بجلی کاطویل بریک ڈاؤن،پنجاب اورخیبرپخوانخوا کے تمام بڑے شہروں میں بجلی بند ،سندھ اور بلوچستان ترسیلی نظام میں لگائے گئے پروٹیکشن سسٹم کے باعث بریک ڈاؤن سے بچ گئے ،تحقیقات کیلئے کمیٹی قائم

بجلی کاطویل بریک ڈاؤن،پنجاب اورخیبرپخوانخوا کے تمام بڑے شہروں میں بجلی بند ...

لاہور اسلام آباد (کامرس رپورٹر،سٹاف رپورٹر آئی این پی) فنی خرابی کے باعث صوبہ پنجاب اور خیبرپختون خوا میں بجلی کا بڑا بریک ڈاؤن ہوگیا ،‘اچانک بجلی غائب ہونے پر ہسپتالوں، ہسکولوں اور دفاتر میں کام بند اور روز کے معمولات زندگی متاثر ‘وزیراعظم کے زیر صدارت ہونے والا پارلیمانی کمیٹی اجلاس اور نیب عدالت میں نواز شریف کی پیشی کے موقع پر بھی صورت حال تذبذب کا شکار ہوگئی۔ حکام نیشنل پاورکنٹرول سینٹرکے مطابق لاہور، ملتان، بہاولپور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں بجلی کا بریک ڈاؤن ہوا ہے۔بریک ٹاؤن، گدو مظفر گڑھ لائن میں خرابی کے باعث لاہور، ملتان، بہاولپور سمیت پنجاب اور خیبرپختونخوا کے بیشتر شہر 10 گھنٹے سے زائد بجلی سے محروم رہے،جس کے باعث دونوں صوبوں کے بڑے شہروں میں نظام زندگی مفلوج گیا، ہسپتالوں کی ایمرجنسی، بلڈ بینک، موبائل سروس کے ٹاور،سرکاری و نجی بینک، ایئر پورٹ اور نادرا کا سسٹم شدید متاثر ہوا، بجلی کی طویل بندش سے سرکاری و نیم سرکاری اداروں کا بیک اپ جواب دے گیا جہاں وقت سے پہلے چھٹی دے دی گئی، گھروں پانی کی قلت ہوگئی جبکہ مساجد میں وضو کیلئے بھی پانی دستیاب نہ ہونے سے اعلانات کردیئے گئے جبکہ کروڑوں روپے کی اشیائے خوردونوش اور ادویات طویل بجلی کی بندش کے باعث خراب و ناقص ہو گئیں۔لاہور سمیت بڑے شہروں میں بجلی کے تاریخی بریک ڈاؤن کے باعث نظام زندگی معطل رہا، جبکہ رات گئے تک سسٹم کی مکمل بحالی کا کام جاری رہا،بجلی کے بریک ڈاؤن کے باعث پنجاب کے صدر مقام لاہور میں بجلی مکمل طور پر غائب ہوگئی، پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے دوران بجلی نہ ہونے پر اپوزیشن کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا۔نیو اسلام آباد ایئر پورٹ پر بھی بجلی کا بریک ڈاؤن رہا جس کے باعث مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، ملتان، بہالپور، چکوال سمیت پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی بجلی غائب ہوگئی۔خیبرپختونخوا کے شہر لکی مروت میں صبح سوا 9 بجے سے بجلی غائب ہے اور سوات میں صبح 10 بجے سے بجلی کی فراہمی معطل ہے۔ ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق بجلی کا بریک ڈاؤن تربیلا پاور پلانٹ کے باعث نہیں بلکہ گدو مظفر گڑھ لائن میں خرابی سے ہوا۔تربیلا، منگلا اور غازی بروتھا پاور اسٹیشن کو خرابی کے چند گھنٹوں بعد بحال کر دیا گیا تھا جبکہ بجلی کی پیداوار 12 ہزار میگاواٹ ہو گئی ہے اور مرحلہ وار بجلی کی مکمل پیداوار نظام میں شامل ہو جائے گی۔ترجمان پاور ڈویژن کی جانب سے شام کے اوقات میں اسلام آباد، لاہور ، پشاور و دیگر شہروں میں 80 فیصد سے زائد سسٹم بحال کرنے کا دعویٰ سامنے آتا رہا۔پاور ڈویژن کے مطابق بدھ کی صبح 9 بجکر 28 منٹ پر گدو، رحیم یارخان اور گدو ، ڈی جی خان کی 500 کے وی ٹرانسمیشن لائن ٹرپ کر گئی ، جس کے نتیجے میں500 کے وی کی گد و مظفر گڑھ ٹرانسمیشن کا لوڈ 733 میگاواٹ سے بڑھ کر 1559 پر پہنچ گیااور یہ لائن بھی پانچ سیکنڈ کے اندر ٹرپ کر گئی اور اسی دوران لائن میں فالٹ کے باعث بہت سارے پاور پلانٹس بھی سسٹم سے نکل گئے،دوسری جانب ترجمان ایٹمی توانائی کمیشن کا کہنا ہے کہ تربیلا پاور پلانٹ سے شروع ہونے والی ٹرپنگ سے چاروں چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹس بھی ٹرپ کرگئے۔ وفاقی وزارت پاور ڈویژن نے بجلی کے بڑے بریک ڈاؤن سے متعلق ایڈیشنل سیکرٹری وسیم مختار کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے، سرکاری پریس ریلیز کے مطابق ٹرپنگ سے پہلے سسٹم میں ضرورت سے زائد بجلی موجود تھی اور ہائی لاسز کے علاوہ لوڈ شیڈنگ نہیں کی جا رہی تھی۔پاور ڈویژن ذرائع کے مطابق ملک میں بجلی کی طلب 20 ہزار میگاواٹ سے تجاوز کر گئی ہے جس کے باعث پنجاب کی صنعتوں کو 10 گھنٹے لوڈشیدنگ کا اعلامیہ بھی جاری کردیا گیا جس پر آج سے عملدرآمد ہوگا۔وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کا کہنا ہے کہ بجلی کے بریک ڈاؤن کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کی جائیں گی کیونکہ اس طرح کے چند واقعات پہلے بھی رونما ہوچکے ہیں ۔ اچانک بجلی غائب ہونے پر ہسپتالوں، ہسکولوں اور دفاتر میں اندھیرا چھا گیا اور روز کے معمولات زندگی متاثر ہوئے۔ دوسری جانب وزیراعظم کے زیر صدارت ہونے والا پارلیمانی کمیٹی اجلاس اور نیب عدالت میں نواز شریف کی پیشی کے موقع پر بھی صورت حال تذبذب کا شکار ہوگئی۔ بجلی بند ہونے کے باعث ملازمین دفاتر میں اندھیرے میں کام کرنے پر مجبور ہو گئے ۔وزارت پانی و بجلی کے مطابق بجلی کا شارٹ فال ایک بار پھر سات ہزار میگاواٹ سے تجاوز کرگیا ہے، جب کہ ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق بڑھتی گرمی کے باعث پاور پلانٹ میں فنی خرابیاں پیدا ہونے لگیں ہیں، تاہم بجلی کی بحالی کیلئے کام جاری ہے، سیکرٹری پاور ڈویژن این پی سی سی حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں، کوشش ہے کہ بجلی جلد سے جلد بحال ہوجائے۔ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ پن بجلی کی پیدوار بحال کردی گئی ہیبجلی کے بڑے بریک ڈاؤن کی وجہ سے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران پورا ایوان تاریکی میں ڈوبا رہا ۔ دفتری امور موبائل ٹارچ اور موم بتی کی روشنی میں نمٹائے جاتے رہے ۔ قومی اسمبلی کی عمارت میں نصب سولر سسٹم بھی اندھیرے دور کرنے میں ناکام رہا جبکہ پنجاب اسمبلی کی عمارت دن کی روشنی کے باوجود رات کا نظر پیش کرتی رہی ۔ کورم پورا کرنے کے لئے گھنٹیاں بھی نہ بجائی جا سکیں اور خواتین اراکین اپنے دوپٹوں اور ہاتھ والے پنکھوں سے خود کو ہوا دیتی رہیں ۔ اراکین اسمبلی نے نواز شریف اور شہباز شریف کے خلاف نعرے بازی بھی کی ۔وفاقی حکومت نے گزشتہ روز صوبائی دارلحکومت لاہور سمیت ملک بھر میں ہونے والے بجلی کے بڑے بریک ڈاؤن کی تحقیقات کیلئے ایک چار رکنی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔ ایڈیشنل سیکرٹری پاور ڈویژن وسیم مختار کی سربراہی میں بنائی جانے والی تحقیقاتی ٹیم ہونے والے بجلی کے بڑے بریک ڈاؤن کی تحقیقات کر کے وفاقی حکومت کو رپورٹ پیش کرے گی تاکہ ذمہ داروں کا تعین کر کے ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

بریک ڈاون

مزید : کراچی صفحہ اول