محکمہ صحت کی نجکاری کیخلاف ملازمین کی ہڑتال پانچویں روز میں داخل

محکمہ صحت کی نجکاری کیخلاف ملازمین کی ہڑتال پانچویں روز میں داخل

ملتان ‘ خانیوال ( وقائع نگار ‘ بیورو نیوز ‘ نمائندہ پاکستان ) محکمہ صحت ضلع ملتان کی طرف سے دفتر محکمہ صحت ،دیہی مراکز صحت،رورل ہیلتھ سنٹرز، ضلع و تحصیل ہیڈ کواٹرہسپتال ، شہبازشریف (بقیہ نمبر49صفحہ12پر )

ہسپتال ،سٹی میڈیکل سنٹر ملتان میں تالابندی کا گزشتہ روز چوتھا دن تھا۔جس میں ایمرجنسی چلتی رہی اور باقی تمام ہسپتالوں میں مکمل ہڑتال اور تالا بندی کی گئی اورایک ہی مطالبہ تھا کہ محکمہ صحت کو کبھی بھی ایک پرائیوٹPHFMCکمپنی کے حوالے نہیں کرنے دیں گے۔کیونکہ اس سے محکمہ صحت کے ملازمین کا استحصال اور معاشی قتل ہورہاہے۔ محکمہ صحت ایک بہت بڑا ادارہ ہے جوکہ عوام کو ترجیی نبیادوں پر علاج کی مفت سہولیات فراہم کر رہاہے۔ محکمہ صحت کے نجکاری کے عمل کو ابھی تک نہیں روکا گیا ہے۔ یہ گورنمنٹ ملازمین اور آنئندہ آنے والی نسلوں کا معاشی قتل ہے۔ محکمہ صحت کے ملازمین کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ سرکاری وسائل کو اپنے من پسند ٹھکییداروں ، خریداروں اور نام نہاد کمپینیوں کو فراخت کرنے سے ہر صورت روکنا ہے۔حالانکہ چیف جسٹس آف پاکستان سپریم کورٹ نے سوموٹو ایکشن لے کر 56پرائیوٹ کمپنیوں سے محکمہ صحت اور دوسرے محکموں کو ان کے حوالے کرنا اور بے تحاشہ تنحواہ دینے کا جواب طلب کر لیا ہے۔ گورنمنٹ دباؤ کے ذریعے محکمہ صحت کو پرائیوٹ کمپنیوں کے حوالے کرنا چاہتی ہے جو کہ ایک سراسر غلط اور غیرقانونی اقدام ہے۔ محکمہ صحت کی نجکاری سے ملازمین کو سخت مشکلات اورپریشانی کا سامنا ہے۔حکومت پنجاب محکمہ صحت کو PHFMCکمپنی کے حوالے کر رہی ہے اور ہسپتالوں میں عوام زلیل اور خوارہو رہے ہیں۔ نئی ملازمتوں کو بلکل روک دیا گیا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر ملازمین کو تعینات کیا جا رہا ہے جس سے پریشانی اور اخلاقی مسائل جنم لے رہے ہیں۔ کیونکہ ان کی جگہ ڈیلی ویجیز اور کیٹر یکٹ کی بنیاد پر ملازمین رکھے جا رہے ہیں۔ جس سے ملازین کا معاشی قتل اور استحصال ہو رہا ہے۔ پاکستان کے شہری ہونے کے ناطے ہر شہری کا حق ہے کہ وہ حق کی آواز کو بلند کرے۔محکمہ صحت کے ملازمین پہلے پاکستان کے شہری ہیں اور بعد میں گورنمنٹ محکمہ صحت کے ملازمین ہیں۔ تمام تر ملازمین 24/7اور ماڈل پلس ہیلتھ سنٹرز اور شہر کی بڑی ہسپتالوں میں ۲۴ گھنٹے اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔اس کے علاوہ فیلڈ میں کام کرنے والے ملازمین دلجوئی سے اور احسن طریقے سے اپنی ڈیوٹی سر انجام دے رہے ہیں اور پولیو جیسی موذی مرض پر قابو پایا ہوا ہے۔ اس لیئے گورنمنٹ آف پنجاب محکمہ صحت کے ملازمین محکمہ صحت کو پرائیویٹ کمپینیوں کے حوالے کرنے کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔خانیوال سے بیورو نیوز اور نمائندہ پاکستان کے مطابق محکمہ صحت کے ملازمین نے فیصلہ واپس نہ لینے پر بھوک ہڑتال کی دھمکی دیدی‘تفصیل کے مطابق محکمہ صحت کے سینکڑوں ملازمین مردوخواتین کا نجکاری کے خلاف احتجاج وتالہ بندی کا سلسلہ پانچویں روز بھی جاری گزشتہ رو ز محکمہ صحت کے سینکڑوں ملازمین نے حکومتی فیصلے واپس نہ لینے پر بھوک ہڑتال کی دھمکی دیدی انہوں نے کہاکہ اگر فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو سینکڑوں ملازمین بھوک ہڑتال کریں گے ۔اس موقع پر کمپیوٹر اسیوسی ایشن کے صدر محمد انوار حسین نے کہاکہ گزشتہ روز ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ کے ساتھ گرینڈ الائنس کے تمام اضلاع کے یونین صدروز کی میٹنگ کے دوران متفقہ طورپر فیصلہ کیا گیا ہے کہ محکمہ صحت کو کسی بھی صورت پنجاب ہیلتھ فیکلٹی منیجمنٹ کمیٹی کے حوالے نہیں کریں گے ۔ضلع بھر کے محکمہ صحت، دیہی مراکز صحت رول ہیلتھ سینٹرز کسی صورت بھی حکومت کو پنجاب ہیلتھ فیکلٹی منیجمنٹ کمیٹی پی ایچ ایف ایم سی پرائیویٹ ٹھیکیداروں کے حوالے نہیں کرنے دیں گے چونکہ محکمہ صحت کے ملازمین کا معاشی قتل ہورہا ہے نام نہاد پرائیویٹ کمپنیاں سرکاری ملازمین کا گلہ گھونٹنے کو ہر صورت روکیں گے اس موقع پر اپیکا ہیلتھ یونٹ کے صدر محمدشہزاد، سکول ہیلتھ نیوٹریشن سپروائزر کے صدر راجہ عاطف، ویکسی نیٹر کے صدر طارق محمود، رانا محمدسلیم، روبینہ حمید، اور ایپکا کے نائب صدر میاں محمد عمران کمبوہ، مسعود الرحمن نے خطاب کیا احتجاج میں سینکڑوں محکمہ صحت کے ملازمین اور ہیلتھ ورکرز موجود تھیں جنہوں نے ضلع بھر کے ہسپتالوں کو تالہ بندی کردی ہے ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر