نئے صوبوں پر پرانی سیاست

نئے صوبوں پر پرانی سیاست

جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے لئے حکومت نے مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی سے مدد مانگ لی ہے، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اپنے فیصلے پر نظر ثانی کر کے جنوبی پنجاب کو صوبہ بننے دے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ مسلم لیگ (ن) میں بھی بہت سے لوگ جنوبی پنجاب صوبے کے حق میں ہیں، لیکن مسلم لیگ (ن) کے کچھ لوگ ماضی کے اس بل کی قید میں پھنسے ہوئے ہیں جو انہوں نے پیش کیا تھا، بہاولپور صوبہ ویسے بھی منطقی بات نہیں، یہ بھلا کیسے ممکن ہے کہ صرف تین ضلعوں پر مشتمل صوبہ بنا دیا جائے، اس کی الگ اسمبلی ہو اور سینٹ میں بھی اس کی نشستیں ہوں۔ اس طرح بات آگے بڑھتی دکھائی نہیں دیتی، صوبے کے قیام کے لئے دو تہائی اکثریت ضروری ہے۔ ہم اس پر اتفاق رائے کے لئے کوششیں جاری رکھیں گے، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلزپارٹی صوبے کے قیام کے سلسلے میں ہمارے ساتھ ہے۔ میں نے ان سے جو ابتدائی رابطہ کیا اس کا مثبت جواب ملا، ماضی میں دو تہائی اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے پیپلزپارٹی صوبہ نہیں بنا سکی تھی مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے اس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شاہ محمود لوگوں کو جنوبی پنجاب کے نام پر بیوقوف بنانا بند کر دیں۔ ان کا کہنا تھا مسلم لیگ (ن) جنوبی پنجاب اور بہاولپور صوبے بنانے کے لئے بل قومی اسمبلی میں جمع کرا چکی ہے، جو اس وقت قائمہ کمیٹی میں موجود ہے۔ انہوں نے شاہ محمود سے کہا کہ وہ حکومتی نمائندوں سے کہیں کہ وہ بل پر فوری طور پر پیش رفت کرائیں۔

جنوبی پنجاب (یا کوئی بھی دوسرا) صوبہ بنانے کے لئے ضروری ہے کہ قومی اسمبلی اور سینٹ سے آئینی ترمیم کا بل دو تہائی اکثریت سے منظور کرایا جائے اور جس صوبے کی حدود میں تبدیلی کی ضرورت ہے اس کی اسمبلی بھی دو تہائی ووٹوں کی اکثریت سے نئے صوبے کے حق میں قرارداد منظور کرے، اس وقت حکمران جماعت کے پاس نہ تو وفاق میں دوتہائی اکثریت ہے اور نہ ہی پنجاب میں، دونوں جگہ اس نے دوسری جماعتوں کے تعاون سے حکومتیں بنا رکھی ہیں جن کی بنیاد زیادہ مضبوط نہیں، صوبے کے مسئلے پر تو حکومت کی حلیف جماعت مسلم لیگ (ق) بھی تحریک انصاف کے ساتھ نہیں اور ایک وفاقی وزیر جن کا اس جماعت سے تعلق ہے بہاولپور صوبے کے زبردست حامی ہیں اور ڈنکے کی چوٹ پر کہتے ہیں کہ اگر بہاولپور صوبہ نہ بنا تو جنوبی پنجاب بھی نہیں بن سکتا، لیکن شاہ محمود کا موقف ہے کہ تین ضلعوں پر صوبہ کیسے بن سکتا ہے اس کا جواب اگر بہاولپور صوبے کے حامیوں سے لیا جائے تو وہ ایک دفتر کھول کر بیٹھ جاتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ریاست بہاولپور کے زمانے میں بھی یہی تین اضلاع اس ریاست کا حصہ تھے۔ جب سے ریاست ختم ہوئی ہے اس وقت سے آج تک اس علاقے میں کوئی نیا ضلع تک نہیں بنا، اس لئے یہ علاقہ پسماندگی کے گڑھے میں گر چکا ہے، جس کا علاج سابق ریاست بہاولپور کی بطور صوبہ بحالی ہے جس طرح جنوبی پنجاب کے حامیوں کے پاس دلائل ہیں اسی طرح بہاولپور صوبے کے حامی بھی دلائل سے لیس ہیں۔ فی الحال ہم اس بحث میں نہیں پڑتے کہ جنوبی پنجاب صوبے کے حامیوں کے دلائل وزنی ہیں یا بہاولپور کے، لیکن اتنا ضرور ہے کہ کوئی ایک رکن بھی محض نئے صوبے کے معاملے پر ووٹ لے کر کامیاب نہیں ہوا۔ تحریک انصاف کو جنوبی پنجاب سے زیادہ نشستیں ضرور ملیں لیکن ان ہی ارکان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو بہاولپور صوبے کے حامی ہیں، تو کیسے فرض کرلیا جائے کہ جنوبی پنجاب کے لوگوں میں صوبے پر اتفاق ہے۔ جن وجوہ کی بنیاد پر جنوبی پنجاب صوبے کی خواہش کی جارہی ہے۔ اسی بنیاد پر بہاولپور صوبے کے خواہشمند بھی یہی چاہتے ہیں، بلکہ اگرپنجاب سے باہر نکلا جائے تو صوبہ کے پی کے میں ہزارہ اور سندھ میں جنوبی سندھ صوبے کے حامی بھی ایسے ہی دلائل سے مسلح ہیں، لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ جنوبی پنجاب صوبے کے حامیوں کو دوسرے صوبے گوارا نہیں اور وہ اس پر طیش میں آجاتے، بلکہ اشتعال انگیز گفتگو کرنے لگتے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) نے جو بل قومی اسمبلی میں حال ہی میں پیش کیا تھا وہ اس وقت قائمہ کمیٹی کے سپرد ہے وہاں اس پر سیر حاصل بحث ہونی چاہئے اور پھر ایوان میں بحث اور رائے کے لئے پیش ہونا چاہئے، پہلے سے ایک بل کی موجودگی میں دوسرا بل پیش کردینا کاٹھی پر کاٹھی ڈالنے کے مترادف ہے، حالانکہ سارے فریقوں میں سے کوئی بھی اس قابل نہیں کہ اس بل کو دوتہائی اکثریت سے منظور کراسکے۔ مسلم لیگ (ن) کابل تو کیا منظور ہوگا، خود حکمران جماعت بھی جس کا دعویٰ ہے کہ پیپلز پارٹی اس کے بل کی حامی ہے بل منظور کرانے کی پوزیشن میں نہیں، اگر کسی نہ کسی طرح قومی اسمبلی میں بل پاس ہو جاتا ہے تو پھر پنجاب اسمبلی میں مشکل ہوگی، کیونکہ یہاں پیپلز پارٹی کی حمایت کے باوجود دوتہائی اکثریت سے قرار داد منظور نہیں ہوسکتی، اگر تحریک انصاف جنوبی صوبے کے حق میں سنجیدہ ہے تو اس کا بہترین حل یہ ہے کہ جس طرح افہام و تفہیم سے 26ویں آئینی ترمیم کا بل منظور کرایا گیا ہے اسی طرح جنوبی پنجاب کے معاملے پر بھی اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔ ضم شدہ فاٹا علاقوں کے لئے نشستیں بڑھانے کا معاملہ تو کوئی متنازع نہیں تھا اس لئے یہ بل منظور ہوگیا۔

جنوبی پنجاب صوبے کے خلاف سب سے پہلے تو مسلم لیگ (ق) میدان میں اتری ہوئی ہے، کیونکہ اسے بہاولپور کے بغیر ایسا صوبہ منظور نہیں، تاہم اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے سیاسی کوششوں کا آغاز کیا جاسکتا ہے اور شاہ محمود اپوزیشن جماعتوں سے جس تعاون کے طلبگار ہیں وہ حسن معاملت سے ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ اخبار میں بیان دے کر یا پریس کانفرنس کرکے تعاون طلب کرنے کا طریقہ شاید کامیاب نہ ہو۔ اس کے لئے تحریک انصاف کو ”جرگہ“ لے کر مسلم لیگ (ن) کے پاس جانا ہوگا اور ایسا کرنے کے لئے پہلے تلخیاں کم کرنا ہوں گی۔ موجودہ فضا میں تو شاید گفت و شنید ہی ممکن نہ ہو، تعاون تو دور کی بات ہے۔ اشتعال دلا کر تعاون طلب کرنے کا طریقہ کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔ اس کے لئے سلسلہ جنبانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ پس پردہ کوششیں کرنی پڑتی ہیں۔ بیک ڈور رابطے کے لئے موثر شخصیات کی خدمات حاصل کرنی پڑتی ہیں تب کہیں جاکر برف پگھلتی ہے۔ چور ڈاکو کی گردان سے ایسا تعاون نہ کبھی ملا ہے اور نہ ملے گا، تحریک انصاف تجربہ کرنا چاہتی ہے تو کرکے دیکھ لے،لیکن لگتا ہے وہ بھی اس معاملے پر سیاست کر رہی ہے جس کا فائدہ یہ ہے کہ دوسرے سنگین مسائل سے توجہ تھوڑی دیر کے لئے ہٹ جاتی ہے۔ بظاہر یہ کوشش بھی ایسی ہی نظر آتی ہے، اگر واقعی جنوبی پنجاب صوبہ درکار ہے تو پھر راستہ بھی ایسا اختیار کرنا ہوگا جس کے ذریعے منزل پرپہنچا جاسکے، کیا اس معاملے کے سارے فریق ایسی کوششوں کا آغاز کرسکتے ہیں؟

مزید : رائے /اداریہ