کئی سال بعد پورا عالم اسلام ایک ہی دن رمضان المبارک کا آغاز کر رہا ہے

کئی سال بعد پورا عالم اسلام ایک ہی دن رمضان المبارک کا آغاز کر رہا ہے

  



تجزیہ:۔ قدرت اللہ چودھری

چاند کی گردش کا اعجاز ہے کہ اس بار ماہ رمضان المبارک کا آغاز پورے عالم اسلام میں ایک ہی دن ہو رہا ہے ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے، مشرق وسطیٰ کے مسلمان ملکوں میں قمری مہینے کا آغاز پاکستان سے ایک دن پہلے ہوتا ہے اسی حساب سے رمضان المبارک اور عیدین کے دن بھی ایک دن پہلے آ جاتے ہیں، جس دن سعودی عرب میں یکم رمضان المبارک ہو، خیبرپختونخوا کے بعض علاقوں اور افغان مہاجرین کے کیمپوں میں اسی دن روزہ رکھا جاتا ہے اور اسی حساب سے ایک دن پہلے عید بھی کر لی جاتی ہے، پاکستان میں ایک سرکاری رویت ہلال کمیٹی ہے جو چاند دیکھنے کا اہتمام کرتی اور پھر اس کا اعلان کرتی ہے لیکن صوبہ سرحد کے بعض علماء کو اس سرکاری کمیٹی کے مقابلے میں اپنی کمیٹی بنانے کا خیال آیا، سال ہا سال سے یہ غیر سرکاری کمیٹی ایک طرح سے سرکاری رویت ہلال کمیٹی کی حریف کا کردار ادا کر رہی ہے اور عموماً ایک دن پہلے رمضان اور عید کا اعلان کر دیتی ہے، بسا اوقات تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ ماہرین فلکیات کے خیال میں جس دن چاند نظر آتا کسی صورت ممکن نہیں ہوتا یہ غیر سرکاری رویت ہلال کمیٹی چاند چڑھا دیتی ہے، جہاں جہاں اس کمیٹی کے ماننے والے موجود ہیں وہاں وہاں روزہ رکھ لیا جاتا ہے یا عید منا لی جاتی ہے، صوبہ خیبرپختونخوا میں کئی بار یہ تجویز بھی سامنے آ چکی ہے کہ اسلامی تہوار سعودی عرب کے ساتھ منائے جائیں لیکن اس پر اتفاق نہیں ہو سکا کیونکہ دوسرا نقطہ نظر یہ ہے کہ جغرافیائی طور پر سعودی عرب جس خطے میں واقع ہے وہاں چاند عموماً ایک دن پہلے دکھائی دے جاتا ہے جب کہ پاکستان میں ایسا ممکن نہیں۔

حکومت پاکستان گزشتہ کئی برس سے یہ کوشش کرتی رہی ہے کہ رمضان اور عید کے ایام پر اتفاق رائے ہو جائے کیونکہ ایسا کرنے سے قومی اتحاد اور یکجہتی کی ایک جھلک بھی اسلامی تہواروں میں نظر آئے گی لیکن بوجوہ ایسا ممکن نہیں ہو سکا، بلکہ گزشتہ کئی برسوں سے تو اس معاملے پر باقاعدہ تلخی سامنے آتی رہی ہے کہ وفاقی حکومت تو خیبرپختونخوا میں چاند نظر آنے کی شہادتیں ہی قبول نہیں کرتی اس وجہ سے کبھی حکومت کو اور کبھی رویت ہلال کمیٹی کو ذمے دار ٹھہرایا جاتا رہا لیکن اس بار مقام شکر ہے کہ نہ صرف پاکستان میں بلکہ پورے عالم اسلام میں رمضان المبارک کا آغاز ایک ہی دن ہو رہا ہے اللہ کرے یہ رمضان مسلمانو ں کے لئے باعث برکت و سعادت ہو۔ البتہ فلسطینی مسلمان عین رمضان سے دو دن پہلے جس آزمائش سے گزرے وہ بہت کڑی ہے۔ یہودی سیکیورٹی فورسز نے 62فلسطینیوں کو شہید کر دیا جبکہ 3ہزار کے لگ بھگ زخمی ہیں یہ فلسطینی یوم نکبہ کے موقع پر مظاہرے کر رہے تھے جو فلسطین میں اسرائیلی یہودی مملکت کے قیام کی رعایت سے منایا جاتا ہے، اب کی بار اس میں خاص بات یہ تھی کہ امریکہ اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کر رہا تھا، فلسطینیوں کی لاشوں پر اس منتقلی کا جشن منایا گیا، اللہ تعالیٰ فلسطینیوں کی آزمائش ختم کر دے۔

رمضان المبارک کے آغاز پر اہل لاہور کو اورنج ٹرین کے آزمائشی سفر کے آغاز کی خوشخبری بھی ملی۔ جب سے اس ٹرین کے منصوبے پر عملدرآمد شروع ہوا ہے اس کے راستے میں ایک کے بعد ایک رکاوٹ آتی رہی ہے، کہیں مسمار ہونے والی عمارتوں کے معاوضے کا معاملہ تھا تو کہیں جائیدادوں کے بعض ناجائز قابضین اس خوف سے مظاہرے کر رہے تھے کہ وہ جن عمارتوں پر ناجائز قابض کی حیثیت سے بیٹھے ہیں وہ مسمار ہو گئیں تو انہیں کچھ نہیں ملے گا، بعض کرائے داروں کو خوف تھا کہ مالکان تو مارکیٹ ریٹ سے معاوضہ لے جائیں گے لیکن انہیں کیا ملے گا اس لئے بھاڑ میں جائے میٹرو اورنج ٹرین ہم کرائے کی جن جائیدوں پر قابض ہیں وہ نہیں چھوڑیں گے غرض کبھی ایک وجہ اور کبھی دوسری وجہ سے مظاہرے کئے جاتے رہے، پھر بعض لوگوں کے دلوں میں بعض فراموش شدہ تاریخی عمارتوں کی محبت جاگ اٹھی اور وہ ان عمارتوں کو بچانے کے لئے سروں پر کفن باندھ کر میدان میں آ گئے، تاریخی عمارات کی حفاظت کا جذبہ نیک ہے بشرطیکہ اس میں بدنیتی شامل نہ ہو، بہت سی غیر سرکاری تنظیموں کو اورنج ٹرین کے پردے میں اپنی کارکردگی دکھانے کا موقع مل گیا جس کی بنیاد پر وہ بیرون ملک سے وافر فنڈز حاصل کرنے کی امیدوار تھیں حالانکہ دنیا بھر میں جہاں کہیں اس طرح کے بڑے پراجیکٹ شروع ہوتے ہیں وہاں کوئی نہ کوئی ’’تاریخ‘‘ ضرور ہوتی ہے لیکن اس کا حل یہ نہیں ہوتا کہ اربوں روپے کے پراجیکٹ کو درمیان میں معلق کر دیا جائے اہل لاہور کو اس منصوبے کو وجہ سے ایسے ایسے تاریخی مقامات یاد آئے جہاں سے صبح شام گذرتے ہوئے انہیں پہلے کبھی ایسا احساس نہ ہوا تھا ، چوبرجی کسی زمانے میں باقاعدہ باغ تھا اور چوبرجی کے نام پرجو ستون ہم آج دیکھتے ہیں یہ اس باغ کا دروازہ تھا، حیف ہے کہ ایک وسیع و عریض باغ تو لوگوں نے اپنے قبضے میں کر کے اس کو ذاتی ملکیت بنا لیا اور اس پر ذاتی گھر بنا لئے جو برج مرور ایام کے ہاتھوں بچ رہے تھے کبھی کسی کو اس تاریخی مقام کی بے حرمتی یاد نہ آئی، لیکن جونہی اورنج ٹرین کا منصوبہ سامنے آیا ان تنظیموں کو چوبرجی کی حرمت ستانے لگی، ایسے ہی اقدامات کی بدولت یہ منصوبہ وقت مقررہ پر مکمل نہ ہو سکا 22ماہ تک اس منصوبے کے مختلف حصوں پر کام رکا رہا، سپریم کورٹ کا حکم امتناعی ختم ہوا تو دوبارہ کام کا آغاز ہوا ورنہ آج یہ ٹرین پوری رفتار سے چل رہی ہوتی اور محض دس سٹیشنوں کی آزمائش تک محدود نہ ہوتی، جو لوگ میٹرو بسوں کو جنگلہ بسیں کہتے تھے ظاہر ہے ان کے نزدیک تو یہ جنگلا ٹرین ہی ٹھہری لیکن جو ڈھائی لاکھ مسافر روزانہ اس پر سفر کریں گے وہ ایسے منفی تبصرے نہیں کریں گے، اگلے چار پانچ سال میں یہ ٹرین اس قابل ہو گی کہ اس سے پانچ لاکھ افراد روزانہ سفر کریں گے، البتہ این جی اوز کے لئے ایک ’’خوشخبری‘‘ ہے کہ شہباز شریف نے بھائی سے ائیرپورٹ تک بھی بلیو لائن ٹرین کا منصوبہ بنا رکھا ہے اس لئے تمام مخالفین خبردار ہو جائیں اور اس منصوبے کو رکوانے کے لئے سرگرم ہو جائیں اس کے لئے سرگرم ہو جائیں، اس کے لئے ان کی کوشش تو یہ ہونی چاہئے کہ شہباز شریف کسی طرح الیکشن میں کامیاب نہ ہونے پائیں کیونکہ اگر ان کی جماعت الیکشن جیت گئی اور مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی سیاستدان پنجاب کا وزیر اعلیٰ بن گیا تو وہ بلیو لائن ٹرین کا ٹریک بنانا شروع کر دے گا ظاہر ہے بھائی سے لے کر ائیرپورٹ تک بہت سے تاریخی مقامات آئیں گے جو ممکن ہے اس منصوبے کی وجہ سے متاثر ہوں اس لئے محبان تاریخی مقامات کو ابھی سے تیاریاں کر لینی چاہئیں اگر شہباز شریف کی جماعت الیکشن جیت گئی تو پھر اس منصوبے کو روکنا مشکل ہو گا، ہم نے نیک وبد سمجھا دیا ہے پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی۔

عالم اسلام اور رمضان

مزید : تجزیہ /رائے