کرنل جوزف کو سفارتی استثنیٰ حاصل تھا اور وہ چلے گئے، ترجمان دفتر خارجہ

کرنل جوزف کو سفارتی استثنیٰ حاصل تھا اور وہ چلے گئے، ترجمان دفتر خارجہ
کرنل جوزف کو سفارتی استثنیٰ حاصل تھا اور وہ چلے گئے، ترجمان دفتر خارجہ

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ٹریفک حادثہ کیس میں نامزد امریکی دفاعی اتاشی کرنل جوزف کو سفارتی استثنا حاصل تھا جس کے تحت وہ چلے گئے جبکہ امریکا نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ان پر امریکا میں مقدمہ چلایا جائےگا۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ کرنل جوزف کو مکمل استثنا حاصل نہیں لہٰذا وزارت داخلہ ان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کےلئے دو ہفتوں میں فیصلہ کرے۔

دفتر خارجہ میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے نوجوان کو کچلنے والے امریکی سفارتکار کرنل جوزف کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کرنل جوزف کو سفارتی استثنا حاصل تھا اور وہ واپس چلے گئے، ان کے حوالے سے دیت کے معاملے کا علم نہیں ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ سفارتکاروں اور سفارتی حکام کو سفارتی استثنا حاصل ہوتا ہے، امریکا نے یقین دہانی کرائی ہے کہ کرنل جوزف پرامریکا میں مقدمہ چلایا جائے گا۔

امریکا اور پاکستان سفارتکاروں پر پابندیوں سے متعلق صحافی نے ترجمان سے سوال کیاکہ سفری پابندیوں کے جواب میں امریکی سفارتکاروں پر دیگر پابندیاں کیوں لگائی گئیں؟اس پر ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ پاکستانی سفارتکاروں پر سفری پابندیوں پر پاکستان نے جوابی پابندیاں لگائیں، امریکی سفارتخانے و عملے پر مزید پابندیاں نہیں، اضافی سہولیات واپس لی گئیں۔

انہوں نے بتایا کہ امریکی سفارتکاروں کو ماضی کی حکومتوں نے چند رعایتیں دی تھیں اور امریکی سفارتکاروں کومتعدد خصوصی سہولیات دے رکھی تھیں، اب ان سے یہ خصوصی سہولیات واپس لے لی گئی ہیں۔ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھاکہ امریکی سفارت کاروں کو مواصلاتی آلات کی تنصیب، سفارتی نمبرپلیٹس کی چھوٹ، شیشے کالے کرنے کی سہولیات اضافی تھیں۔فلسطین کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فیصل کا کہناتھاکہ پاکستان فلسطین کے معاملے پر دو ریاستی حل کا مو¿قف اپناتا ہے، فلسطین کا معاملہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حل ہونا چاہیے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان ایران اور پی فائیو معاہدے کی حمایت کرتا رہا ہے، ایران پر یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کرتے ہیں۔ترجمان نے مقبوضہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے اندر بھی مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے آوازیں اٹھ رہی ہیں، بھارت دنیا کی نظر مقبوضہ کشمیر سے ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھاکہ بھارتی میڈیا پاکستان کے حوالے سے غیرمعمولی طور پرفعال رہتا ہے۔منزہ ہاشمی کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ فیض احمد فیض کی بیٹی منزہ ہاشمی کو بھارت بلاکرمحصور کرنا اورخطاب نہ کرنے دینا قابل مذمت ہے۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد


loading...