رمضان کا منافع اور ہم سب

رمضان کا منافع اور ہم سب
رمضان کا منافع اور ہم سب

  

نعمتوں اور برکتوں کا مہینہ رمضان ایک دفعہ پھر ہمارا مہمان بن کر آگیا ہے ۔مگر ہم بھی کیا لوگ ہیں نعمت اور برکت کو زحمت بنا دیتے ہیں ۔ان غریب لوگوں کےلئے جو مہنگائی کے ہا تھوں پہلے ہی تنگ ہیں ۔نیکی اور ایثار کا یہ مہینہ ہمیں کیا یہی سکھاتا ہے کہ ہم سال بھر کا منافع اس ایک مہینے میں کما لیں؟رمضان اپنے ساتھ دوہری خوشیاں لے کر آیا،ایک خود آیا اور دوسری خوشی کی بات اس رمضان میں یہ ملی ہے کہ بہت عرصے بعد نہ صرف پاکستان کے مسلمانوں بلکہ پوری امت مسلمہ نے ایک ہی دن روزہ رکھا ہے اور اس طرح اسلامی وحدت کا ایک پیغام پوری دنیا کو چلا گیا ہے۔ویسے دنیا بھر میں جب بھی کوئی بھی تہوار ہو تو کاروباری حضرات خصوصی طور پر اشیا ضروریہ کی قیمتوں میں کمی کردیتے ہیں لیکن ہمارے وطن عزیز میں ایک عرصہ سے یہ عمل دیکھنے کو آرہا ہے کہ جونہی رمضان کا مبارک مہینہ آتا ہے تو اشیا ضروریہ اور پھلوں کی قیمتوںمیں ہوشربا اضافہ کردیا جاتا ہے جس کے باعث جو اشیا پہلے ہی غریبوں کی پہنچ سے دور ہوتی ہیں ان کی استطاعت سے مزید باہر ہوجاتی ہیں۔

اب بھی رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی بازاروں اور ڈیپارٹمنٹل سٹورز پر رش لگ گیا ہے لیکن اس دفعہ ایک بہت ہی خوش آئند چیز بھی دیکھنے میں آ رہی ہے کہ یہ رش ان لوگوں کا نہیں ہے جو کہ اپنے لیے خریداری کررہے ہیں بلکہ یہ وہ مخیر اور خدا ترس لوگ ہیں جو کہ اپنے دوسرے مسلمان بھائیوں کی افطاری کے لیے راشن خریدنے کے لیے خریداری میں مصروف ہیں۔ویسے بھی پوری دنیا میں پاکستانی قوم چیرٹی اور فلاح و بہبود کے کاموں کے لیے بہت مشہور ہے ۔رمضان ویسے بھی روزہ داروں کو صبر و تحمل اور آپس میں مل جل کر رہنے کا درس دیتا ہے اور اس رمضان کی برکات کی وجہ سے تمام پاکستانی بھی ایک دوسرے کے دکھ درد میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔میرے لیے یہ امر واقعی ہی باعث تسکین تھا جب میں نے رمضان میں دیپارٹمنٹل سٹورز پر راشن کے بڑے بڑے پیکٹ دیکھے جو کہ لوگ دھڑا دھڑ لے رہے ہیں اور ایک دوسرے کی مدد کی خاطر اللہ کی راہ میں دے رہے ہیںضرورت اس بات کی ہے کہ رمضان کے اس جذبہ کو اس مہینے تک ہی محدود نہیں رہنے دینا چاہیے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس مقدس مہینے کی طرح نہ سہی لیکن اپنی استطاعت کے مطابق پورا سال کسی نہ کسی کو راشن دیتے رہیں تاکہ سب لوگ اپنی خوشیاں ہماری طرح منا سکیں اور اس کے لیے کوئی اضافی خرچ نہیں کرنا پڑتا بس یہ ہے کہ ہمیں اپنی ایک آدھے دن کی ہوٹلنگ ختم کرکے کسی کے راشن کے لیے تھوڑی سی بچت کرنا پڑتی ہے۔

گزشتہ رمضان المبارک میں پھلوں کی ہوشربا قیمتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے لوگوں نے پھلوں کا بائیکاٹ کردیا تھا جس کے باعث آخر کار ان اشیائے ضروریہ کی قیمتیں اپنے توازن پر آہی گئی تھیں اور اس دفعہ رمضان کے آغاز سے پہلے ہی برائلر مرغی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے دوستوں نے اس کے بائیکاٹ کی مہم چلارکھی ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ اس طرح کے بائیکاٹ سے اگر جز وقتی فائدہ ہو بھی جاتا ہے تو پھر بھی ہمارے ساہوکار بعد میں کسر پوری کرلیتے ہیں ۔اس حوالے سے پوری قوم کو ایجوکیٹ کرنے کی ضرورت ہے کہ ہمیں رمضان شریف میں اس مہینے کی برکات سے فائدہ اٹھانے کی تیاری کروائی جائے نہ کہ کاروبار کرنے کی ۔

اس لیے ہمیں چاہیے کہ اس پاک مہینے کی برکات سمیٹنے کے لیے سب سے اہم سبق صبر کو سمجھیں او رکم از کم اس ایک مہینے میں سود خوری اور منافع خوری سے پرہیز کرتے ہوئے ملاوٹ سے پاک حلال مال بیچیں تاکہ نہ صرف ہمیں دنیا میں فائدہ ہو بلکہ ہماری آخرت بھی سنور جائے۔رمضان کے ہر روزے میں ہمیں اپنے ساتھ بہت سے نادار اور ان غریبوں کا بھی خیال رکھنے کی ضرورت ہے جو کہ اس طرح کا تعیش ایفورڈ نہیں کرسکتے جو کہ ہم کرتے ہیں اس لیے اپنے دستر خوانوں کو وسیع کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے دلوں کو بھی وسیع کریں تاکہ مل بانٹ کر کھایا جاسکے۔اور یہی اس ماہ مقدس کا پیغام ہے اور یہی رمضان کا منافع۔

 ۔۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ