کویت میں مقیم شعلہ بیاں نوجوان شاعر سید صداقت علی ترمذی کے اعزاز میں شامِ شاعری کا انعقاد  

کویت میں مقیم شعلہ بیاں نوجوان شاعر سید صداقت علی ترمذی کے اعزاز میں شامِ ...
کویت میں مقیم شعلہ بیاں نوجوان شاعر سید صداقت علی ترمذی کے اعزاز میں شامِ شاعری کا انعقاد  

  



کویت (عرفان شفیق سے )گزشتہ روز کویت کے ایک مقامی ہوٹل میں بین الاقوامی شہرت کے حامل شاعر خالد سجاد احمد کی میزبانی میں  شعلہ بیاں نوجوان شاعر اور پاکستان تحریک انصاف کویت کے جنرل سیکرٹری سید صداقت علی ترمذی کے اعزاز میں شامِ شاعری کے عنوان سے ایک تقریب منعقد کی گئی۔تقریب میں نظامت کے فرائض خالد سجاد احمد نے سر انجام دیے۔جبکہ تقریب کی صدارت کے پی ایف اے کے صدر رانا اعجاز سہیل ایڈووکیٹ نے کی۔ تقریب کے مہمان خصوصی پاکستان تحریک انصاف کویت کے صدر اخلاق احمد ملک اور پاکستانی کمیونٹی کی سماجی شخصیت پیر امجد حسین تھے۔ تقریب میں شعراء کرام کے علاوہ پاکستانی کمیونٹی کی مذہبی، سیاسی،ادبی،اور کاروباری شخصیات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ نامور کالم نگار محمد فیصل نے سید صداقت علی کی شاعری پر مقالہ کی صورت میں سیر حاصل گفتگو کی، جسے حاضرین محفل نے بہت سراہا۔محمد فیصل نے کہا کہ سید صداقت علی کی شاعری میں وطن سے محبت، حقیقی عشق، حق پر ڈٹ جانا، اور فقط سچ نہیں بلکہ لامحدود سچ بولنے کی عکاسی کرتی ہے۔ 

تقریب میں مہمانوں کے لئے پُر تکلف عشائیہ کا بھی انتظام کیا گیاتھا۔ شعراء کرام میں فیصل جمیل، شہزاد سلطان کیف، ابراہیم سنگے راجہ، کمال انصاری، ذوالفقار ذکی، صابر عمر، کاشف کمال، عماد بخاری، سعید نظر کڑپوی، سید صداقت علی، اور خالد سجاد احمد کے نام شامل تھے۔

اس موقع پر جن شعرا نے کلام پڑھا ،ان کا نمونہ  کلام دیکھئے  

دلوں میں اس قدر نفرت بھری ہے

وہ قاتل کی حمایت کر رہے ہیں

کھڑے ہیں ساتھ لیکن لب سِلے ہیں

سلیقے سے بغاوت کر رہے ہیں

ابراہیم سنگے راجا

۔۔

یہ زندگی ہمیں زندہ دلی سے جینا ہے

کمال جرم ہے مرنے کی آرزو کرنا

کمال انصاری

۔۔

جن کا دعوی تھا کہ لائیں گے وہ آدھا کر کے

وہ بھی لے آئے میرا درد زیادہ کر کے

کل جو آیا تو اداسی کے سوا آؤں گا

آج لوٹا ہوں سمندر سے یہ وعدہ کرکے

ذوالفقار ارشد ذکی

۔۔

حسین خواب کی رعنائیاں چلی جاتیں

مجھے بھی چھوڑ کے پرچھائیاں چلی جاتیں

تمہارے نام سے بدنامیاں بھی شہرت ہیں

تمہارے بعد رسوائیاں چلی جاتیں

صابر عمر

۔۔

چناؤ کی ہمیشہ سے یہاں منطق نرالی ہے

وہی سردار ٹھہرے جن کو سرداری نہیں آتی

ہم اپنے دیس کے ایوان میں بیٹھے ہوئے ہوتے

مگر کاشف ہمیں دھرتی سے غداری نہیں آتی

کاشف کمال

۔۔

حد سے بڑھ کر خیال کرتے ہیں

میرے دشمن کمال کرتے ہیں

آپ کا تو جواب کوئی نہیں

آپ کیسے سوال کرتے ہیں

عماد بخاری

۔۔۔

یار کوئی اس سے کہہ دے نیند میں آیا کرے

آنکھ سے پور انہیں ہوتا خسارہ خواب کا

رات بے چینی کروٹ لے کے کیا پتھر ہوئی

بوجھ مجھ پر آ پڑا سارے کا سارا خواب کا

خالد سجاد احمد

۔۔

کسی غرور کا اونچا نہ سر ہوا اب تک

ہوئے ہیں چور تری بھی انا کے سب پیکر

کسی کی آہ بنے ہیں کسی کے دل کا گیت

جہاں میں پھیل گئے ہیں صدا کے سب پیکر

سعید نظر کڑپوی

۔۔۔

ہر کوئی عشق میں اندھا ہو یہ ممکن ہے مگر

ہر کوئی عشق میں یعقوب نہیں ہو سکتا

بربریت کو عمل سے بھی صداقتؔ روکو

شعر کہنے سے فقط خوب نہیں ہو سکتا

سید صداقت علی

مزید : عرب دنیا


loading...