چھٹیاں منانے گیا سیاح جنسی تعلقات کے ذریعے منتقل ہونے والی انتہائی خطرناک نئی بیماری کا شکار ہوگیا جس کا کوئی علاج بھی نہیں، جان کر سائنسدانوں کے بھی ہوش اُڑگئے

چھٹیاں منانے گیا سیاح جنسی تعلقات کے ذریعے منتقل ہونے والی انتہائی خطرناک ...
چھٹیاں منانے گیا سیاح جنسی تعلقات کے ذریعے منتقل ہونے والی انتہائی خطرناک نئی بیماری کا شکار ہوگیا جس کا کوئی علاج بھی نہیں، جان کر سائنسدانوں کے بھی ہوش اُڑگئے

  



لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) جنسی تعلقات کے ذریعے پھیلنے والی بیماری ایڈز ہی کا علاج تاحال دریافت نہ ہو سکا تھا کہ اب چھٹیاں منانے گئے ایک برطانوی سیاح کو جنسی تعلق ہی کے ذریعے ایک ایسی نئی لا علاج بیماری لاحق ہو گئی ہے کہ جان کر سائنسدانوں کے بھی ہوش اڑ گئے۔ ڈیلی سٹار کے مطابق یہ برطانوی سیاح ایک جنوب مشرقی ایشیائی ملک میں سیاحت کی غرض سے گیا تھا جہاں اس نے کسی خاتون کے ساتھ جنسی تعلق استوار کیا۔ جب وہ واپس گیا تو اس کی طبیعت خراب ہوئی اور ٹیسٹ کرانے پر ڈاکٹروں نے انکشاف کیا کہ اسے ’گونریا‘ (Gonorrhoea)نامی خطرناک بیماری لاحق ہو چکی ہے، جو کہ لاعلاج ہے اور اس پر کوئی اینٹی بائیوٹک اثر نہیں کرتی۔

پبلک ہیلتھ انگلینڈ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی طرف سے اس بیماری کے لیے جو دو ادویات Bothceftriaxoneاور Azithromycinتجویز کی جاتی ہیں وہ دونوں بے اثر ثابت ہوئی ہیں۔دوسری طرف ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے سائنسدان اس مریض پر تجربات کے بعد بتایا ہے کہ یہ گونریا کی ایک نئی قسم سامنے آئی ہے جس کا اس سے قبل آج تک کوئی کیس نہیں دیکھا گیا۔ یہ نئی بیماری بھی ایڈز کی طرح جنسی تعلق سے پھیلتی ہے اور اس پر تمام اینٹی بائیوٹکس کوئی اثر نہیں کرتیں۔ڈاکٹر گوینڈا ہفس کا کہنا تھا کہ ”یہ نئی بیماری ہیلتھ کیئر کے پروفشنلز کے لیے ایک نیا چیلنج ہے۔ اس وقت اس سے بچنے کا جو راستہ موجود ہے وہ صرف محفوظ جنسی تعلق ہے۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس /بین الاقوامی


loading...