سلمان شہباز اور علی عمران سے کرپشن کا پوچھا تو بیرون ملک بھاگ گئے، پرویز خٹک اور حمزہ شہباز جلد نیب کی حوالا ت میں ہونگے: جسٹس (ر) جاوید اقبال 

سلمان شہباز اور علی عمران سے کرپشن کا پوچھا تو بیرون ملک بھاگ گئے، پرویز خٹک ...

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )چیئر مین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے معروف کالم نگار جاوید چودھری کے ساتھ ملاقات میں انکشاف کیا کہ مالم جبہ کا ریفرنس  بہت تگڑا ہے اور پرویز خٹک بھی جلد لاک ا پ کے پیچھے ہونگے انہوں نے کہا کہ  یہ تمام لوگ مجھے برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں“یہ بھی مجھ سے خوش نہیں ہیں‘ یہ بھی چاہتے ہیں عمران خان کا ہیلی کاپٹر کیس بند ہو جائے‘ بابراعوان کا ریفرنس‘ علیم خان اور فردوس عاشق اعوان کے خلاف تفتیش اور سب سے بڑھ کر پرویز خٹک کے خلاف مالم جبہ کی غیرقانونی لیز کی انکوائری رک جائے‘ پاکستان پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی قیادت مجھے ویسے ہی اپنا دشمن نمبر ون سمجھتی ہے‘ لینڈ گریبرز بھی میرے خلاف ہیں اور ریاستی ادارے بھی خوش نہیں ہیں‘ یہ سب مل کر اب دباؤ بڑھانے کا کوئی آپشن نہیں چھوڑ رہے“ ایک سوال کے جواب میں۔جسٹس جاوید اقبال نے پورے یقین کے ساتھ جواب دیا ”مالم جبہ ریفرنس  اب چند دن کی بات ہے‘ ریفرنس مکمل ہو چکا ہے‘ آپ بہت جلد پرویز خٹک کو بھی لاک اپ میں دیکھیں گے بس مجھے صرف پرویز خٹک کی صحت سے ڈرتا ہوں‘ یہ اگر گرفتار ہو گئے اور انھیں اگر کچھ ہو گیا تو نیب مزید بدنام ہو جائے گا لیکن اس کے باوجود یہ ہو کر رہے گا‘ پرویز خٹک کو بھی اپنی کرپشن کا حساب دینا ہو گا“۔چیئر مین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا  کہ شہباز شریف کے صاحبزادے سلمان شہباز سے اربوں روپے سے متعلق سوال کیا تو وہ لندن چلے گئے انہوں نے کہا کہ میاں برادران کا ایشو بھی سیدھا اورسادہ ہے،ہم نے میاں شہباز شریف کے دامادعلی عمران کو بلا کر پوچھا صاف پانی کمپنی نے آپ کو 48کروڑ روپے کی ادائیگی کیوں کی اور یہ آپ کے اکاؤنٹ میں جمع کیوں ہوئی؟ہم نے کاغذات بھی اس کے سامنے رکھ دئیے،وہ بولا میں نے صاف پانی کمپنی کو اپنا پلازہ کرائے پر دیا تھا،یہ کرائے کی رقم تھی،ہم نے ان کو گھر جانے دیا،میں رات کو ٹیکسی لے کر علی عمران کے پلازہ پر چلا گیا،وہ پلازہ ابھی زیر تعمیر تھا،پانچ منزلوں کی چھتوں کے کنکریٹ کو پانی دیا جا رہا تھا،ہم نے اگلے دن علی عمران کو دوبارہ بلا لیا،ہم نے اس سے پوچھا،آپ کا پلازہ ابھی زیر تعمیر ہے،یہ تین سال میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا لیکن آپ نے اس کا کرایہ وصول کر لیا،کیوں اور کیسے؟علی عمران کے پاس کوئی جواب نہ تھا،وہ گھر گیا اور اگلے دن دبئی بھاگ گیا۔ہم نے سلمان شہباز کو بلا کر پوچھا،آپ کو اربوں روپے باہر سے کیوں آتے رہے،وہ بولے مجھے چند دن دے دیں،میں اپنی فیملی اور سٹاف سے پوچھ کر جواب جمع کرا دوں گا،ہم نے وقت دے دیا اور وہ بھی لندن بھاگ گئے۔ہمارے پاس حمزہ شہباز شریف کے خلاف بھی تمام ثبوت موجود ہیں،حمزہ شہباز کا سوال نامہ میں نے خود اپنے ہاتھ سے ڈرافٹ کیا تھا،میں سیشن جج سے سپریم کرکٹ کا سینئر جج رہاہوں،میں نے عدالتی بیک گراؤنڈ کو سامنے رکھ کر سوالنامہ تیار کیا تھا،ان کی ضمانت منسوخ ہونے کی دیر ہے جس کے بعد یہ بھی اندر ہو نگے۔چیئر مین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے بتا یا  کہ انہیں صدر پاکستان بنانے کی پیشکش ہو چکی ہے اس سوال کے جواب میں کہ ”آپ کی کلہاڑی صرف سویلین پر گرتی ہے؟“ وہ تڑپ کر بولے میں نے اپریل 2018میں جنرل جاوید اشرف کے خلاف رائل پام گالف کلب ریفرنس بنا یا،کیا یہ سویلین ہیں،؟یہ آئی ایس آئی کے سابق ڈی جی ہیں،میرے ساتھیوں نے مجھے روکا لیکن میں نے ان سے کہا،ہم اگر انہیں چھوڑ دیتے ہیں تو پھر بیورو کریٹس اور سیاستدانوں کا کیا قصور ہے،ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں بھی ریٹائرڈ فوجی افسروں کے نام آئے،ہم نے ان کے خلاف بھی انکوائری شروع کرادی،یہ بھی حوالات میں جائیں گے،ڈی ایچ اے سٹی میں میرے اپنے 43لاکھ روپے پھنس گئے تھے،یہ لوگ چیک لے کر میرے پاس آگئے،میں نے ان سے کہا،آپ یہ چیک مجھے نہیں چیئرمین نیب کو دے رہے ہیں،میں نے چیک واپس کر دیا اور ان سے کہا،آپ پہلے دوسرے 1385لوگوں کو پیسے واپس کریں،مجھے آخر میں چیک دیجیے گا،کیا یہ بھی سویلین ہیں؟،ملک میں سب کا احتساب ہو رہا ہے،ہم نے کسی پارٹی اور کسی محکمے کو رعایت نہیں دی۔ ایک اور سوال کے جواب میں؟‘چیئر مین نیب بولے مجھے صدر پاکستان بنانے کی پیشکش تک ہوئی تھی۔

چیر مین نیب

مزید : صفحہ اول