لمز کے زیر اہتمام دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد

لمز کے زیر اہتمام دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد

لاہور(پ ر)سلمان داؤد اسکول آف بزنس (ایس ڈی ایس بی) میں سوشل انٹرپرائز ڈویلپمنٹ سینٹر (ایس ای ڈی سی) اور لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) کے زیر اہتمام دو روزہ انٹرنیشنل کانفرنس آن جینڈر ورک اینڈ سوسائٹی (آئی سی جی ڈبلیو ایس) جس کا عنوان "Gender, Work and leadership: Bringing together feminist and postcolonial insights" تھا۔ بڑی تعداد میں دستاویزات کی وصولی (120+) کے ساتھ کانفرنس کا پروگرام متعدد متوازی سیشنز پر محیط تھا جو دو روز تک جاری رہا۔ SEDC کی ڈاکٹر فائزہ علی کی ڈائریکٹر شپ کے تحت کانفرنس نے تعلیمی اسکالرز کو تجزیہ، تنقید اور حالیہ رجحانات کے تنقیدی عمل، جدتوں اور جنس، کام اور معاشرہ سے متعلق صورتحال کیلئے ایک پلیٹ فارم مہیاء کیا۔ کانفرنس کا انعقاد ایس ای ڈی سی کی جانب سے کیا گیا جو 2001ء سے پاکستان کے ترقیاتی شعبہ میں صنف کے مرکزی دھارے میں کام کر رہی ہے۔ اس کانفرنس کے ذریعے ایس ای ڈی سی اور لمز نے سکالرز، سول سوسائٹی، پالیسی سازوں، صحافیوں، صنعتی ماہرین کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم مہیاء کیا تاکہ پاکستان میں صنفی مساوات کے بہت سے پہلوؤں پر بحث کی جا سکے۔

کانفرنس نے پاکستان اور مختلف ممالک سے شرکاء کے متنوع اور بین الکلیاتی نکتہ نظر کو یکجا کیا۔ کانفرنس میں خواتین محققین کی شرکت کو یقینی بنانے اور ان کی آواز کو پراثر بنانے کی کوشش کی گئی جس کی بڑی تعداد میں خواتین کی شرکت کے ذریعے عکاسی ہوئی۔ کانفرنس کا مقصد مختلف صنفی اقسام اور اقتصادی شراکت داری کے مابین رابطہ کو تلاش کرنے پر مرکوز تھا۔ کانفرنس میں خاص طور پر مختلف صنفی اقسام کی اقتصادی شراکت داری پر گلوبلائزیشن، سماجی تحریکوں اور سماجی اقدار کے اثرات کو سراہا گیا۔ تشدد اور کام کی جگہ پر ہراساں کرنے سے متعلق اہم معاملات کو غیر معمولی تحریک کے تناظر میں تلاش کیا گیا۔ بہت سے شرکاء نے صنف کے میدان میں کام کرنے والے محققین کو درپیش مسائل پیش کئے۔ کانفرنس نظر انداز کئے جانے والے صنف سے متعلق مباحثوں پر مشتمل تھی جو ”تشدداور کام کی جگہ پر ہراساں کرنے“ سے متعلق تھے۔ کانفرنس میں صنفی مساوات کیلئے تحقیقاتی کام کی ضرورت اور رکاوٹیں دور کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا جو کام کی جگہ پر خواتین کی شرکت اور تحفظ کو روکتی ہیں۔ ایس ای ڈی سی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر فائزہ علی نے تمام شرکاء کا خیرمقدم کیا اور مہمان خصوصی سیدہ حناء بابر علی کو مدعو کیا جنہوں نے کام کی جگہ پر خواتین کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے پیکیجز کی کیس اسٹڈی کے بارے میں گفتگو کی۔ لمز بالخصوص سلمان داؤد اسکول آف بزنس اور مشتاق احمد گرمانی اسکول آف ہیومنٹیز اینڈ سوشل سائنسز کے فیکلٹی ممبران نے شرکاء اور سیشن چیئرز کے طور پر شرکت کی۔ اہم مقررین میں برونل یونیورسٹی لندن سے پروفیسر مصطفیٰ ایف اوزبلگن نے ”Atypical Leadership“ پر اپنے تحقیقی کام کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے اپنے تحقیقی کام کا صنفی نظارہ پیش کیا اور بیان کیا کہ کس طرح خواتین کام کی جگہ پر غیر معمولی رہنما کے طور پر تنوع کو قانونی اور جائز بناتی ہیں۔ ایس ڈی ایس بی کے ڈین ڈاکٹر النور بھیمانی نے اختتامی تقریب میں حاضرین کے سامنے صنف اور تنوع کے بارے میں اپنے خیالات کا تبادلہ کیا اور بیسٹ پیپر ایوارڈز تقسیم کئے۔ یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور سے مس شرمین بانو نے اپنے پیپر جس کا عنوان 'Mobility and Syndemic Vulnerability to HIV Acquisition in Khwaja Sira Sex Workers in Lahore' تھا، کیلئے ”بیسٹ پیپر“ ایوارڈ جیتا۔ یونیورسٹی آف پنجاب سے مس آئرہ اینڈریس پیٹرس نے اپنے تحقیقی کام جس کا عنوان ”The Untold Sufferings of Subalterns: A case study of Christian female sweepers in Lahore“ تھا، کیلئے پہلی رنر اپ پوزیشن حاصل کی جبکہ یونیورسٹی آف پنجاب سے ڈاکٹر امانی معظم اور زویا فیصل نے اپنے تحقیقی کام جس کا عنوان "Stigmatization of flexible work arrangements: A gendered perspective of higher education institutions" تھا، کے لئے دوسرا رنر اپ ایوارڈ حاصل کیا۔

مزید : کامرس