زرداری نیب پیش، 4انکوائریز میں بیان قلمبند، تین کیسوں میں سوالنامہ حوالے

زرداری نیب پیش، 4انکوائریز میں بیان قلمبند، تین کیسوں میں سوالنامہ حوالے

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی)قومی احتساب بیورو کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے سابق صدر آصف علی زر داری کا جعلی اکاؤنٹس کیس میں ہریش کمپنی، مشکوک ٹرانزیکشن اور اوپل 225منصوبے کی انکوائریز میں بیان ریکارڈکر لیا۔تفصیلات کے مطابق سابق صدر آصف علی زر داری کا جعلیاکاونٹس کیس میں 4انکوائریز میں بیان قلمبند ریکارڈکر لیا گیا ہے،جس میں ہریش کمپنی، مشکوک ٹرانزیکشن اور اوپل 225 منصوبے شامل ہیں۔سابق صدر آصف زرداری ڈیڑھ گھنٹے تک نیب کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو بیان ریکارڈ کراتے رہے، آصف زرداری سے ہریش کمپنی کے ذریعے بھٹو ہاؤس نوڈیرو کے مالی معاملات پر سوال کئے گئے۔سابق صدر سے زرداری گروپ کی 8ارب روپے کی مشکوک ٹرانزیکشنز پر بھی پوچھ گچھ کی گئی جبکہ اوپل 225منصوبے میں مبینہ طور پر 1ارب روپے رشوت لینے پر سوالات کیے گئے۔نیب ذرائع کے مطابق آصف زرداری کو جعلی اکاونٹس کیس کی مزید دو انکوائریز میں جلد طلب کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق نیب نے سابق صدر آصف زرداری کو 3 مختلف کیسوں میں سوالنامہ دیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ آصف زرداری سے مجموعی طور پر جے وی ایل کیس میں 26 سوال پوچھے گئے۔ذرائع کے مطابق آصف زرداری کو ودود انجینئرنگ کیس میں 30 جبکہ زین ملک اور مشتاق کیس میں 20 سوال دئیے گئے۔آصف علی زرداری کو 26 مئی تک تمام سوالات کے جواب دینے کی ہدایت کی گئی۔علاوہ ازیں سابق صدر آصف زرداری کی نیب آفس پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی رہنما فاروق ایچ نائیک نے کہا ہے کہ آصف زرداری کا جعلی اکاؤنٹس کیس سے کوئی تعلق نہیں، انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، نیب کی جانب سے اب تک ایک ہی ریفرنس دائر کیا گیا جبکہ الزام لگانا آسان اور ثابت کرنا مشکل ہوتا ہے۔ 

زرداری/فاروق نائیک

مزید : صفحہ اول