کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے

کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے
کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے

  

نواز شریف غدارہے تو یہ الزام لگانے والے مکار ہیں۔ کچھ ہوشیار بن کر پیچھے بیٹھے ہیں اور چاند ماری کر رہے ہیں جبکہ میڈیا بچہ جمورا بنا ہوا ہے ، خاص طور پر الیکٹرانک میڈیاتو دم چھلا بنا ہوا ہے اور الیکٹرانک میڈیا کے ایک حصے میں بیٹھے اینکر پرسن تو سانس بھی اپنی مرضی سے نہیں لیتے نظر آرہے ۔ روپے پیسے کی بھوک نے انہیں اینکر پرسن نہیں بلکہ پنک پینتھر بنادیا ہے، وہ بھی امپائر کی انگلی پر روزانہ شام کو مجمع لگاتے ہیں اور اشاروں کی زبان میں گفتگو کرتے ہیں۔

نواز شریف نے جو کہنا تھا ، کہہ دیا۔ ان کاکہنا ہے ابھی وہ مزید کہیں گے، سوال یہ ہورہا ہے کہ اس سے نواز شریف کو کیا حاصل ہوگا، کیا اگلے عام انتخابات میں وہ خلائی مخلوق کے کردار کو محدود کرپائیں گے، کیا وہ بروقت الیکشن یقینی بنا سکیں گے، کیا نیوٹرل ووٹ ان کی سپورٹ کرے گا یا پھر وہ دوسری جانب چلا جائے گا۔

کچھ عرصہ قبل تک اینکر پرسنوں کا مخصوص ٹولہ نون لیگ والوں کو چھیڑا کرتا تھا کہ بتائیں امپائر سے ان کی مراد کیا ہے ، بتائیں کہ پانامہ کا فیصلہ کس نے لکھ کر دیا ،بتائیں کہ اگر ان کیخلاف سازش ہوئی ہے تو اس سازش کے پیچھے کون ہے۔ بتائیں کہ اگر ختم نبوت کی بنیاد پر ان پر جوتیاں اور گولیاں برسائی جارہی ہیں اور فیض آباد دھرنے میں انہیں ناکوں چنے چبوائے جارہے ہیں تو اس کے پیچھے کون ہے ؟ اب نواز شریف نے بتانے کا عمل شروع کیا ہے تو اینکر پرسنوں کا ٹولہ ان پر غداری اور حلف شکنی کے الزام دھر رہا ہے ، آخر میڈیا چاہتا ہے ، کوئی کل سیدھی نہیں ہے، وہ جب چاہے کسی کو آسمان پر چڑھادیتا ہے اور جب چاہے کسی کے نیچے سے سیڑھی کھینچ لیتا ہے ۔

آصف زرداری خاموش ہیں، بلاول بھٹو خاموش ہیں، مولانا سراج الحق خاموش ہیں، اے این پی خاموش ہے ، آ جا کر عمران خان اور شیری رحمٰن گرج برس رہے ہیں، شیری کی پریس کانفرنس پر تو خاتون صحافی ماروی سرمد نے خوب کہا کہ ان کی پریس کانفرنس دراصل آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس لگ رہی تھی۔ واقعی سمجھ نہیں آئی کہ شیری رحمٰن کو اس قدر اداکاری کی ضرورت کیوں پڑی۔ وہ جتنی بھی کوشش کرلیں اپنے �آپ کو رضا ربانی کی متبادل نہیں بنا سکتی ہیں، کرگس کاجہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور!

لوگ سب کچھ دیکھ رہے ہی، سب کچھ سن رہے ہیں ، سب کچھ محسوس کر رہے ہین، اسٹیبلشمنٹ عوام کی ہمدردی سے محروم ہوتی جا رہی ہے ، عوام اپنے حقوق کے ساتھ کھڑے ہیں ، اسٹیبلشمنٹ کی اجارہ داری کے ساتھ نہیں ۔ عوام کو فیصلہ کرنا ہے ، عوام کو فیصلہ کرنا چاہئے کیونکہ ان کے لیڈر نے فیصلہ کن رویہ اختیار کرلیا ہے، پاکستان کو آگے لے جانے کے لئے ایسا ضروری ہے وگرنہ اگلے ستر برس بھی ویسے ہی بدتر ہوں گے جیسے گزشتہ ستر برس تھے۔

نواز شریف پاکستان کی مڈل کلاس کی نمانئدگی کرتے ہیں، و ہ بھلے منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہوئے ہوں، جاگیردار نہیں ہیں، وڈیرے نہیں ہیں کہ ان کے اور عوم کے مفاد میں بُعد ہو، فرق ہو ، وہ عوام میں سے ہیں، عوام کے ہی سکولوں ور کالجوں، یونیورسٹیوں میں پڑھے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ ان کے والد نے کس محنت سے کمائی کی تھی ، وہ جانتے ہیں کہ پاکستان میں عام آدمی کس اذیت سے گزرتا ہے ، اس روش کا خاتمہ ہونا چاہئے ، ریاستی وسائل اور موقع پرستی کو وراثتی حق بنانے کی روش کا خاتمہ ہونا چاہئے ۔ ایسا تبھی ممکن ہے اگر نواز شریف کھڑے ہو جائیں اور اور واشگاف اداز میں بتائیں کہ

کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے

یہ لڑائی نہیں ہے، یہ فساد نہیں ہے، یہ صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہنا ہے، اس روش سے نواز شریف کا نقصان تو ہوسکتا ہے ،عوام کا فائدہ ہی ہوگا۔ پچھلے ستر برس میں جس طرح سے عوام کا استحصال ہوا ہے اس کا ازالہ تبھی ممکن ہے اگر عوام کو ان کے حقوق دلوائے جائیں ، خواہ یہ حقوق کسی سے چھیننے ہی کیوں نہ پڑیں۔

مزید : رائے /کالم