محکمہ صحت میں کنٹریکٹ پر بھرتی ریٹائرڈ افسروں پر اربوں کی خوردبرد کا الزام

محکمہ صحت میں کنٹریکٹ پر بھرتی ریٹائرڈ افسروں پر اربوں کی خوردبرد کا الزام

  



ملتان(وقائع نگار)محکمہ صحت کے آئی آر ایم این سی ایچ پروگرام اور نیشنل پروگرام میں کنٹریکٹ پر بھرتی محکمہ سے ریٹائرڈ افسروں پر اربوں روپے کی خوردبرد حکومتی خزانے کو نقصان پہچانے (بقیہ نمبر44صفحہ12پر )

کے الزامات عائد کرتے ہوئے نیب کو درخواست بھجوادی گئی ہے جس میں محکمہ صحت کے ریٹائرڈ افسران سے نجات دلانے اور حکومتی خزانے کو اربوں کو نقصان پہچانے پر تحقیقات کو مطالبہ کیا گیا ہے لیڈی ہیلتھ ورکرز ایسوسی ایشن پنجاب کی صدر رخسانہ انورودیگر ملازمین نے چیئرمین قومی احتساب بیورو(نیب) پنجاب کو دی گئی درخواست میں کیا ہے کہ آئی آر ایم این سی ایچ اور نیشنل پروگرام حکومت کے مستقل پروگرام ہیں جسکا پراجیکٹ کمپوننٹ(پی سی ون)یکم جولائی 2016 سے 30جون 2018تک منظور ہوا تھا مگر16فروری2017کو ایک نوٹیفیکیشن کے ذریعے ڈاکٹر مختیار حسین شاہ کو ڈائریکٹر اور ڈاکٹر اختررشید کو ایڈیشنل ڈائریکٹر آپریشن تین سال کنٹریکٹ(9فروری2017سے9فروری2019)دیدیا گیا ڈاکٹر اختر رشید3مارچ2018اور ڈاکٹر مختیار حسین شاہ18مارچ 2018کو سرکاری ملازمت سے ریٹائرڈ ہوئے اور انہیں 55لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ دی رہی ہیں جبکہ محکمہ کے گریڈ 19اور20کے کئی افسر حکومتی تنخواہ ڈیڑ ھ لاکھ روے ماہانہ پر کام کرنے کیلئے تیار ہیں درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ ان افسران نے جن سیٹوں پر بھی کام کیا اب تک حکومت کا اربوں روپے کا نقصان پہنچایا ہے اس لئے انہیں کنٹریکٹ دیکر نوازا گیاہے تاکہ اربوں روپے کے نیشنل پروگرام میں خوردبرد کر سکیں جبکہ ڈاکٹر مختیار حسین شاہ نے ڈائریکٹر کی سیٹ پر قبل از وقت بھرتی کیلئے نہ تو درخواست جمع کراوائی نہ ہی انٹرویو دیا اپنی مرضی کا پی سی ون بنانے پرانکے خلاف ابھی تک پیڈا ایکٹ2006کے تحت انکوائری چل رہی ہے۔ ڈائریکٹر کی بھرتی کے وقت ڈاکٹر مختیار حسین شاہ کے پاس پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا تجدیدی سرٹیفکیٹ بھی نہیں تھا ‘انہوں نے قانون کے بر خلاف ڈرگ انسپکٹر راؤ عالمگیر کومحکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر میں ڈائریکٹر فارمیسی لگوایاایک مخصوص کمپنی کی ایمبولینس سروس1034کو ٹھیکہ دیا گیا تو مریضوں سے 33روپے فی کلو میٹر کرایہ لیتی ہے جبکہ ریسکیو 1122کی ایمولینس کا کرایہ 6روپے فی کلو میٹر مقرر ہے ادویات کی سپلائی کا ٹھیکہ مخصوص کورئیر کمپنی کو دیا جبکہ ڈاکخانہ کی سروسزبغیر پیسہ کے مل رہی تھی۔ پرنٹنگ میٹریل کیلئے ایک پریس کو کو مجموعی بجٹ کا 50فیصد سے زائد دیا جا رہا ہے اور گورنمنٹ پرنٹنگ پریس سے میٹریل نہیں چھپوا یا جا رہا ادویات دوگنا ریٹس پر خردی گئیں دونوں افسران نے تین تین لاکھ روپے ماہانہ رینٹ پر گاڑیاں لے رکھی ہیں اور حکومتی گاریاں استعمال نہیں کرتے ہیں اس حوالے سے نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ دوخواست محض الزامات پر مبنی ہے اس پر تحقیقات کے بعد ہی معلوم ہو گا کہ الزامات درست ہیں یا غلط۔

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...