احتجاج کرتے نہتے فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج نے اپنا جدید ترین ہتھیار آزما ڈالا، یہ کون سا ہتھیار ہے؟ جان کر ہر مسلمان کا دل خون کے آنسو روئے گا

احتجاج کرتے نہتے فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج نے اپنا جدید ترین ہتھیار آزما ...
احتجاج کرتے نہتے فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج نے اپنا جدید ترین ہتھیار آزما ڈالا، یہ کون سا ہتھیار ہے؟ جان کر ہر مسلمان کا دل خون کے آنسو روئے گا

  



یروشلم(نیوز ڈیسک)گزشتہ دنوں مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینیوں نے غزہ کی پٹی کے سرحدی علاقوں میں اسرائیل کے خلاف احتجاج کیا گیا تو ان پر ڈرون طیاروں سے آنسو گیس پھینکی گئی۔ پیر اور منگل کے روز ان نہتے احتجاجی مظاہرین پر ڈرون طیاروں سے زہریلی گیس پھینکنے کا واقعہ متعدد بار پیش آیا جس پر عالمی میڈیا نے بھی حیرت کا اظہار کیا کہ آخر مٹھی بھر احتجاجی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے ایسی ٹیکنالوجی استعمال کی ضرورت پیش کیوں آئی۔

مڈل ایسٹ آئی کے مطابق متعدد میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل نے ایک نہیں بلکہ تین مختلف قسم کے ڈرون طیارے مظاہرین پر گیس پھینکنے کے لئے استعمال کئے۔ ان میں سے پہلا اسرائیلی کمپنی ISPRAکا تیار کردہ سائیکلون رائٹ کنٹرول ڈرون سسٹم ہے۔ یہ ایک چھوٹا ڈرون ہے جو زہریلی گیس کے ایلومینیم سے بنے 9 شیل لے کر جاتا ہے۔ یہ شیل زمین پر گرنے کے بعد پھٹتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس چھوٹے ڈرون کے علاوہ دو نئی قسم کے ڈرون بھی استعمال کئے گئے ہیں جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے۔ انہیں احتجاجی مظاہرین کے خلاف استعمال کرنے کا صرف ایک مقصد اس نئی ٹیکنالوجی کو ٹیسٹ کرنا تھا۔ دوسری قسم کا ڈرون شیل نہیں پھینکتا بلکہ براہ راست ڈرون سے ہی گیس خارج ہوتی ہے جو مظاہرین کے اوپر ایک گہرے بادل کی صور ت اختیار کرلیتی ہے۔ تیسرا ڈرون پہلے دونوں سے زیادہ خطرناک ہے۔ اس میں سے ربر کے گرینیڈ پھینکے جاتے ہیں جن کی بیرونی تہہ دھات کی ہوتی ہے اور اس کے پھٹنے سے زہریلی گیس خارج ہوتی ہے۔ ان مہلک ڈرونز کے استعمال کا ہی نتیجہ تھا کہ پیر اور منگل کے روز ہونے والے مظاہرے میں شریک درجنوں افراد جاں بحق ہوئے جبکہ زخمی ہونے والوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔

مزید : بین الاقوامی


loading...