا، آئندہ انتخابات منصفانہ نہ ہوئے تو 4کی بجائے 40حلقے کھولنا ہوں گے ۔گزشتہ 5سالوں کے دوران نمایاں قانون سازی کے علاوہ کئی اہم سنگ میل عبور کیے ہیں، قومی اسمبلی کی تاریخ میں پہلی بار سات قوانین مشترکہ اجلاس میں منظور کیے جن میں چار پرائیویٹ ممبر بل شامل ہیں، بطور اسپیکر قومی اسمبلی ہر بین الاقوامی فورم پر مسئلہ کشمیر بھرپور طور پر اجاگر کیا۔ بدھ کو ان خیالات کا اظہار اسپیکرقومی اسمبلی نے پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے دی گئی الودعی تقریب سے خطاب سے کرتے ہوئے کیا۔

، انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے جب تک پارلیمانی نظام کی جڑیں مضبوط نہیں ہونگی تب تک یہ بہترین طریقے سے نہیں چل سکے گا۔

پرویز مشرف کے دور میں جنرل احتشام ضمیر نے 2002میں ہونے والے انتخابات کے نتائج تیار کیے اور بعد ازاں انہوں نے تسلیم کیا کہ سیاست دانوں کو مینج کرنے کا تجربہ اچھا نہیں رہا۔ سیاست دانوں سے وفاداریاں تبدیل کروانے کے تمام تجربات ماضی میں بری طرح ناکام ہوئے اورآئندہ بھی ہوں گے۔انہوں نے کہا وہ اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) سمیت دیگر سیاسی جماعتوں میں مختلف آراء کا احترام نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ رضا ربانی کے معاملے میں پیپلز پارٹی کے اندرون خانہ تفصیلی مشاورت کی جس کے بعد کوئی فیصلہ سامنے آیا۔ پارٹی کے قائدین ارکان کی جانب سے پیش کیئے جانے والے خیالات کا احترام بھی کرتے اور انہیں سنتے بھی ہیں۔ بھارت میں ابھی تک گاندھی خاندان سیاسی نظام کا بھرپور حصہ ہے ۔ بنگلہ دیش میں بھی پرانے سیاست دان حکومت کررہے ہیں۔ امریکہ میں بھی بڑا بش اور چھوٹا بش حکمرانی کرچکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ میں پوچھے جانے والے سوالات کا جواب دینا وزراء کی اجتماعی ذمہ داری ہوتی ہے۔ انہوں نے بیوروکریسی کے رویے کے باعث بطور سپیکر احتجاج کیا اور واک آؤٹ بھی کیا۔ اگر بیوروکریسی پارلیمنٹ کو عزت نہیں دے رہی تو عام آدمی کی بات کس طرح سنتے ہونگے۔ ہم نے عدلیہ کو کبھی نہیں کہا کہ آپ کے پاس لاکھوں مقدمات زیر التواء ہیں آپ ان مقدمات کا فیصلہ کریں ۔خلائی مخلوق کی شکل تک انہیں اندازہ نہیں یہ پارلیمنٹ خلائی مخلوق کا بھی ہے خلائی مخلوق بھی اس پارلیمنٹ کی حصہ دار ہے۔صحافی کے مسائل حل کرنے پر توجہ دی ، دعا ہے کہ صحافیوں کو پیشہ وارانہ فرائض سرانجام دینے کے دوران جو مسائل درپیش ہوتے ہیں وہ بھی جلد حل ہوں۔

مزید : علاقائی


loading...