فضائل رمضان المبارک

فضائل رمضان المبارک

  



رمضان المبارک کا چاند نظر آتے ہی مسلمانوں میں خو شی کی لہر و وڑجاتی ہے۔ بچے بوڑھے اور جو ان سب ہی عبادات کا اہتمام کرتے ہیں خصوصاًََ روزے بڑے شوق سے رکھتے ہیں۔ بچے بھی والدین سے اصرار کرتے ہیں کہ ہمیں سحری کے وقت بیدار کریں تاکہ ہم روزے رکھ سکیں رمضان کے روزے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر فرض کئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ایمان والوں تم پر روزے فرض کر دیئے گئے جس طر ح تم سے پہلے لوگوں پر روزے فرض تھے تاکہ تم متقی (پرہیز گار ) بن جاؤ۔ دوسرے مقام پر فرمایا جو تم میں سے رمضان کا مہینہ پالے وہ اس کے روزے رکھے۔ روزے اللہ رب العزت نے 2ہجری میں فرض کئے۔ روزے کو عربی میں صوم کہا جاتا ہے۔ جس کا معنی ہے رک جانا۔ عبادت کی نیت سے صبح صادق سے غروب آفتاب تک کھانے پینے اور جماع سے رکے رہنے کا نام روزہ ہے۔ مسلمان شدید گرمی میں بھی روزہ نہیں چھوڑتے اللہ کو راضی کرنے کے لئے بھوک اور پیاس برداشت کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں یہ ہمارے اللہ کا حکم ہے ہم اپنے اللہ کا حکم مانیں گے تو سرخرو ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے روزے دار بندوں کے لیے بڑا مقام رکھا ہے، نبیؐ نے فرمایا جس شخص نے ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے رمضان کا روزہ رکھا اللہ تعالیٰ اس کے سا بقہ سارے گناہ معاف فرما دیتے ہیں۔ (بخاری و مسلم)

حضرت ابو سعید خدریؒ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے ار شاد فرمایا جو شخص اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس ایک دن کے روزے کی وجہ سے اس شخص کے چہر ے کو جہنم کی آگ سے ستر سال دور کر دیتاہے (بخاری و مسلم )

نبی علیہ السلام نے فر مایا روزہ جہنم کی آگ سے ڈ ھال ہے، جس طرح ڈھال کے ذریعے دشمن کے حملہ سے بچا جاتا ہے اسی طرح روزہ کے ذریعے انسان جہنم کی آگ سے محفوظ رہے گا۔ (بخا ری و مسلم )

روزہ رکھنے سے انسان کے اند ر صبر کا ملکہ پید اہو جا تا ہے۔ نبیؐ کا فرمان ہے صبر کا بدلہ اللہ تعالیٰ نے جنت رکھا ہے۔

مسلم شریف میں حدیث ہے کہ ابن آدم کے تمام نیک اعمال کو بڑھایا جاتا ہے۔ انسان کی ایک نیکی کو دس گناسے سات سوگنا تک بڑھایا جاتا ہے سوائے روزے کے کہ اس کے (اجر کا معاملہ مختلف ہے) اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں روزہ میرے لئے ہے اور اس کا بدلہ بھی میں ہی دونگا کیونکہ بندے نے کھانا پینا اور دیگر خواہشات نفسیاتی میری وجہ سے چھوڑی ہیں۔ انسان کے تمام اعمال میں سے روزہ ہی وہ واحد عمل ہے، جس کے بارے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دونگا۔

امام کائناتؐ نے ارشاد فرمایا روزے دار کے لئے خوشی کے دو مواقع ہیں جس میں وہ خو ش ہوتا ہے۔ اولا۔۔۔افطاری کے وقت روزہ افطار کرکے خوش ہوتا ہے کہ اللہ نے ا سے روزہ مکمل کرنے کی توفیق سے نوازا، رزق عطا کیا، جس سے میں روزہ افطار کیا خوشی سے کہتا ہے پیاس بجھ گئی انتڑیاں تر ہوگئیں اور ان شاء اللہ اجر مل گیا۔ ثانیا۔۔۔دوسری خوشی روزے دار کے لئے یہ ہے کہ جب وہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرکے روزے کا انعام حاصل کرے گا۔ روز ے دار کے لئے اللہ تعالیٰ نے بڑے انعامات رکھے ہیں، جس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے روزے داروں کے استقبال کے لئے ایک خاص دروازہ رکھا ہے، جس کا نام ہے باب الریان(روزہ داروں کا دروازہ دروازہ) اس دروازے سے صرف روزے دار ہی جنت میں داخل ہوں گے، جب روزے دار جنت میں داخل ہو جائیں گے تو دروازہ نبد کر دیا جائے گا۔

روزے داروں کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص محبت کا اظہار فرمایا ہے، جب اللہ تعالیٰ کی عبادت میں کسی بندے کی حالت پراگندہ ہوجاتی ہے اللہ تعالیٰ کو اپنے بندے کی وہ حالت بڑی پسند آتی ہے۔

جس طرح کوئی آدمی میدان جہاد میں شہید ہوجاتا ہے اس کے جسم سے خون نکلنا ہے، اس کے ساتھ مٹی مل جاتی ہے دیکھنے والے کو اس کی حالت اچھی نہیں لگتی، لیکن اللہ رب العزت کو بندے کی یہ حالت اتنی پسند ہے کہ قیامت کے دن شہید اللہ کی بارگاہ میں اس حال میں پیش ہوگا کہ اس کے جسم سے خون بہ رہا ہوگا، دیکھنے میں خون محسوس ہوگا، لیکن اس سے خوشبو کستوری کی آرہی ہوگی، اسی طرح انسان کے منہ سے آنے والی بو لوگوں کو اچھی محسوس نہیں ہوتی، لیکن روزے دار کے منہ کی بو اللہ رب العزت کو کستوری کی خوشبوسے بھی زیادہ پیاری ہے۔

بڑے ہی خوش قسمت ہیں، وہ لوگ جن کی زندگی میں رمضان آیا ہمیں چاہئے کہ اس مہینے میں زیادہ سے زیادہ نیکیاں کریں، دن کو روزہ رکھیں رات کو قیام کریں۔ نبیؐ کا فرمان ہے روزہ اور قرآن دونوں ہی قیامت کے دن بندے کے حق میں سفارش کریں گے۔ روزہ کہے گا اے اللہ میں نے اس بندے کو دن کے اوقات میں کھانے پینے اور خواہشات سے روکے رکھا میں اس کی سفارش کرتا ہوں۔ قرآن کہے گا اے اللہ میں نے اس بندے کو رات سونے سے روکے رکھا میں اس کی سفارش کرتا ہوں۔ نبیؐ نے فرمایا دونوں کی سفارش قبول کی جائے گی۔ یعنی اللہ تعالیٰ روزے اور قرآن کی سفارش قبول کرکے بندے کو جنت عطا فرما دے گا اورجہنم سے دور کر دے گا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے جو جہنم سے دور کر دیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا وہ کامیاب ہوگیا اللہ تعالیٰ ہم سب کو رمضان المبارک کے روزے رکھنے کی توفیق عطافر مائے۔ (آمین)

مزید : ایڈیشن 1


loading...