چیئرمین ایف بی آر کا مستحسن فیصلہ

چیئرمین ایف بی آر کا مستحسن فیصلہ
چیئرمین ایف بی آر کا مستحسن فیصلہ

  

ٹیکس امور کے ماہر جناب شبر زیدی نے ایف بی آر کی چیئرمین شپ پر تعیناتی کے فوری بعد اپنے پہلے بزنس دوست آرڈر کے ذریعے کاروباری ماحول میں اطمینان سکون اور کاروباری افراد میں تحفظ و تسلسل کا احساس ا ُجاگر کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لگ بھگ تمام بڑی کاروباری تنظیموں نے چیئرمین کے جرات مندانہ فیصلہ کو قابل تحسین قرار دیا ہے۔ ٹیکس ریکوری کے سلسلے میں ایف بی آر حکام کے خود ساختہ یک طرفہ آمرانہ ضابطوں اور طریق کار سے کاروباری طبقہ میں سخت پریشانی و بے اطمینانی پائی جا رہی تھی۔ ہمہ وقت خوف کے بادل منڈلاتے رہتے کہ نامعلوم کب ٹیکس افسران اطلاع دیئے بغیر ان کے بنک اکاونٹ منجمد کر دیں گے جس کے بعد ان کے لیے کاروباری سرکل جاری رکھنا مشکل ہو جائے گا اور ان کا کاروبا ر فلاپ ہو جائے گا۔

کہا جاتا تھا کہ بعد میں ایڈجسٹمنٹ ہو جائے گی لیکن تا تریاق ا ز عراق آوردہ شود مارگزیدہ مردہ شود کے مصداق جب تک ایڈجسٹمنٹ ہوگی کاروباری سرکل رکنے سے جمود اور خسارے کا سودا بن جائے گا۔ اس طرح اکاونٹ منجمد کرنے سے جہاں ایک طرف بزنس کمیونٹی کو معاشی نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا تھا اس کے ساتھ ساتھ ایف بی آر اور ٹیکس دہندگان کے مابین بد اعتمادی کی خلیج وسیع تر ہوتی رہتی تھی۔ اس قسم کے بیورو کریٹک ہتھکنڈوں کی وجہ سے ایف بی آر کاروبار دشمن ادارے کی شکل اختیار کر چکا تھا۔ انہی تاریک راہوں سے کرپشن کے دروازے کھلتے تھے۔ ٹیکس چور اور ڈاکو کی اصطلاحوں کو رواج ملتا تھا۔ ٹیکس حکام کے انہی منفی رویوں کی وجہ سے ٹیکس حجم میں کبھی خاطر خواہ اضافہ نہ ہو سکا اور نہ ہی ملک میں کاروبار وسعت پذ یر ہو سکے۔

ایف بی آر کے موجود چیئرمین جناب شبر زیدی چونکہ ٹیکس دھندگان کی مشکلات اور ان میں ٹیکس حکام کی پیدا کردہ مشکلات سے بخوبی آگاہ ہیں اس لیے انہوں نے چارج لینے کے بعد سب سے پہلے آرڈر کے ذریعے ایسی خود ساختہ مشکل دیواروں کو زمین بوس کر دیا ہے۔

اس آرڈر کے تحت کسی کاروباری ٹیکس دہندہ کا بنک اکاونٹ منجمد کرنے سے پہلے متعلقہ ادارے کے چیف ایگزیکو افسر، پرنسپل افسر یا مالک کو چوبیس گھنٹے پہلے مطلع کرنا ضروری ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی لازمی قرار دے دیا گیا ہے کہ بنک اکاونٹ منجمد کرنے سے پہلے ٹیکس حکام درخواست کے ذریعے چیئرمین ایف بی آر سے اجازت حاصل کریں گے۔ پہلی بات یہ ہے کہ معاملہ چیئرمین صاحب کے پاس جانے سے چونکہ ٹیکس افسران کو اپنی مرضی کو قبولیت ملنا مشکل ہو جائے گی اس لیے درخواست دینے کی نوبت بہت کم آئے گی۔

جو درخواست چیئرمین صاحب تک پہنچے گی اسے وہ خود چھان پھٹک کر دیکھیں گے کہ اکاونٹ منجمد کرنے کی ضرورت ہے یا نہیں۔ اگر وہ ایسے اقدام کو کاروباری سرگرمیوں کے مفاد کے خلاف سمجھیں گے تو اسے پذیرائی نہیں مل سکے گی۔ ماضی میں ٹیکس حکام کے صوابدیدی اختیارات کی وجہ سے ٹیکس دہندگان کو محض شک کی بنیاد پر اس قدر ڈرایا دھمکایا گیا کہ و ہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ کاروباری اداروں کے ٹیکس سے متعلقہ معاملہ چونکہ تجربہ کار بالخصوص کاروباری تجربہ سے مزین ماہر کے ہاتھ میں چلا گیا ہے اس لیے سیدھے سادے اور صاف و شفاف کیسز حسب معمول چلتے رہیں گے۔

انہیں چھیڑ چھاڑ اور شکوک و شبہات کی ضرورت نہیں ہوگی۔ جہاں ٹیکس حکام اکاونٹ منجمد ©©ضروری خیال کریں گے اور چیئرمین صاحب سے اجازت طلب کریں گے انہیں چیئرمین ایف بی آر دیکھیں گے کہ ان میں کس قدر صداقت اور کس قدر ملمع سازی اور خود غرضی کا عنصر شامل ہے۔

اس بڑے فیصلہ کے بعد اس امر کی ضرورت ہے کہ ٹیکس افسران کے تمام صوابددی اختیارات مکمل طور پر ختم کر دیئے جائیں۔ ایسے کاروباری دوست فیصلوں سے کرپشن کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ ٹیکس دینے کے خوشدلانہ ماحول سے ٹیکس ریکوری میں بہتری اور اس کے حجم میں اضافہ ہوگا۔ کاروباری اداروں افراد اور ایف بی آر کے مابین بد اعتمادی اور کشیدگی کا خاتمہ ہوگا۔ چور ڈاکو کی اصطلاحیں دم توڑ جائیں گی۔ معیشت میں سرگرم عمل تمام طبقات کو محب وطن سمجھا جائے گا ملک کی معاشی و اقتصادی ترقی میں کاروباری طبقہ اور بیوروکریسی کا یکساں کردار اجاگر ہوگا۔ کاروباری سرگرمیوں کے فروغ و ترقی میں ایف بی آر کے حکام کا منفی طرز فکر و عمل بڑی رکاوٹ بنا رہتا تھا۔ جناب چیئرمین کے پہلے آرڈر سے ایسی مشکلات کی دیوار زمیں بوس ہو گئی ہے البتہ نیب کا ادارہ بھی ملک میں اصلاح و فلاح کم لیکن خوف و ہراس پیدا کرنے میں عظیم الشان کردار ادا کر رہا ہے۔

قیام پاکستان کے وقت حکومتی مشینری چلانے کے لیے معمولی وسائل بھی نہ تھے۔ حضرت قائداعظم کی آواز پر کاروباری طبقہ کے بڑوں نے لبیک کہا اور بساط سے بڑھ کر وسائل بانی پاکستان کے قدموں میں نچھاور کر دیئے۔ اس کے بعد جب بھی ملک پر کوئی آفت آئی کاروباری طبقہ نے دل کھول کر مدد کی۔ ٹیکس دینے میں بھی بخل سے کام نہیں لیا تا ہم نیب اچھی شہرت کے حامل کاروباری افراد کو بار بار طلبیوں کے ذریعے بے وزن قرار دیتا رہتا ہے اور ایسے ثابت کرتے ہیں جیس خود یہ لوگ آب زم زم سے دھلے ہیں۔ اس سوچ کو بدلنے اور سب کی عزت کرانے کی ضرورت ہے۔ جو لوگ سرمایہ لگاتے ہیں روزگار کے مواقع پیدا کرتے ہیں اور حکومت کو ریونیو دیتے ہیں ان کی کوئی تو عزت ہونی چاہے۔

مزید :

رائے -کالم -