ڈالر فوبیا

ڈالر فوبیا
ڈالر فوبیا

  

کل صبح مَیں نے محسوس کیا کہ جوتے کے چند ٹانکے کھل گئے ہیں، مَیں قریب ہی موجود ایک موچی کے پاس رکا اور جوتا اتار کر ٹانکے لگانے کے لئے دیا۔ بمشکل پانچ منٹ بعد اس نے مرمت کر دی، مَیں نے پیسے پوچھے تو اس نے پچاس روپے مانگے۔ مَیں حیران رہ گیا۔ چند ٹانکوں کے پچاس روپے مانگ رہا ہے۔ کہا موچی بھائی یہ تو تم زیادہ مانگ رہے ہو۔ کہنے لگا....”باﺅ جی اے وی تے دیکھو ڈالر کتنا مہنگا ہو گیا جے“۔ مَیں نے کہا ڈالر کے مہنگا ہونے سے ٹانکے کیسے مہنگے ہو گئے، کہنے لگا تسیں ٹی وی نئیں دیکھتے، خبراں نئیں چلدیاں کہ ڈالر مہنگا ہون نال سب کچھ مہنگا ہو جائے گا ،تے میں سستیاں چیزاں کتھوں لاں گاجے مزدوری نہ دے دی“ مَیں نے ہار مانی اور اسے پچاس روپے دے کر چلا آیا تو صاحبو! یہ ہے نفسیات جو ڈالر فوبیا کی وجہ سے پوری قوم کی بن گئی ہے۔

یہ کوئی نہیں سوچتا کہ ڈالر مہنگا ہوتا ہے تو آمدنی کم ہو جاتی ہے۔ کم آمدنی والے بھلا مہنگی چیزیں کیسے خرید سکتے ہیں۔ ڈالر بڑھنے سے ملک میں پیدا ہونے والی اشیاءاور خدمات کو کیسے مہنگا کیا جا سکتا ہے۔ پھر تو یہ سب لوگوں کی قوت خرید سے نکل جائیں گی۔ کیا امریکہ سے لوگ خریداری کے لئے پاکستان آئیں گے۔ کیا روپے کی جگہ ہر شخص کو ڈالروں کی شکل میں تنخواہ یا معاوضہ ملنے لگے گا۔ ڈالر کا ریٹ بڑھتے ہی خبر یہ دی جاتی ہے کہ اب مہنگائی کا سونامی آئے گا، جس نے سونامی نہیں بھی لانا ہوتا وہ سونامی لے آتا ہے۔ جیسے موچی نے دس روپے کی بجائے پچاس روپے مانگ لئے۔

اس قسم کی صورت حال میں انسان کے پاس آخر میں خود کشی کا راستہ ہی بچتا ہے، کیونکہ اشیائے ضروریہ تو اس کی پہنچ سے دور جا چکی ہوتی ہیں۔ جس نے کبھی ڈالر کی شکل تک نہیں دیکھی، وہ بھی ڈالر ڈالر کر دی نی میں آپے ڈالر ہوئی ،کے عذاب میں مبتلا ہو چکا ہے۔

کل تک یہ خوشخبری سنائی گئی تھی کہ وزیر اعظم عمران خان کے سخت ایکشن کی وجہ سے ڈالر کا بڑھا ہوا ریٹ واپس آ گیا، مگر اب یہ خبریں آ رہی ہیں کہ انٹربینک ریٹ میں پانچ روپے سے زائد اضافہ ہو گیا ہے۔

اس سے صاف لگتا ہے کہ چادر چھوٹی ہے اور پاﺅں بڑے ہیں۔ سر ڈھانپتے ہیں تو پاﺅں ننگے ہوتے ہیں، پاﺅں ڈھانپیں تو سر برہنہ ہو جاتا ہے۔ ڈالر فوبیا جب کسی معاشرے پر چھا جائے تو باقی سارے کام ٹھپ ہو جاتے ہیں۔ جب ڈالر کی خرید و فروخت ایک منافع بخش کاروبار بن جائے تو بینکوں میں رکھا ہوا روپیہ بھی سیال مادے کی طرح نکل کر ڈالر کے تالاب کی طرف جاتا ہے، پھر اگر آپ امریکہ کے سارے ڈالرز بھی پاکستان لے آئیں، مانگ پوری نہیں ہو سکتی۔ جب راتوں رات لاکھوں کی آمدنی کا امکان سامنے ہو تو کون بے وقوف ہے جو روپے کی شکل میں اپنا سرمایہ رکھے گا۔ حکومت کوئی ضابطہ، کوئی قانون بنا نہیں پا رہی۔

سب ڈرے ہوئے ہیں ،جس طرح نوازشریف نے ایٹمی دھماکوں کے بعد غیر ملکی کرنسی اکاﺅنٹس پر پابندی لگاکر ملک کو دیوالیہ پن تک پہنچا دیا تھا، اسی طرح ڈالر کے بارے میں سخت ایکشن لے کر کہیں لینے کے دینے ہی نہ پڑ جائیں۔ آئی ایم ایف سے معاہدہ ابھی نافذ نہیں ہوا، لیکن اس کے اثرات پہلے ہی سے آنا شروع ہو چکے ہیں۔ حکومت لاکھ کہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے میں روپے کی قدر کم کرنا شامل نہیں، کوئی اس کی اس بات پر یقین کرنے کو تیار نہیں، کیونکہ آئی ایم ایف کی تاریخ بتاتی ہے کہ وہ پہلا کلہاڑا ملک کی کرنسی پر چلاتا ہے، ڈالر کو ایک روپیہ مہنگا کرنے سے مراد یہ ہوتی ہے کہ اس کا چھ ارب ڈالر کا قرضہ پاکستانی روپے میں سات ارب ڈالر ہو جائے گا۔ پھر معیشت کے کس بل بھی نکل جائیں گے اور عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے ایجنڈے کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔

کیا عجیب ترکیب نکالی ہے کہ اب ڈالر کے اتار چڑھاﺅ کا فیصلہ کھلی مارکیٹ میں ہوگا۔ گویا کرنسی کو بھی سٹاک ایکسچینج کی پروڈکٹ بنا دیا گیا۔ اس سے زیادہ بھیانک صورت حال کوئی اور ہو نہیں سکتی۔ جس طرح پاکستان میں سٹاک مارکیٹ کو چند بڑے بروکرز چڑھا اور گرا دیتے ہیں، اسی طرح ناجائز منافع خور جب چاہیں گے ڈالر کو مہنگا کر کے کروڑوں روپے کما لیں گے۔ اس کا ٹریلر دو دن پہلے دیکھا گیا، جب ڈالر کو اڑھائی روپے مہنگا کر کے کئی گھنٹے بیچا گیا، جب وزیر اعظم کا دباﺅ پڑا تو قیمت واپس 144 روپے پر لے آئے۔ کیا یہ نظام پاکستان جیسے ملک میں چل سکتا ہے، جہاں ہر چیز بے لگام ہے، کیا ستر برسوں تک ہم نے اسٹیٹ بینک کے ذریعے ڈالر پر جو کنٹرول رکھا، وہ غلط تھا؟ کیا ہمارے روپے میں اتنا دم خم ہے کہ کبھی اوپر بھی جا سکے۔ جب اس نے گرنا ہی ہے تو کون نہیں چاہے گا کہ ڈالر خریدے اور نقصان سے بچے۔

پہلے ہی یہ شور شرابہ موجود ہے کہ اسٹیٹ بینک کے گورنر آئی ایم ایف کے ملازم ہیں، وہ کیوں چاہیں گے کہ روپیہ مستحکم ہو۔ ان کے ذریعے تو آئی ایم ایف کو یہ خبریں بھی مل سکتی ہیں کہ اسٹیٹ بینک ڈالر کو کنٹرول کرنے میں مداخلت کر رہا ہے یا نہیں۔ کیا وزیر اعظم عمران خان کا کام یہی رہ جائے گا کہ وہ صبح اٹھ کر ڈالر کا ریٹ چیک کریں اور زیادہ ہو تو اجلاس بلا کر اسے کم کرائیں۔ کیا اس طرح مارکیٹ میں استحکام آ سکے گا، یا دوسرے لفظوں میں عوام ڈالر فوبیا سے نکل آئیں گے؟

کرنسی کو مارکیٹ کے رحم و کرم پر تب چھوڑا جا سکتا ہے، جب آپ کی اپنی کرنسی مستحکم ہو۔ جب اس کی حالت روپے جیسی پتلی اور دوسری طرف ڈالرز کی آزادانہ خرید و فروخت پر کوئی پابندی نہ ہو، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ڈالر کی اڑان کو روکا جا سکے۔ اوپن مارکیٹ والوں نے اگر اڑھائی روپے قیمت بڑھائی تھی تو انٹر بینک ریٹ کا فیصلہ کرنے والوں نے پانچ روپے بڑھا دی۔ اب انہیں کون روکے؟ کسی نے سچ کہا ہے کہ یہ ڈالر کا چیک پاکستان سے مڈل کلاس کو ختم کرنے کی سازش ہے، وہ طبقہ جس نے بڑی مشکل سے محنت کر کے غربت سے جان چھڑائی تھی، اب اسے پھر غربت میں دھکیلا جا رہا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان معیشت کو ٹھیک کرنے چلے تھے ،لیکن جس ڈگر پر معیشت چل پڑی ہے اس سے تو ٹھیک ہونے کے آثار دور دور تک نظر نہیں آ رہے۔ ساری سبسڈیز ختم کرنے کا دعویٰ کرنے والے ایلیٹ کلاس کی ایک سبسڈی بھی ختم نہیں کر سکے۔ بڑے افسران کی مراعات دیکھیں تو لگتا ہے برطانیہ کے شاہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہر چیز ریاست کی ذمہ داری ہے کہ انہیں فراہم کرے، ارکان اسمبلی کو دیکھیں تو پوری زندگی سبسڈی پر چل رہی ہے۔ بجلی، گیس، ٹکٹ، رہائش اور اوپر سے کروڑوں روپے کے فنڈز، لیکن عوام کے لئے صرف ایک ہی ٹھینگا ہے کہ قربانی دیں یا پھر قربان ہونے کے لئے تیار ہو جائیں۔

پہلے بھی کہا جا چکا ہے کہ پاکستان میں سبسڈی دیئے بغیر نچلے طبقے کو زندہ نہیں رکھا جا سکتا، یہ آئی ایم ایف کا مسئلہ نہیں کہ پاکستان میں غریب زندہ رہتے ہیں یا خود کشیاں کرتے ہیں، اس نے تو سرمایہ دارانہ نظام کے ایجنڈے کو نافذ کرانا ہے۔ یہ ماضی کے حکمران پاگل نہیں تھے کہ عوام کو سبسڈی دیتے رہے۔ سب کو معلوم تھا کہ محدود آمدنی میں ستر فیصد آبادی کا گزارا مشکل ہے، اسے سبسڈی دے کر زندہ رہنے کے قابل بنانا پڑے گا۔ پہلے بھی آئی ایم ایف یہی کہتا تھا کہ عوام کے لئے سب کچھ بند کر دو ،مگر حکومتیں وہ کرتی رہی تھیں، جو حالات کہتے تھے۔ اب تو آئی ایم ایف خونخوار درندہ ثابت ہو رہا ہے، جس کے سامنے زبان کھولنے کی اجازت بھی نہیں مل رہی۔

یہ مشکل وقت کی گردان آخر کب تک چلے گی۔ کوئی سمت تو نظر آئے جس سے لگے کہ مشکل دن ختم ہو جائیں گے۔ یہ آئی ایم ایف کا بیل آﺅٹ پیکج تو معاشی پھندہ نظر آ رہا ہے جس نے ہمیں پوری طرح گردن سے پکڑ لیا ہے۔ پاکستان میں پہلے ہی مافیاز بہت تھے، اب ان میں آئی ایم ایف کا اضافہ بھی ہو گیا ہے۔ ایسے میں ایمنسٹی سکیم جیسے فارمولے کس حد تک کارگر ثابت ہوتے ہیں، اس کا پتہ تو آنے والے دنوں میں چلے گا۔ ایک طرف جہاں یہ منظر ہو کہ احتساب بیورو کسی ایک کرپٹ آدمی سے سرمایہ نہ نکلوا سکا ہو اور سارا کھیل ریفرنسوں، انکوائریوں اور پکڑ دھکڑ کے اندر ہی چل رہا ہو، وہاں یہ کہنا کہ جس نے ایمنسٹی سکیم سے فائدہ نہ اٹھایا، اس کی جائیداد اور سرمایہ ضبط کر لیا جائے گا اور پانچ سال سزا بھی ہو گی۔ دیوانے کی بہت بڑی بڑ ہے۔

اگر پالیسی ساز یہ سمجھتے ہیں کہ ان باتوں سے کوئی ڈر جائے گا تو یہ ان کی ویسی ہی خام خیالی ہے، جیسی وہ آئی ایم ایف کا پیکیج لے کر ملک کو خوشحال بنانے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ ابھی تو یہ ڈالر فوبیا معیشت کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے، اس کے بعد آئی ایم ایف کا پیکیج کیا قیامتیں ڈھاتا ہے۔ ان کا دھڑکتے دل کے ساتھ انتظار کرنا پڑے گا۔

مزید : رائے /کالم