ترکی اسرائیل کے خلاف کھل کر میدان میں آگیا، دنیا کے تمام اسلامی ممالک سے ایسا کام کرنے کی اپیل کردی کہ ہر مسلمان کا دل جیت لیا

ترکی اسرائیل کے خلاف کھل کر میدان میں آگیا، دنیا کے تمام اسلامی ممالک سے ایسا ...
ترکی اسرائیل کے خلاف کھل کر میدان میں آگیا، دنیا کے تمام اسلامی ممالک سے ایسا کام کرنے کی اپیل کردی کہ ہر مسلمان کا دل جیت لیا

  

انقرہ(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ کی طرف سے اپنا سفارتخانہ مقبوضہ بیت المقدس منتقل کیے جانے کے بعد سے فلسطینی سراپا احتجاج ہیں اور غاصب اسرائیلی فوج ان پر بارود کی بوچھاڑ کر رہی ہے۔ ایسے میں اسلامی دنیا سے ایک ہی توانا آواز اٹھ رہی ہے جو ترک صدر رجب طیب اردگان کی ہے جنہوں نے اسرائیلی سفیر کو بھی ملک بدر کر دیا ہے۔ اب ترکی نے اسلامی ممالک سے اسرائیل کے خلاف متحد ہونے کا مطالبہ بھی کر دیا ہے تاکہ فلسطینیوں کو ان کا حق دلوایا جا سکے۔ میل آن لائن کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ان کی لفظی جنگ بھی شروع ہو چکی ہے۔ گزشتہ تین روز میں اسرائیلی فوج کی طرف سے 60سے زائد فلسطینیوں کو شہید کرنے پر رجب طیب اردگان نے اسرائیل کو دہشت گرد ملک قرار دیا تھا جس پر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ٹوئٹر پر کہا کہ ”اردگان حماس کے بڑے حامیوں میں سے ایک ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ دہشت گردی اور قتل و غارت کو سمجھتے ہیں۔ میں انہیں صلاح دوں گا کہ ہمیں اخلاقیات کا سبق مت سکھائیں۔“

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

بنیامین نیتن یاہو کے اس ٹویٹ کے جواب میں رجب طیب اردگان نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر کہا کہ ”نیتن یاہو نسلی عصبیت رکھنے والے ملک کے وزیراعظم ہیں جس نے 60سال سے زائد عرصے سے نہتے لوگوں کی زمینوں پر قبضہ کر رکھا ہے اور یہ قبضہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ نیتن یاہو کے ہاتھوں پر فلسطینیوں کا خون ہے اور ترکی پر حملہ آور ہو کر وہ اپنے ان جرائم کو نہیں چھپا سکتے۔انہیں انسانیت کا سبق چاہیے تو 10کمانڈمنٹس (Commandments)پڑھ لیں۔“ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ 10کمانڈمنٹس بائبل میں اخلاقیات اور عبادات کے متعلق بیان کردہ 10احکامات ہیں اور عیسائیت اور یہودیت میں یہ کمانڈمنٹس بنیادی اہمیت کی حامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق رجب طیب اردگان نے اسلامی ممالک سے اسلامی تعاون تنظیم کا اجلاس بلانے اور اسرائیل کے خلاف متحدہ ہونے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ یہ اجلاس جمعہ کے روز استنبول میں ہو گا۔ اس کے متعلق ترک صدر کا کہنا تھا کہ ”اس اجلاس کے ذریعے ہم دنیا کو فلسطینیوں کی تحریک کے حق میں اور اسرائیل کے خلاف سخت پیغام دیں گے۔“

مزید : بین الاقوامی