قومی اسمبلی، لوڈ شیڈنگ پر حکومت اور اپوزیشن میں نوک جھونک، بجٹ کے 34مطالبات زر منظور

قومی اسمبلی، لوڈ شیڈنگ پر حکومت اور اپوزیشن میں نوک جھونک، بجٹ کے 34مطالبات ...

  



اسلام آباد(نیوز ایجنسیاں ) قومی اسمبلی میں اجلاس کے دوران لوڈشیڈنگ کے باعث حکومتی اور اپوزیشن ارکان میں نوک جھونک اور دلچسپ جملوں کا تبادلہ، شور شرابے میں وفاقی بجٹ کے 34مطالبات زر کی منظوری ، فا ٹاکوخیبر پختونخوا میں ضم نہیں کیا جا رہا ، 2018 میں صوبائی اسمبلی کے الیکشن فاٹا میں نہیں ہوں گے،وفاقی وزیر سیفران،پاکستان کے چین کے ساتھ تاریخی تعلقات میں معاشی گہرائی آئی ہے،وزیر خارجہ ۔تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران لوڈشیڈنگ کے باعث حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے مابین دلچسپ جملوں کا تبادلہ جاری رہا ۔ بدھ کے روز تربیلا اور گدو پاور پلانٹ میں فنی خرابی کے باعث جہاں ملک کے بیشتر حصوں میں لوڈشیڈنگ کی صورتحال درپیش رہی وہیں پارلیمنٹ کو بھی لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑا ۔ ظفر اللہ جمالی نوازشریف کے ممبئی حملوں کے بارے میں بیانات سے متعلق دھواں دھار تقریر کر رہے تھے کہ اچانک بجلی چلی گئی،اپوزیشن ارکان بجلی دو بجلی دو کے نعرے لگاتے رہے اور ڈائس بجاتے رہے ۔ علاوہ ازیں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کے 34مطالبات زر کی منظوری دے دی گئی ہے،مطالبات زر وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پیش کئے،مطالبات زر پر کٹوتی کیلئے ایم کیوایم نے تحریک پیش کی جس کو متفقہ طور پر مسترد کردیاگیا جبکہ پیپلزپارٹی،پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کی طرف سے تحاریک واپس لے لی گئیں اور ایوان سے واک آؤٹ کیاگیا۔جن مطالبات زر کی منظوری دی گئی ہے ان میں شعبہ خزانہ،دفاع،توانائی،ہائرایجوکیشن کمیشن،خارجہ امور،نیشنل سیکورٹی،وزیراعظم آفس،فیڈرل سروس کمیشن،سی ڈی اے اور ہوابازی وغیرہ شامل ہیں۔ قومی اسمبلی میں حکومت کی جانب سے وفاقی وزیر سیفران لیفٹیننٹ(ر) عبدالقادر بلوچ نے واضح کیا ہے کہ فاٹاکوخیبر پختونخوا میں ضم نہیں کیا جا رہا ،فاٹا اصلاحات سے متعلق بل صرف صوبائی اسمبلی کی نشستوں کو مختص کرنے کے حوالے سے ہے بل کا اطلاق انضمام کے بعد ہو گا، 2018میں صوبائی اسمبلی کے الیکشن فاٹا میں نہیں ہوں گے،فاٹا کا انضمام اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک وہاں انفراسٹرکچر نہیں بنے گا۔

،ٖفاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام کا اختیار آئندہ آنے والے اسمبلی کے پاس ہوگا۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آخری وقت میں ایسے خطرناک قسم کے بل لانا ملک میں اضطراب کا سبب بن رہے ہیں۔ تمام مکاتب فکر کے لوگ آئین پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں تو پھر کیوں ہر کام میں جلدی کی جا رہی ہے۔ عذرا فضل نے کہا کہ وعدہ شکنی نہیں ہونی چاہیے، آج تک فاٹا کے لوگوں کو اختیار نہیں کہ اپنا قانون بنا سکیں، فاٹا کو انصاف ملنا چاہیے۔ علی محمد خان نے کہا کہ ٹا کی عوام کی دلی خواہش ہے کہ انضمام ہو اور جس پیکج کا وعدہ کیا ہے وہ انہیں دیا جائے۔ خرم دستگیر نے کہا ہے کہ پاکستان کے چین کے ساتھ تاریخی تعلقات میں معاشی گہرائی آئی ہے،، ہم نے اپنی خارجہ پالیسی کی علاقائی نو پیمانہ بندی کی ہے،، وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ بھی تعلقات کو بہتر بنایا گیا ہے، مسئلہ کشمیر کو ہر سفارتی سطح پر اس مسئلے کو اٹھایا ہے ، پاکستان کے یورپی یونین اور روس کے ساتھ تعلقات بہتر ہوئے ہیں۔

قومی اسمبلی

مزید : علاقائی


loading...