لاوارث بچوں کے تحفظ کیلئے تجاویز مرتب کر لی ہیں، میاں ظفر اقبال

لاوارث بچوں کے تحفظ کیلئے تجاویز مرتب کر لی ہیں، میاں ظفر اقبال

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی) لاہور ہائیکورٹ کی مصالحتی عدالتی نظام کے لئے کمیٹی کے رکن میاں ظفر اقبال ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ بچوں کو گود لینے کا قانون ہی موجود نہیں،لاوارث بچوں کے تحفظ،تعلیم وتربیت اور پرورش کو یقینی بنانے کے علاوہ ،بچوں کی سرپرستی کے قوانین کو موثر بنانے کے لئے تجاویز مرتب کر لی گئی ہیں۔انہوں نے لاہور میں نابالغ بچوں سے متعلق قوانین سے متعلقہ سیمینار سے خطاب کے دوران کہا کہ بدقسمتی سے بچوں کو گود لینے کا قانون سرے سے موجود ہی نہیں،قانون کی عدم موجودگی کی وجہ سے والدین کی شفقت سے محروم ہونے والے بچے محرومی اور بے بسی کی زندگی گزارتے ہیں،انہوں نے کہا کہ گارڈین عدالتوں کو چلڈرن کمپلیکس میں منتقل نہ کیا گیا تو والدین کی لڑائی کے شکار بچے نفسیاتی امراض کا شکار ہو کرمستقبل میں ذمہ دار شہری بننے کے اہل نہیں رہیں گے،انہوں نے کہا کہ لاوارث بچوں کے تحفظ کے لئے قوانین میں مزید بہتری لانے ،بچوں کو گود لینے ،بچوں کی ملاقات کے لئے بہتر ماحول کی فراہمی اور گارڈین اینڈ ایوارڈ ایکٹ میں مناسب اور موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق ترامیم کے لئے تجاویز مرتب کر لی گئی ہیں،تقریب سے حنا جیلانی،چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے افسران،ایس او ایس ویلج اور ایدھی ہومز کے نمائندوں نے بھی خطاب کیا،انہوں نے کہا کہ میاں بیوی کے درمیان ہونے والی لڑائیاں بچوں کامستقبل تاریک کر رہی ہیں،علیحدگی کے شکار میاں بیوی کواپنے بچوں سے دو گھنٹوں کی ملاقات کی بجائے مناسب ماحول میں ملاقات کی اجازت ملنی چاہیے ۔

ظفر اقبال

مزید : علاقائی


loading...