کرپشن کے ناسور کے خاتمے کا دعویدار محکمہ ہی لنکا ڈھانے میں سرگرم

کرپشن کے ناسور کے خاتمے کا دعویدار محکمہ ہی لنکا ڈھانے میں سرگرم

ملتان(ملک اعظم سے)اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کا صوبائی ہیڈ کوارٹر اربوں روپے کی کرپشن میں ملوث آفیسران اور طاقتور اہلکاروں کے بچاؤ کا ذریعہ بن چکا ہے کرپٹ مافیا صوبائی ہیڈ کوارٹر(بقیہ نمبر43صفحہ12پر )

میں موجود اپنے دوستوں اور اثرورسوخ کی بنا پر مقدمات ایک ریجن سے دوسرے ریجن میں منتقل کروا کر اپنے آپ کو کلیئر کروانے میں مصروف ہیں‘ اس کا ثبوت محکمہ صحت اور محکمہ ایجوکیشن راجن پور اور ملتان اور صوبائی ہائی وے ملتان میں کروڑوں روپے کے مقدمات کی تفتیش سے ملتان کے سابق ڈی او آر مظفرگڑھ کی جانب سے سینکڑوں کنال اراضی کی بوگس لاٹمنٹ کا مقدمہ بھی ایک ریجن سے دوسرے ریجن منتقل ہونے کے بعد کرپشن فری سلوگن کا منہ چڑارہا ہے۔ بتایا گیا ہے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے رولز کے مطابق اگر کسی مدعی یا ملزم کو انکوائری آفیسر پر اعتماد نہیں ہوتا تووہ متعلقہ حکام کو درخواست دیکر اپنے مقدمہ یا انکوائری کی تفتیش تبدیل کروالیتا ہے،اگر اس طرح کا معاملہ ریجنل لیول کا ہو تو متعلقہ ریجنل ڈائریکٹر اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کرتے ہوئے انکوائری یا تفتیش میرٹ پر تبدیل کرنے کا مجاز ہے متعلقہ ریجنل ڈائریکٹر انکوائری آفیسر اور فریقین کو سن کر مناسب احکامات جاری کرتا ہے لیکن جب معاملہ صوبائی ہیڈ کوارٹر پہنچ جائے تو پھر ملزمان کے وارے نیارے ہوجاتے ہیں۔ معلوم ہوا ہے صوبائی ہیڈ کوارٹر میں کرپٹ مافیا کا تحفظ کرنے والا ایک گروپ موجود ہے جس نے ہر ریجن میں اپنے نمائندے رکھے ہوئے ہیں یہ گروپ کروڑوں روپے کے کیسز پر خصوصی نظر رکھتا ہے جونہی انکوائری مقدمہ میں تبدیل ہوتی ہے تویہ گروپ حرکت میں آجاتا ہے معاملات طے ہونے پر کروڑوں روپے کے فراڈ میں ملوث آفیسران اور طاقتور اہلکاروں کے تحفظ کیلئے اینٹی کرپشن کے رولز میں کمزوریاں بتاتا ہے اور اپنا الو سیدھا کرتا ہے اس گروپ نے پہلے محکمہ صحت میں 90 لاکھ روپے سے زائد غبن کی تحقیقات ساہیوال ریجن منتقل کروائیں اب سابق ایل اے سی وسیم کی مدد کیلئے ہر حد پھلانگ گیا،بتایا گیا وسیم احمد نے جب ملتان ریجن میں اپنے آپ کو پھنستے ہوئے دیکھا تو فوراً صوبائی ہیڈ کوارٹر دہائی دی،جس کیوجہ سے ہائی وے میں کروڑوں کے غبن کی تفتیش ساہیوال منتقل کردی گئی۔معلوم ہوا ہے ساہیوال ریجن میں تفتیش منتقل ہونے سے اس ریجن کے آفیسران تفتیشی کردار پر سوالیہ نشان کھڑے ہونا شروع ہوچکے ہیں اسی طرح صوبائی ہیڈ کوارٹر نے ڈی سی او راجن پور کیخلاف تفتیش ڈیرہ غازی خان ریجن سے ملتان ریجن منتقل کردی جوکہ اب دفن ہوچکی ہے سابق ڈی او آر مظفرگڑھ نے کروڑوں روپے کی سرکاری اراضی مک مکا کے بعد الاٹ کردی،جس کی انکوائری اینٹی کرپشن کے صوبائی ہیڈ کوارٹر میں موجود افسران کی نااہلی کی نظرہوچکی ہے۔

اینٹی کرپشن

مزید : ملتان صفحہ آخر