خیبرپختونخوا کیساتھ انضمامکیلئے قبائلی علاقوں میں ریفرنڈم کرایا جائے :فضل الرحمن

خیبرپختونخوا کیساتھ انضمامکیلئے قبائلی علاقوں میں ریفرنڈم کرایا جائے :فضل ...

  



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈسیک)جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہاہے کہ فاٹا کے حوالے سے ابھی کوئی فیصلہ نہ کرنے کی بات ہوئی تھی لیکن حکومت فاٹا اصلاحات سے متعلق طے شدہ باتوں سے منحرف ہو رہی ہے،فاٹا کے معاملے پر قبائلیوں کی رائے لی جائے کیونکہ فاٹا کے عوام کی مرضی کے خلاف کوئی فیصلہ قابل قبول نہیں ہو گا، اختلاف رائے کے باوجود حکومت کی حمایت اور مدد کی،معاملات حل ہونے کے بعد دوبارہ اٹھ رہے ہیں، حکومت سوچے وہ ملک اور ہمارے ساتھ کیا کررہی ہے، ہمیں دیوار کے ساتھ لگایا جارہا ہے، کب تک ہماری برداشت کا امتحان لیا جائے گا لہٰذاکردار کشی کو کسی صورت تسلیم نہیں کریں گے، ایٹم بم ہمارا ہے لیکن اسے استعمال کرنے کا حق چھینا جا رہا ہے کیونکہ اس وقت آئی ایم ایف، عالمی بینک اور عالمی ادارے پاکستان پر دباؤ ڈال رہے ہیں، ایٹم بم ہمارا ہے لیکن اسے استعمال کرنے کا حق چھینا جا رہا ہے، ہم جنس پرستی کو قانونی قرار دینے کیلئے پاکستان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے، فوجی آپریشنز کا عمل بھی عالمی دباؤ کا نتیجہ ہے۔قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ملکی حالات ایسے نہیں کہ فاٹا کی آئینی حیثیت کو چھیڑا جائے کیونکہ فاٹا کا معاملہ وزارت سیفران میں آتا ہے لیکن فاٹا سے متعلق بل کسی دوسری قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا ہے لہٰذاہم فاٹا کا بل قائمہ کمیٹی برائے قانون وانصاف کو بھیجنے پر احتجاج کرتے ہیں۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ کشمیر کے معاملے پر حق رائے دہی کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو قبائلیوں کو حق رائے دہی کیوں نہیں دیا جاتا، فاٹا کے معاملے میں جلدبازی اور کشمیر پر سستی ہے، ۔ خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام کے حوالے سے قبائلی علاقوں میں ریفرنڈم کرایا جائے اور جو نتیجہ آئے اس پر عمل کیا جائے۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اقوام متحدہ کے نمائندے نے مجھے بتایا کہ فاٹا اصلاحات ان کا ایجنڈا ہے، کیا قانون سازی امریکہ اور بیرونی دباؤ پر کی جائے گی؟۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ الیکشن اور اقتدار کی بجائے ملک کو بچانا اہم ہے، تمام مکاتب فکر کے علما ء پاکستان کے آئین اور جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں۔

مولانا فضل الرحمن

مزید : صفحہ اول


loading...