اربوں کی سبسڈی، سستا رمضان بازار، راشن ڈپو کا منظر پیش کرنے لگے

اربوں کی سبسڈی، سستا رمضان بازار، راشن ڈپو کا منظر پیش کرنے لگے

ملتان ( نیوز رپورٹر ) پنجاب حکومت اور صوبائی اعلیٰ بیورو کریسی رمضان بازاروں کے انعقاد کے سلسلہ میں ملتان سمیت جنوبی پنجاب کے عوام کو ہاتھ دکھا گئی حکومت کی جانب سے رمضان المبارک کے موقع پر شہریوں کو معیاری اور ارزاں نرخوں پر اشیائے خوردنوش کی فراہمی کے لیے لگائے جانیوالے رمضان بازاروں لیے گزشتہ سال کی نسبت 20فیصد زائد فنڈز مختص کرنے کے باوجود ضلع ملتان اور جنوبی پنجاب کے دیگر شہروں میں امسال ایک بھی (بقیہ نمبر22صفحہ12پر )

ائیر کنڈیشنڈ بازار کا اہتمام نہیں کیا گیا جبکہ ملتان شہر میں لگائے جانیوالے رمضان بازار اشیائے ضرویہ اور سہولیات کے لحاظ سے بھی بڑی حد تک محدود ہیں جس کی وجہ سے یہ بازار پچھلے دو دنوں سے فعال ہونے کے باوجود شہریوں کو راغب کرنے سے محروم ہیں تاہم شہر بھر میں لگائے جانیوالے ان 7بازاروں میں 100سے زائد پولیس اہلکار ، سول ڈیفنس ، ہیلتھ کارپوریشن ، وارڈنز سمیت دیگر سرکاری اہلکاروں کی بھر مار ہے جس سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ یہ سستے بازار شہریوں کی بجائے سرکاری اہلکاروں کے ستانے کے لیے سجائے گئے ہیں حکومت کی جانب سے واضح اعلان کہ اس سال رمضان بازاروں کے انعقاد کے لیے 20فیصد اضافی فنڈز فراہم کیے جارہے ہیں جبکہ حقیقت اس کے قطعی برعکس ہے حکومت کی جانب سے گزشتہ سال رمضان بازاروں کے انعقاد اور عوام کو سبسڈائز اشیاء کی فراہمی 120ملین روپے فراہم کیے گئے تھے جبکہ امسال رمضان بازاروں کے انعقاد کے لیے فقط58ملین روپے فراہم کیے گئے ہیں۔ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ملتان میں گزشتہ سال تین ائیرکنڈیشنڈ بازاروں کا انعقاد کیا گیا تھا جس کے باعث شہریوں بالخصوص فیلیمز نے دلچسپی کا اظہار کیا تھا امسال محدود وسائل اور گرمی کی شدت ضلعی انتظامیہ کی ناقص حکمت عملی رمضان بازاروں کی ناکامی کا باعث بنے گی ۔ ضلعی انتظامیہ کے احکامات پر صارفین کو چینی ، دال اور آٹے کی خریداری پر فی کس ایک کلو کی پابندی نے ان رمضان بازاروں کو راشن ڈپو بنا کر رکھ دیاہے ۔ دالوں ، چینی اور آٹے پر حکومت کی جانب سے اربوں روپے کی سبسڈی عوام تک پہنچنے کی بجائے مخصوص راستوں سے اوپن مارکیٹوں کو فراہم کردی جاتی ہے برسا برس سے ہی کچھ ہوتا آرہا ہے ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر