شکاری۔۔۔ شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان... قسط نمبر 10

شکاری۔۔۔ شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان... قسط نمبر 10
شکاری۔۔۔ شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان... قسط نمبر 10

  



پچھلی بار جو میں لاہور گیا تو ایک روز مجھے ایک صاحب نے فون کیا اور بتایا کہ وہ پنجاب اسمبلی کے ممبر ہیں اور مجھے ملنا چاہتے ہیں..... میں نے اسے پتہ بتادیا اور وقت ملاقات ..... وہ بروقت آئے ..... جو ان آدمی تھے ..... اور غالباً مظفر گڑھ کے زمیندار تھے..... شکار کے شوقین تھے ..... حیرت ان کی سادہ مزاجی اور اخلاقی پر تھی ..... ورنہ پنجاب اسمبلی کے ارکان تو فرعون بے سامان ہوتے ہیں ..... انھیں میں سے ایک صاحب نے ایک پولیس افسر کی سرراہ پٹائی کر کے اپنے آپ کو مظلوم ثابت کردیا ..... 

لیکن یہ جو مجھ سے ملنے آئے تھے نہایت مہذب اور معقول آدمی معلوم ہوتے ..... شکار ی تھے اور اسی سبب سے ان کو مجھ سے ملنے کی تمنا ہوئی ..... میرے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں ..... امریکہ میں بھی شکاری دوست لوگ مجھے سے ملنے اور بعض لوگ میرے ساتھ شکار پر جانے کی خواہش کرتے تھے ..... ان دونوں جبکہ میں یہ کتاب لکھ رہا ہوں میرے ایک جاننے والے ..... ڈاکٹر پیٹ ٹیٹ (Dr. PAT TATE) جو مارمیسٹ (PHARMACIST) ہیں بالاخر مجھے اس امر پر راضی کرنے میں کامیاب ہوگئے کہ میرے ساتھ شکار پرجائیں ..... اور اب وہ خود بخود شکار کے سارے انتظامات کررہے ہیں ..... 

شکاری۔۔۔ شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان... قسط نمبر 9 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

سات اکتوبر کی شام ہم ٹلسا سے روانہ ہو کر ..... انشاء اللہ تعالیٰ سبحانہ ..... آٹھ اکتوبر کو قبل دوپہر کولوربڈر کے برف پوش پہاڑوں میں بولڈر (BOULDER) پہنچیں گے ..... اور ایک گھنٹہ بعد پہاڑ کی بلندی پر واقع کیمپ میں ..... یہاں پیٹ Petخیمے نصب کریں گے ..... ھر اس روز مکمل آرام کریں گے اور سوئیں گے وہاں ایک دن اس طرح گزارنے کا سبب یہ کہ دس ہزار فٹ کی بلندی پر آکسیجن نسبتاً کم ہوجاتی ہے ..... ایک روز وہاں کے رہنے کے بعد جسم اس ہوا سے مناسبت پیدا کر لیتا ہے .....

اس شکار کی تفصیل اور تصاویر ایک مکمل کتاب کی شکل میں انشاء اللہ سبحانہ..... شائع ہوں گی میں نے اس کتاب کا آغاز ابھی نہیں کیا ..... امید ہے کہ اکتوبر کی پہلی تاریخ سے اس کی تحریر کا کام شروع ہوگا ..... 

قطب شمالی کے قریب شمار :

یہ مکمل کتاب صرف ایک ہی شکار کے مفصل واقعات پر مبنی ہوگی اور اس میں کارلورریڈو کے برف پوش پہاڑوں میں میرے دس روز شکار کی پوری داستان تفصیل کے ساتھ بیان کی جائے گی ..... اس ے پہلے میں نے جتنی کتابیں لکھیں ..... شکار کے بارے میں ..... ان میں میرے مختلف شکاروں کے قصے ہوا کرتے تھے ..... ہر کتاب میں پانچ چھ واقعات ..... لیکن اب میں نے یہ طریقہ کار تبدیل کر دیا ..... اب میں جس شکار پر جاؤں گا انشاء اللہ صرف اس بارے میں پوری ایک کتاب لکھوں گا ..... اس طرح نہ صرف شکار کی تفصیلات ..... بلکہ ‘ ماحولُ اتفاقات‘ مقامات کی تفصیل ‘ مشاہدات و تجزیات اور دوسری متعلقہ معلومات..... مہیا ہوں گی ..... اور میرا ہر شکار ایک دستاویز بنتا جائے گا ..... 

میں وہ واحد شکاری ادیب ہوں جس نے شکار کے واقعات کو ادب کا مقام عطا کیا ..... ابھی تک اس موضوع پر جو افسانے لکھے گئے اول تو وہ سارے کے سارے فرضی واقعات ہوا کرتے تھے ..... اور ان کے مصنفین ادیب بھی نہیں تھے ..... ان واقعات کو قابل اعتنا تصور نہیں کیا گیا ..... ان میں بعض تراجم بھی ہوئے ..... !

اس کے برعکس میری تالیفات نہ صرف سچے واقعات اور تجربات پر مبنی ہیں بلکہ ان کا حسن بیان ‘ ان کا طرز تحریر ‘ زبان ‘ محاورات ‘ اور حسن سب منفرد ہیں ..... جو کسی بھی ادبی تالیف کے برابر ہیں ..... وہ سارے عناصر جن کے مجموعے سے ایک کامیاب افسانہ بنتا ہے ..... وہ سب میرے واقعات میں بدرجہ اتم موجود ہیں ..... مستزادیہ کہ سارے واقعات سچے ہیں ..... سارے ہی ادب کا حصہ ہیں ..... 

میں نے کسی شکار کے بارے میں نہیں پڑھا نہ سنا کہ وہ ادیب اور شاعر بھی ہے ..... بحمداللہ مجھے اللہ تعالیٰ سبحانہ نے ان دونوں صفات سے بھی نوازا ہے ..... میری متعدد ناولیں ..... افسانے شائع ہو چکے کلام کے دو مجموعے ..... نیم سند ..... اور ..... زینب حنا..... شائع ہو چکے ..... منظوم تاریخ پاک و ہند کا پہلا حصہ شائع ہوا ..... تیسرا مجموعہ کلام’ ’ جگنو شبنم تارے‘ ‘ !

شعر و ادب میں الحمداللہ میرا اک مقام ہے ..... میرا نام ہے ..... خواہ میں کتاب ہی غیر معروف کیوں نہ ہو ..... لیکن ادب میں میرا تذکرہ کرنا گزیر ہوگا ..... ناقد سخن مجھے نظر انداز نہ کر سکے گا ..... انشاء اللہ ..... ! اور اگر یہ سب نہ بھی ہو ..... تو مجھے کیا فرق پڑے گا..... میرا نام پہلے بھی کہیں نہیں ہے ..... آئندہ نہ ہوگا تو کیا ہو جائے گا ..... !مجھے جو کرنا تھا کیا ..... جو لکھنا تھا لکھا ..... اور نہیں معلوم..... ابھی اور کتنا ادب و شعر و سخن اور شکاریات تخلیق کروں گا۔

اب جبکہ بحمداللہ فکر معاش سے آزاد ہوں ..... میرے ادبی تخلیقات کا دائرہ وسیع تر ہوتا جا رہا ہے اب میں تخلیق شعر و ادب میں کہیں زیادہ فعال ہوں ..... لکھ رہا ہوں ..... !

مجھے شکار بے انتہا عزیز ہے ..... میں بندوق یا رائفل ہاتھ میں لے کر جب میدانوں ‘ پہاڑوں وادیوں اور مرغزاروں میں محوخرام ہوتا ہوں تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خدائے رحیم و کریم نے مجھے دنیا میں بھی فردوس بریں عطا فرمائی ہے ..... اور عقبیٰ میں انشاء اللہ تعالیٰ اپنی رحمت و عنایت سے ہی نوازے گا اور مجھے فردوس میں دس بیس لائٹ ایرز پر محیط شکار گاہ عطا فرمائے گا جہاں میں ہمیشہ شکار میں ہی مصروف رہوں گا اور اس خالق کائنات کا شکر ادا کرتا رہوں گا .....

میں اب بھی اس کا شکر گذار بندہ ہوں ..... میری نماز کی قضا نہیں ہوتی ..... میں کہیں بھی ہوتا ہوں ..... نماز سے غافل نہیں..... حتیٰ کہ آدم خورشیر کے جنگل میں جبکہ کسی بھی لمحے اس کے حملے کا خطرہ ہوا کرتا تھا ..... میں نے نماز قضا نہیں کی ..... اشاروں میں کھڑے کھڑے ادا کی ..... لیکن قضا نہیں کی ..... اور دوسرے ارکان بھی حتی الامکان ادا کرتا ہوں ..... اللہ کا شکر ہے ..... تلاوت قرآن میرا معمول ہے ..... حدیث و تفسیر میرے مطالعے میں رہتی ہیں .....

اللہ تعالیٰ سبحانہ نے میرے وقت میں بھی برکت عطا فرمائی ہے ..... مجھے وقت کی تنگی کا کبھی شکوہ نہیں ہوتا جو کام مجھے کرنا ہوتا ہے اس کا وقت میرے پاس ہوتا ہے ..... شکار..... دن رات میرا مشغلہ ہے ..... شاعری ..... مشاعرہ میں شرکت جس کے لیے مجھے دوسرے شہروں سے دعوت نامے آتے رہتے ہیں اور میں اکثر جاتا ہوں ..... تخلیق ادب ..... گھر میں وسیع و عریض پائیں باغ میں باغبانی ..... پھولوں کے پودوں کی آبیاری ..... اپنے بیٹے کے ساتھ گھر کی نگہداشت کا کام ..... دوسرے تیسرے روز لافار چون (LAFOR TUNE)ُ پارک جا کر پارک کا ایک چکر ..... جو ساڑھے تین میل کا فاصلہ ہے اور ہر میل پرسنگ میل نصب ہیں ..... اس کے علاوہ آمدورفت ملنا ‘ جلنا سیروتفریح ..... پوتے اور نواسوں کے ساتھ کچھ وقت ..... بیٹی اور بیٹوں کے ساتھ کچھ وقت گزاری ..... ٹیلیفون ..... خطوط نویسی ..... ساری دنیا کے مختلف مقامات سے آنے والے احباب کے خطوط کے جوابات !

اس تمام مصروفیات کے بعد میں میرے پاس اتنا وقت ہوتا ہے کہ اپنی رفیقہ حیات کے ساتھ وقف گزاروں ..... اور ٹی وی دیکھوں ..... امریکہ کا ٹی وی اس قدر معلومات بہم پہنچاتا ہے جس کا تصور بھی ممکن نہیں ..... ویسے تو مخرب اخلاق پروگراموں کی افراط ہوتی ہے ..... لیکن علمی و معلوماتی پروگرام بھی ہوتے ہیں ..... ادبی پروگرام بھی ..... مذہبی بھی ..... اور تفریحی بھی ..... مخرب اخلاق پروگرام کی مخصوص چینلز ہیں ..... تین چینلز ..... جبکہ میری ٹی وی پر چالیس چینلز چوبیس گھنٹے آتے رہتے ہیں ..... 

میرے دونوں بیٹے شکار کے شوقین صرف اس حد تک ہیں کہ یہ ایک خاندانی ورثہ ہے ..... وہ دونوں بھی رسماً اس سے شغف رکھتے ہیں ..... لیکن میری طرح جنون نہیں ہے اور یہ اچھا بھی ہے کیونکہ ان کی زندگیوں کا آغاز ہے ..... ابھی ان کا پورا مستقبل سامنے ہے..... ان دونوں میں سے کوئی شاعر بھی نہیں ہے ..... ادیب بھی نہیں ہے لہٰذا شعر و ادب میرے ساتھ ختم ہو جائے گا..... لیکن شکار جاری رہے گا ..... انشاء اللہ ..... !

میں جب بندوقیں صاف کرنے بیٹھتا ہوں تو میرا ڈھائی سالہ پوتا ان میں بہت دلچسپی لیتا ہے اور تادیران ہی میں مصروف رہتا ہے ..... مجھے امید ہے کہ انشاء اللہ بڑا ہو کر شکار ضرور ہوگا ..... انشا ء اللہ (جاری ہے )

شکاری۔۔۔ شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان... قسط نمبر 11 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /شکاری