کیا عطائیت کا خاتمہ ممکن ہے؟

کیا عطائیت کا خاتمہ ممکن ہے؟
کیا عطائیت کا خاتمہ ممکن ہے؟

  



اعلی عدلیہ نے پولیس کے اعلی حکام کوعطائیت کے خلاف کارروائی کاجو حکم دیا ہے یہ ایک احسن اقدام ہے جسے سراہا جانا چائیے۔لیکن یہ اچھا کام غلط طریقے سے اور غلط افراد کے ذریعے کروایا جا رہا ہے ۔سپریم کورٹ کے احکامات پر پولیس اور محکمہ صحت کی ٹیموں نے عطائی ڈاکٹروں کے خلاف جو کریک ڈاؤن شروع کیاہواہے۔ اول تو اس سے رشوت خوروں کی چاندی ہو گئی ہے ۔دوسرا جو رشوت نہیں دیگاپولیس اسکو پکڑ رہی ہے ۔عدلیہ کو ایسے احکامات دیتے ہوئے ان باتوں کی طرف بھی دھیان دینا چاہیے۔ایک طرف تو چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات سے دکھی انسانیت کو ایک امید کی کرن نظر آئی ہے۔دوسری طرف اس سے عوام کے دکھوں میں مزید اضافہ بھی ہوا ہے ۔کہ عوام کے پاس سستے علاج کی سہولت تھی وہ بھی ان سے چھین لی گئی ہے۔ اس کے بدلے میں انہیں بے آسرا چھوڑ دیا گیا ہے ۔سوال یہ بھی ہے کہ کیا یہ عطائی اپنے منطقی انجام کو پہنچ جائیں گے ۔میرا خیال ہے اس طرح گرفتار کرنے سے ایسا ممکن نہیں ہے ۔کیونکہ علاج معالجہ عوام کا بنیادی حق ہے ۔جس کی سہولت دینا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔جس میں وہ مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے ۔اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ حکومت کی ترجیح صحت نہیں ہے ۔

پاکستان میں جہاں اوسط 1734 افراد پہ ایک ڈاکٹر تعینات ہے۔ان ڈاکٹرز نے بھی پرائیویٹ کلینک بنائے ہوئے ہیں جہاں کافی مہنگا علاج ہوتا ہے ۔ملک کی نصف آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے ۔ان کے لیے سستا اور گھر کی دہلیز پر علاج کی سہولت دستیاب نہیں ہے ۔اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ عطائی ڈاکٹروں کا خاتمہ اس پکڑ دھکڑ سے ممکن نہیں ہے ۔اس پکڑ دھکڑ سے دور دراز دیہات میں رہنے والوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہی ہوا ہے کمی نہیں۔بیمار خواتین ،بچوں اور بڑوں کو علاج معالجہ اور ادویات نہ ملنے پر شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ غریب لوگ ڈاکٹروں کی بھاری فیسیں ادا نہیں کر سکتے۔اور شہر میں جانا آنا بھی ان کے لیے کار دشوار ہے ۔مثلاََاگر کسی غریب کا گاؤں شہر سے پچاس کلومیٹر دور ہو اسے پیٹ ،داڑھ ،دانت ،سر درد یا کسی بھی ایسے مسئلہ کے لیے رات کے وقت ضرورت پڑے تو وہ کیا کرے گا ۔ایسے میں تو یہ مبینہ عطائی اس کے لیے رحمت کا فرشتہ تھا ۔ہر گاوں میں ایسا فرشتہ موجود ہے تو دیہاتی لوگ زندگی گزار رہے ہیں ۔ انہیں جینوئن ڈاکٹر کہاں دستاب ہوتے ہیں۔یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ جتنی رقم خرچ کر کے وہ شہر جائے اس سے نصف میں اسے گھر بیٹھے آرام آ جائے تو اسے شہر جانے کی کیا ضرورت ہے۔ 

میرے خیال میں دو کام کرنے سے اس مسئلہ کا حل ممکن ہے ۔اول حکومت عوام کو ریلیف مہیا کرنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر دیہی سطح پر سرکاری ڈسپنسریوں کو فعال کرے جہاں پر عوام الناس کومفت چیک اپ اورادویات دستیاب ہوں۔اس وقت جہاں بھی سرکاری دیہی مراکز ہیں وہ صرف دن کے اوقات میں کھلے ہوتے ہیں ۔سوال یہ ہے کہ رات کو بیمار ہونے والے کہاں جائیں ۔علاوہ اس کے ان مراکز میں علاج معالجہ کی پوری سہولت بھی حاصل نہیں اور بعض ادویات تو مریضوں کو پھر بھی باہر سے خریدنی پڑتی ہیں ۔

شہروں اور دیہات میں سرکاری طور پر بنیادی مراکز صحت اور آر ایچ سی ہسپتال کام کر رہے ہیں ان میں ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف کی موجودگی کو 24گھنٹوں کے لئے یقینی بنانا چاہئے ۔حکومت ہرشہر کے ہر گاؤں میں بنیادی مرکز صحت بنائے تاکہ عوام الناس کو صحت کی بنیادی سہولتوں کی فراہمی ممکن ہوسکے ۔ گاؤں گاؤں میں بنیادی مراکز صحت اور آر ایچ سی ہسپتالوں کو مزید فعال کرنے کی ضرورت ہے۔ 

دوم عطائیوں کو پکڑ پکڑ کرجیل بھرنے سے بہتر یہ ہے کہ انکو صحت و ادویات سے متعلق مزید تعلیم دی جائے ۔ایک مخصوص کورس بنایا جائے جو ہر ایک فرد جو اس شعبہ سے وابستہ ہو اس کے لیے لازم ہو ۔اس طرح یہ عطائی ایک کورس کر کے اچھی خاصی خدمت خلق کر سکتے ہیں ۔بے شک کہ ان کوچند چیدہ چیدہ مخصوص بیماریوں مثلاََسر درد ،پیٹ درد ،کھانسی ،داڑھ ،دانت ،بخار وغیرہ جیسی عام بیماریوں کے علاج کا سرٹیفیکٹ دیا جائے ۔اگر ان عطائی ڈاکٹروں و حکیموں کی بہتر تربیت کی جائے تو اس کے مثبت نتائج نکلیں گے ۔

ملک میں قائم تمام ہسپتالوں کو رجسٹرڈ کیا جانا بھی بہت ضروری ہے ۔پنجاب میں کلینک و ہسپتالوں کو رجسٹرڈ کرنے کی ذمہ داری ہیلتھ کئیر کمیشن کی ہے ۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم پر2010میں حکومت نے پنجاب میں ہیلتھ کیئر کمیشن قائم کیا جس کا باقاعدہ بل پنجاب اسمبلی میں اکثریتی رائے سے منظور کیا گیا تھا۔ہیلتھ کیئر کمیشن کے تحت پنجاب بھر میں سرکاری و غیر سرکاری ہسپتالوں اور کلینکس کو ریگولیٹ کرنا،مریضوں کی جانب سے موصولہ شکایات کا ازالہ کرنا، غفلت اور لاپروائی کرنے والے ڈاکٹرز کے خلاف کاروائی کرنا شامل ہے جبکہ ہیلتھ کیئر کمیشن یہ بھی فیصلہ کرے گاکہ کون سے ڈاکٹرز کس کیٹگری میں آتے ہیں اور وہ اپنے نجی ہسپتالوں اور کلینکس میں مریضوں سے کتنی فیس لے سکتے ہیں، نجی ہسپتالوں اور کلینکس میں علاج معالجے کے آلات، حدود دا ربعہ کا تعین، صفائی کا خیال رکھنا بھی اسی ادارے کی ذمہ داری ہے ۔ڈاکٹروں کی غفلت، لاپرواہی اور علاج اچھے انداز میں نہ کرنے، غلط طریقے سے علاج و معالجہ کرنے سے ہونے والی مریضوں کی ہلاکتوں کے حوالے سے دی جانے والی درخواستوں پر بھی ہیلتھ کیئر کمیشن ہی کارروائی کرتا ہے۔

ہیلتھ کیئر کمیشن کی ذمہ داریوں میں یہ بات بھی شامل ہے کہ پنجاب بھر کے گلی محلوں میں عطائیوں نے جو کلینکس اور ہسپتال کھول رکھے ہیں ان کا بھی خاتمہ کرنا شامل ہے۔پنجاب بھر میں اس وقت 65 ہزار سے زائد سرکاری و غیر سرکاری ہسپتال، ہیلتھ یونٹ، کلینکس قائم ہیں۔ان میں ڈاکٹرز، ڈینٹل سرجنز،حکماء اور ہومیوپیتھک ڈاکٹرز عطا ئی سب شامل ہیں، اب تک ہیلتھ کیئر کمیشن پنجاب میں صرف 6سوکے قریب ہیلتھ فراہم کرنے والے سرکاری ،پرائیویٹ ہسپتال اور کلینک رجسٹرڈکرسکا ہے ابھی صرف لاہور، گوجرانوالہ اور فیصل آباد کے صحت کی فراہمی کے ادارے رجسٹرڈ ہوئے ہیں۔اس سے اندازہ کریں یہ ادارہ عوام کی صحت سے کتنا مخلص ہے ۔ 

۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ


loading...