وہ کون تھا ؟ایک خناس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ 52ویں قسط

وہ کون تھا ؟ایک خناس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ 52ویں قسط
وہ کون تھا ؟ایک خناس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ 52ویں قسط

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ملازم کے جانے کے بعد اسامہ نے عمارہ کے پریشان چہرے کی طرف دیکھا۔’’آپ بیٹھ جائیں۔۔۔‘‘

عمارہ گھبرائی سی دوبارہ بیٹھ گئی’’آپ کہیں کہ کیا کہنا چاہتی ہیں۔‘‘

عمارہ اپنی جبیں پیمائی کرنے لگی’’آپ مجھے حیرت کے جھٹکے پہ جھٹکے لگائے جا رہے ہیں۔ میرا تو جیسے دماغ ہی سن ہوگیا ہے کہ میں آپ سے کیا بات کروں۔‘‘

’’ٹھیک ہے پھر آپ مجھ سے کوئی بات نہ کریں۔ آپ مجھے کوئی مناسب وقت دے دیں۔ جب آپ فارغ ہوں میں آپ کے کلینک آجاؤں گا۔ دراصل میں خود بھی آپ سے ملنا چاہتا تھا۔ میرا خیال ہے کہ جو بات ہم نے کرنی ہے اس کے لیے یہ جگہ مناسب نہیں ہے۔‘‘

وہ کون تھا ؟ایک خناس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ 51ویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’اچھا تو پھر آپ کل شام چار بجے میرے کلینک پر آجائیے گا۔ وہیں تفصیل سے بات ہوگی۔ کارڈ میں میرے کلینک کا ایڈرس۔۔۔‘‘ عمارہ اپنی بات پوری نہ کرپائی تھی کہ اسامہ نے کہا’’میں جانتا ہوں کہ آپ کا کلینک کہاں ہے۔‘‘

عمارہ نے اپنی آنکھوں کو چاروں طرف گھماتے ہوئے اپنی بھنویں اچکائیں۔

’’کیا ہوا اب میں نے ایسا کیا کہہ دیا۔‘‘ اسامہ نے پوچھا۔

عمارہ نفی کے انداز میں سر ہلاتی ہوئی کھڑی ہوگئی۔’’نہیں کوئی ایسی بات نہیں، آپ مجھے اجازت دیں ان شاء اللہ کل ملاقات ہوگی۔‘‘

’’آپ چائے تو پی لیں۔‘‘ اسامہ نے کہا۔

’’شکریہ۔۔۔میرا ابھی دل نہیں ہے۔‘‘

اسامہ، عمارہ کو گیٹ تک چھوڑنے گیا۔

عمارہ نے جاتے ہوئے ایک بار پھر کہا’’مجھے آپ کا انتظار رہے گا۔‘‘

’’ان شاء اللہ ۔۔۔کل آپ سے ملاقات ہوگی۔‘‘ اسامہ نے اسے یقین دلایا۔

***

اگلی صبح عمارہ حسب معمول ناشتہ کرکے کلینک کے لیے روانہ ہوگئی۔ اس کی والدہ رابعہ گھر کی چیزیں سمیٹنے لگی۔ آدھے گھنٹے کے بعد ملازمہ بھی آگئی۔ رابعہ ملازمہ کو کام سمجھانے میں مشغو ل ہوگئی۔

ملازمہ کو کام سمجھانے کے بعد رابعہ نے چولہے پر دودھ کی دیگچی رکھ دی اور دودھ پکانے لگی۔ ملازمہ برتن دھو رہی تھی۔

’’تمہیں میں نے کتنی بار سمجھایا ہے کہ برتن دھونے کے بعد کیبنٹ پہ کپڑا ضرور مارا کرو مگر تم پر تو کوئی اثر ہی نہیں ہوتا۔ دیکھو ذرا کتنی چکناہٹ جم گئی ہے۔ آج ضرور صاف کر دینا۔‘‘ رابعہ نے ملازمہ سے کہا۔

’’جی بی بی جی!آج صاف کردوں گی۔‘‘ ملازمہ نے جوبا دیا۔

رابعہ کچن کی باقی چیزیں سمیٹنے لگی۔ کچھ چیزیں اس نے فریج میں رکھیں۔ باقی مصالحہ جات ڈبوں میں سنبھال دیئے اتنی دیر میں دودھ کو بھی ابال آگیا۔

رابعہ کچن سے لیونگ روم میں آگئی اس نے میگزینز کے اسٹینڈ سے میگزین اٹھایا اور صوفے پر براجمان ہوگئی۔ تقریباً گیارہ بجے کے قریب عمارہ کا فون آیا۔

رابعہ نے فون رسیو کیا۔’’ہیلو۔۔۔‘‘

’’مما! آپ نے دوپہر کا کھانا نہیں بنانا۔ میں اپنے لیے اور آپ کے لیے ہوٹل سے کھانا منگوا لوں گی۔ آپ بس آرام کرنا۔‘‘ عمارہ نے ماں کو سمجھایا۔

’’عمارہ بیٹی! جب میں بیمار ہوں ہی نہیں تو پھر کیوں تم مجھے بیمار بنا رہی ہو۔ کوکنگ تو میں شوق سے کرتی ہوںَ میرا وقت اچھا گزر جاتا ہے۔ فارغ ہوتی ہوں تو طرح طرح کی سوچیں ستاتی ہیں بس میں نے کہہ دیا ہے کہ تم نے بازار سے کھانا نہیں منگوانا، میں کھانا بنا لوں گی۔‘‘ رابعہ نے دو ٹوک بات کی۔

عمارہ نے ٹھنڈی آہ بھری۔’’آپ سے کون جیت سکتا ہے ٹھیک ہے جیسا آپ کو اچھا لگے لیکن آج میں اپنا لنچ یہیں منگوالوں گی ۔ کام زیادہ ہے گھر نہیں آسکوں گی۔‘‘

’’اچھا ٹھیک ہے۔ ٹائم پر کھانا منگوا لینا۔ اللہ حافظ۔ ‘‘ یہ کہہ کر رابعہ نے فون بند کر دیا اور دوبارہ میگزین پڑھنے میں مصروف ہوگئی۔

ملازمہ گھر کی صفائی کرنے کے بعد ڈسٹنگ کر رہی تھی۔ ڈسٹنگ کرنے کے بعد وہ رابعہ کے پاس آئی۔’’بی بی جی! سارا کام ختم ہوگیا ہے اور کوئی کام ہے تو بتا دیں۔‘‘

رابعہ نے صحن کی طرف اشارہ کیا’’میں نے وہاں صحن میں دو جوڑے رکھے ہیں وہ دھو دینا۔‘‘ 

’’ٹھیک ہے۔۔۔‘‘ یہ کہہ کر ملازمہ کپڑے دھونے صحن میں چلی گئی۔

نوکرانی نے کپڑے دھونے میں زیادہ دیر نہ لگائی۔ فٹافٹ کپڑے دھوکے وہ دوبارہ رابعہ کے پاس آئی۔’’بی بی جی! کپڑے بھی دھل گئے ہیں اب میں جاؤں۔‘‘

’’ہاں جاؤ۔۔۔دروازہ ٹھیک طرح سے بند کرنا۔‘‘ رابعہ نے رسالے پر سے نظریں اٹھائے بغیر کہا۔

’’جی اچھا جی۔۔۔‘‘ملازمہ چلی گئی۔

رابعہ نے وال کلاک میں وقت دیکھا۔’’گیارہ بج گئے ہیں گوشت تو میں نے فریزر سے باہر نکالا ہی نہیں۔‘‘

رابعہ ڈھیلی ڈھیلی چال سے چلتی ہوئی فریج تک گئی اس نے گوشت کا شاپر نکالا اور کچن میں چلی گئی۔ کچن کی کھڑکی لان کی طرف کھلتی تھی جہاں سے باہر کا گیٹ بھی دکھائی دے رہا تھا۔

رابعہ گھرمیں بالکل اکیلی تھی۔ اس نے ٹوکری سے لہسن اور پیا ز اٹھائے اور کاٹنے لگی۔ ویجی ٹیبل شیٹ پر چھری کی کٹ کٹ کی آواز کے ساتھ رابعہ کو گیٹ کھلنے کی آواز آئی اس سے پہلے کہ وہ پلٹ کر دیکھتی جیسے کسی نے گیٹ بند بھی کر دیا رابعہ کے ہاتھ وہیں رک گئے۔ وہ پیاز چھوڑ کر کچن کی کھڑکی کی طرف بڑھی۔ا س نے کھڑکی سے باہر جھانکا۔ دور دور تک سناٹا تھا اس کے ذہن میں وسوسے سے آنے لگے ۔ اس نے لان کے چاروں طرف قطاروں میں لگے التا پوش اور گل چیں کے پودوں کی طرف دیکھا’’کوئی ان پودوں میں بھی تو چھپ سکتاہے۔‘‘

وہ اس خیال سے کچن سے باہر جانے لگی تو کچھ سوچ کر اس نے ذہن جھٹک دیا’’میرا وہم ہوگا۔۔۔‘‘ وہ دوبارہ اپنے کام میں مشغول ہوگئی۔

اچانک چھوٹے چھوٹے بچوں کی ہنسنے کھیلنے کی پرمسرت آوازیں اس کی سماعت سے ٹکرائیں۔ وہ ایک بار پھر کھڑکی کی طرف لپکی مگر اسے کچھ دکھائی نہ دیا۔ یہ اندازہ ہوگیا کہ بچوں کی آوازیں لان سے ہی آرہی ہیں۔

’’یہ بچے کہاں سے آئے ہیں۔ ہمارے تو قریبی پڑوسیوں کے سب بچے بڑے ہیں شاید ان کے گھر مہمان آئے ہوں۔‘‘ رابعہ سوچتی ہوئی کچن سے باہر نکل گئی۔ لیونگ روم سے ہوتی ہوئی وہ عقبی دروازے سے باہر لان میں آگئی جو منظر اس نے دیکھا، اس کی آنکھیں دنگ رہ گئیں لان میں رنگ برنگی سینکڑوں تتلیاں پودوں کے اوپر منڈلا رہی تھیں۔

اتنی زیادہ تتلیاں تھیں کہ ان کا نظروں میں سمانا مشکل تھا، انہوں نے فضا کو رنگوں سے بھر دیا تھا تین بچے جن میں دو لڑکیاں اور ایک لڑکا تھا، بے تحاشہ شور مچا رہے تھے۔ وہ ان تتلیوں کو پکڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔

رابعہ اس دلفریب منظر میں جیسے کھو گئی، وہ بچوں کی طرف بڑھی۔ یہ منظر جتنا خوبصورت تھا۔ اتنا ہی حیران کن بھی تھا کہ اتنی زیادہ تتلیاں کہاں سے آگئیں۔

’’ارے بچو! آپ کہاں سے آئے ہو۔‘‘

رابعہ کے بولتے ہی سب کچھ غائب ہوگیا۔ تتلیاں بھی اور بچے بھی۔ رابعہ کا دل دھک سے رہ گیا۔ اس کے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی۔ خوف کا احساس اس کے ذہن میں وسوسے ڈالنے لگا۔ وہ تیز تیز قدموں سے چلتی ہوئی لیونگ روم میں چلی گئی اور چٹخنی لگا لی۔

سامنے ٹیبل پر اس کا موبائل پڑا ہوا تھا اس نے موبائل اٹھایا اور عمارہ کا نمبر ملایا۔ عمارہ کے کمرے کی طرف سے موبائل کی رنگ کی آواز آنے لگی۔’’یہ لڑکی تو اپنا موبائل گھر پرہی بھول گئی ہے۔‘‘

اس نے موبائل اپنے ہاتھ ہی میں تھاما ہوا تھا۔ وہ سہمی سہمی صوفے پر بیٹھ گئی۔ تقریباً پندرہ منٹ گز ر گئے، اسے کوئی پراسرار حرکت محسوس نہ ہوئی اور نہ ہی کسی غیبی چیز کے اثرات محسوس ہوئے۔ اس نے یہی بہتر سمجھا کہ اپنا دھیان کام پر لگائے۔ وہ کچن میں گئی گوشت ڈی فراسٹ ہو چکا تھا۔ اس نے جلدی جلدی پیاز اور لہسن کاٹا اور ہنڈیا چولہے پر چڑھا دی۔

اس نے مٹر اٹھائے اور لیونگ روم میں آگئی، خوف ختم کرنے کے لیے اس نے ٹی وی آن کر جیسے اس کی آنکھوں کے سامنے پوری کوٹھی میں خوف کے سائے منڈ لا رہے ہوں۔

پورے کمرے میں سکوت چھایا ہوا تھا کہ اچانک سیٹی کی سی نسوانی آواز میں کسی نے رابعہ کی سماعت میں سرگوشی کی۔’’تتلیوں کے رنگ دیکھے ہیں۔۔۔‘‘

مٹروں کی ٹرے رابعہ کے ہاتھ سے چھوٹ گئی اور وہ حواس باختہ ہو کے کھڑی ہوگئی۔ 

’’کو۔۔۔کون ہو تم۔۔۔‘‘ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے چاروں طرف دیکھنے لگی مگر کمرے میں کوئی نہیں تھا۔ ایک بار پھر اسکی قوت سماعت میں سیٹی کی سی آواز میں سرگوشی ہوئی’’وہ سب رنگ موت کے ہیں۔‘‘

رابعہ کی قوت گویائی سلب ہوگئی اس کے ہاتھ پاؤں کانپنے لگے۔ وہ بوکھلائی ہوئی ادھر ادھر دیکھ رہی تھی پھر اسے خیال آیا کہ وہ گھر سے باہر چلی جائے۔ وہ ہمت کرکے دروازے کی طرف بڑھی تو ایک دم سیاہ غبار جالی والے دروازے سے چھن چھن کر کمرے میں آنے لگا۔ اس نے جلدی سے بڑا دروازہ بند کیا تو سیاہ دھواں دروازے کے شگافوں اور دروازے کے نیچے سے نکلتا ہوا پورے کمرے میں پھیل گیا۔ جس جس جگہ سے وہ سیاہ دھواں گزرتا جاتا، چیزوں کو جھلساتا جاتا۔

رابعہ پر خفتانی کیفیت طاری ہوگئی تھی۔ اسے دم کشی کی شکایت بھی ہو رہی تھی اور سیاہ دھویں کی حرارت بھی محسوس ہو رہی تھی۔ رابعہ کو اپنی موت کا یقین ہوگیا تھا۔ اسی دوران ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔

رابعہ پھولے ہوئے سانس کے ساتھ ڈھیلے ڈھیلے قدموں سے ٹیلی فون کی طرف بڑھنے لگی، اسے موت کی گمبھیر تاریکی میں جیسے زندگی کی کرن دکھائی دی۔ جونہی اس نے رسیور اٹھایا بھیانک سیاہ دھویں نے اس کا ہاتھ جھلسا دیا اس کے حلق سے چیخ نکلی اور رسیور اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ عمارہ لائن پر تھی، ماں کی چیخ سنی تو اس کے ہوش اڑ گئے۔

اس نے تیزی سے گاڑی کی چابی اٹھائی اور دروازے کی طرف دوڑی۔ عنبرپریشانی میں اس کی طرف بڑھی’’خیریت ہے اس طرح کہاں جا رہی ہو۔‘‘

’’It is urgentتم بس کلینک کا خیال رکھنا۔‘‘ عمارہ بس اتنا ہی کہہ پائی اور تیزی سے وہاں سے نکل گئی۔(جاری ہے)

وہ کون تھا ؟ایک خناس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ 53ویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /وہ کون تھا ؟