روزہ اور آفاتِ روزہ

روزہ اور آفاتِ روزہ

مولانا ا مین احسن اصلاحی ؒ

شہوات اور خواہشات نفس کے غلبے سے انسان کے اندر خدا سے جوغفلت اور اس کی حدود سے جو بے پروائی پیدا ہوتی ہے،اس کی اصلاح کے لیے اللہ تعالیٰ نے روزے کی عبادت مقرر کی ہے۔ اس عبادت کانشان تمام قدیم مذاہب میں بھی ملتا ہے، بالخصوص تزکیہ¿ نفس کے جتنے طریقے بھی غلط یا صحیح، دنیا میںاب تک اختیار کیے گئے ہیں،ان سب میں اس عبادت کو بڑی اہمیت حاصل رہی ہے۔مذاہب کے مطالعے سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ پچھلے ادیان میں اس عبادت کے آداب وشرائط،اسلام کی نسبت سے زیادہ سخت تھے۔ اسلام دین فطرت ہے، اس وجہ سے اس نے اس کی ان پابندیوں کو نسبتاً نرم کر دیاہے،جو انسان کی عام طاقت کے تحمل سے زیادہ تھیں،جن کو صرف خاص خاص لوگ ہی برداشت کر سکتے تھے۔ یہ عبادت نفس پر شاق ہونے کے اعتبار سے تمام عبادات میں سب سے زیادہ نمایاں ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ نفس انسانی کی تربیت واصلاح میں اس کا عمل بڑا مشکل ہے۔یہ انسان کے نہایت سرکش اور منہ زور رجحانات پر کمندڈالتی اور ان کو رام کرتی ہے۔اس وجہ سے یہ عین اس کی فطرت کاتقاضا ہے کہ اس کے مزاج میں سختی اوردرشتی ہو۔

نفس انسانی کے جو پہلو سب سے زیادہ زوردار ہیں،ان میں شہوات، خواہشات اور جذبات سب سے زیادہ نمایاں ہیں۔ ان کی فطرت میںاشتعال، ہیجان اورجوش ہے۔اس وجہ سے ارادے کو ان پر قابو پانے کے لیے بڑی ریاضت کر نی پرتی ہے۔یہ ریاضت اتنی سخت اور ہمت شکن ہے کہ قدیم مذاہب کی تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ تزکیہ¿ نفس کے بہت سے طالبین سرے سے اس چیز ہی سے مایوس ہو گئے کہ ان کوقابو میں بھی لایا جاسکتاہے۔ چنانچہ انہوں نے ان کوقابو میںلانے اوران کی تربیت کرنے کی بجائے ان کے یک قلم ختم کردینے کی تدبیریں سوچیں اور اختیارکیں لیکن اسلام ایک دین فطرت ہے اور یہ چیزیں بھی انسانی فطرت کے لازمی اجزا ءمیں سے ہیں،جن کے بغیر انسان کے شخصی اور نوعی تقاضوں کی تکمیل نہیں ہو سکتی۔اس وجہ سے اس نے ان کو ختم کردینے کی اجازت نہیں دی ہے، بلکہ ان کو قابو میں کرکے ان کو صحیح راہ پر لگانے کاحکم دیا ہے۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ان کوقابو میں کرنا ان کو ختم کردینے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل کام ہے۔ایک منہ زورگھوڑے کو ختم کردینا ہوتو اس کے لیے زیادہ اہتمام کی ضرورت نہیں ہے۔بندوق کی ایک گولی اس کو ٹھنڈا کردینے کے لیے بالکل کافی ہے لیکن اگر اس کو رام کر کے سواری کے کام میں لانا ہے تو یہ مقصد ایک ماہر شہسوار بڑی ریاضتوں، بڑی مشقوں اور بہت سے خطرات کامقابلہ کرنے کے بعدہی حاصل کرسکتا ہے۔

روزے کی عبادت اسلام نے اس لیے مقرر فرمائی ہے کہ ایک طرف نفس انسانی کے یہ سر کش رجحانات ضعیف ہو کراعتدال پر آئیں اور دوسری طرف انسان کی قوت ارادی ان کو دبانے اور ان کو حدود الٰہی کا پابند بنانے کے لیے طاقت ورہو جائے۔ اپنے اس دو طرفہ عمل کے سبب سے تزکیہ¿ نفس کے نقطہ¿ نظر سے جیسا کہ ہم نے عرض کیا،اس عبادت کی بڑی اہمیت ہے اور اس کی برکات کی بھی کوئی حدو نہایت نہیں ہے۔ہم یہاں اختصارکے ساتھ پہلے اس کی چند برکات کاذکرکریں گے، اس کے بعد اس کی آفات بیان کریں گے۔

روز ے کی برکات

روحِ ملکوتی کی آزادی

روزے کی سب سے بڑی برکت یہ ہے کہ اس سے انسان کی روح ملکوتی کو نفسانی خواہشات کے دباو¿ سے بڑی حد تک آزادی حاصل ہو جاتی ہے۔ ہماری رو ح ملکوتی کا حقیقی میلان ملاءاعلیٰ کی طرف ہے۔ وہ فطری طور پرخدا کے تقرب، ملائکہ سے تشبیہ اور سفلیات سے تجرد کی طالب ہے اور مادی زندگی کے تقاضوں میں گرفتار رہنے کے بجائے اعلیٰ عقلی و اخلاقی مقاصد کے لیے پروازکرنا چاہتی ہے۔روح کے ان تقاضوں اور نفس کے ان مطالبات میں جو خواہشات و شہوات سے پیدا ہوتے ہیں، ایک کھلا ہوا تضاد ہے۔ان دونوں میں اکثر تصادم رہتا ہے اوراس تصادم میںاکثر جیت خواہشات و شہوات ہی کو ہوتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ روح کے مطالبے پورے کرنے سے انسان کو کوئی فوری لذت حاصل نہیں ہوتی،بلکہ الٹے اس کے لیے انسان کو اپنی بہت سی فوری لذتوں اور راحتوں کی قربانی دینی پڑتی ہے۔ یہ صورت حال ظاہرہے کہ روح کے فطری میلانات کے بالکل خلا ف ہے۔اگر یہی حالت عرصے تک باقی رہ جائے اورروح کو اپنی پسند کے میدانوں میں جو لانی کاکوئی موقع نہ ملے توپھر نہ صرف یہ کہ اس کی قوت پرواز ختم ہو جاتی ہے بلکہ آہستہ آہستہ وہ خود بھی ختم ہو جاتی ہے۔

روزہ اس صورت حال میں وقتاً فوقتاً تبدیلی کرتا رہتا ہے۔یہ ان چیزوں پر بہت سی پابندیاں عائد کردیتا ہے جو شہوات وخواہشات کو تقویت پہنچانے والی ہیں۔اس سے آدمی کاکھانا پینا اور سونا سب کم ہو جاتا ہے۔ دوسری لذتوں اور دلچسپیوں پر بھی بعض پابندیاں عائد ہوجا تی ہیں۔ان چیزوں کا اثر یہ ہوتاہے کہ نفس کے شہوانی میلانات کی جولانیاں بہت کم ہو جاتی ہیں اور روح ملکوتی کو اپنی پسند کے میدانوں میں جولانی کے لیے موقع مل جاتا ہے۔

روزے کی یہی خصوصیت ہے جس کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے ساتھ ایک خاص نسبت دی ہے اورروزہ دار کو خاص اپنے ہاتھ سے اس کے روزے کی جزا دینے کا وعدہ فرمایا ہے۔یوں تو اسلام نے جتنی عبادتیں بھی مقرر فرمائی ہیں، سب اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں لیکن روزے میں دنیا اور لذّات دنیا کو ترک کر کے بندہ خدا سے قرب اور اس کے ملائکہ سے مناسبت اور تشبیہ حاصل کرنے کی جو کوشش کرتا ہے اور اس کو شش میں جو مشقت اٹھاتا ہے، وہ روزے کے سوا کسی دوسری عبادت میں اس قدر نمایاں نہیں ہے۔ فقر، درویشی، زہد،تجرد،ترک دنیا اور تبتل الی اللہ کی جو شان اس عبادت میں ہے،وہ اس کاخاص حصہ ہے، بلکہ یہ کہنا بھی بے جا نہیں ہے کہ رہبانیت جس حد تک اسلام میں جائز رکھی گئی ہے اور جس درجے تک اللہ تعالیٰ نے تر بیت ِ نفس کے لیے اس کو پسند فرمایا ہے،اسلام میں یہی عبادت اس کامظہرہے۔ اگرایک بندہ روزے کی ساری مشقتیں اور پابندیاں، فی الحقیقت اسی لیے جھیلتا ہے کہ اس کی روح اس عالم ناسوت کی دلدل سے آزاد ہو کر عالم لا ہوت کی طرف پرواز کر سکے اور اسے خدا کاقرب حاصل ہو سکے تو بلاشبہ اس کی یہ کوشش اسی چیز کی مستحق ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو اپنے ساتھ خاص نسبت دے اور اس کی جزا خاص اپنے ہاتھوں سے دے۔ایک حدیث کا ترجمہ ملاحظہ ہو جس میںیہ حقیقت بیان ہوئی ہے۔

”حضرت ابوہر یرہ ؓ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ابن آدم کا ہرعمل اس کے لیے ہے مگر روزہ، یہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دونگا۔روزہ ایک سپر ہے۔جب کسی کا روزہ ہو تو اسے چاہیے کہ نہ شہوت کی کوئی بات کرے اور نہ شوروشغب کرے۔اگر کوئی شخص اس سے گالم گلوچ کرے یا لڑے جھگڑے تو وہ اس سے کہے کہ بھائی میں روزے سے ہوں۔اس خداکی قسم جس کی مٹھی میں محمدکی جان ہے، روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبوسے زیادہ پسند یدہ ہے۔روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں۔ایک اس کو اس وقت حاصل ہوتی ہے جب وہ روزہ کھولتا ہے اوردوسری اس کو اس وقت حاصل ہوگی جب وہ اپنے رب سے ملے گا۔“ [مسلم، کتاب الصیام© ]

ایک دوسری روایت میں اس سلسلے کی کچھ اور باتیںہیں جن سے حدیث کی اصل حقیقت پر روشنی پڑتی ہے۔ اس وجہ سے ہم اس روایت کاترجمہ بھی یہاں دئیے دیتے ہیں۔

”اللہ تعالیٰ نے فرمایا:بندہ اپنا کھانا پینااور اپنی شہوت میرے لیے چھوڑتا ہے۔ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کابدلہ دوں گا۔نیکیوں کابدلہ دس گناہ ہے۔(مسلم کے الفاظ ہیں کہ)نیکیاں دس گنے سے لے کر سات سو گنے تک بڑھائی جائیں گی مگر روزے کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ میرے لیے ہے اورمیں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔بندہ اپنا کھانا پینا اور اپنی خواہش میرے لیے قربان کرتا ہے۔روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں۔ ایک خوشی اس کو افطار کے وقت حاصل ہوتی ہے،دوسری خوشی اس کواپنے رب کی ملاقات کے وقت حاصل ہو گی اور اس کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پسندیدہ ہے۔“ [ مو¿طا امام مالک، باب جامع الصیام ]

ان دونوں روایتوں کو ملا کر غور کرنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس عبادت کو اپنی طرف خاص نسبت کیوں دی ہے۔اور یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ خاص اپنے ہاتھ سے اس کابدلہ دینے کامطلب کیا ہے۔ اس کواپنے لیے خاص قرار دینے کی وجہ تو یہ ہے کہ بندہ محض اس کی رضا اوراس کاقرب حاصل کرنے کے لیے اپنی ان خواہشوں اور اپنے نفس کے ان مطالبات کو ترک کرتا ہے جن کا اس کے نفس پر سب سے زیادہ غلبہ ہو تا ہے اور جن کے اندر اس کی تمام مادی خوشیاں اورتمام مادی لذتیں سمٹی ہو ئی ہیں۔ان لذتوں سے محض اللہ کی رضاکے لیے منہ موڑ لینا اللہ تعالیٰ کو اس قدر پسند ہے کہ اس نے محبوبیت کاایک خاص درجہ دیا اورفرمایا کہ بندہ روزہ خاص میرے لیے رکھتا ہے اور میری خوشی کے لیے اپنا کھانا پینا اور اپنی لذتوں کوچھو ڑتا ہے۔

خاص اپنے ہاتھ سے بدلہ دینے کامطلب یہ ہے کہ نیکیوں کے بدلے کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں بندھے ہو ئے قاعدے ہیں۔حالات و خصوصیات کے لحاظ سے ہر نیکی کا دس گنے سے لے کر سات سو گنے تک بدلہ ملے گا۔مثلاً فرض کیجیے ایک نیکی ساز گا ر حالات کے اندر کی گئی ہے اور دوسری نیکی مشکل حالات کے اندر کی گئی ہے یا ایک نیکی پوری احتیاط اور پوری نگہداشت کے ساتھ کی گئی ہے اور دوسری نسبتاً کم اہتمام اورکم نگہداشت کے ساتھ کی گئی ہے۔اس طرح کے فرق واختلاف کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہر شخص کی نیکی کاجو اجرہو نا چا ہیے،وہ مذکورہ بالا اصول کے مطابق خداکے رجسٹر میں درج ہو گا اور ہرحق دار اس اجر کو حاصل کرے گا لیکن روزے کی جو عبادت ہے،اس کاصلہ اللہ تعالیٰ نے اس فارمولے کے تحت نہیں رکھا،بلکہ اس کا فیصلہ کسی اور فارمولے کے مطابق ہو گا جس کاعلم صرف اسی کو ہے۔جب جزا دینے کا وقت آئے گا،تب وہی اس کو کھولے گا اور خاص اپنے ہاتھ سے ہر روزہ رکھنے والے کا صلہ دے گا۔جس عبادت کی جزا کے لیے یہ کچھ اہتمام ہو گا کون اندازہ کر سکتا ہے کہ آسمان وزمین اور سب کامالک اس کی کیا جزا دے گا۔

سدِ ابوا بِ فتنہ

اس کی دوسری برکت یہ ہے کہ آدمی کے اندر فتنے کے جوبڑے بڑے دروازے ہیں،روزہ ان کو بڑی حد تک بند کردیتا ہے۔آدمی کے اندر فتنے کے بڑے دروازے، جیسا کہ ایک سے زیادہ حدیثوں میں تصریح ہے بطن اور فرج ہیں۔ انہی کے سبب سے آدمی نہ جانے خود کتنی ہلاکتوں میں مبتلا ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی نہیں معلوم کتنی ہلاکتوں میں مبتلاکرتا ہے۔یہی راستے ہیں، جن سے شیطان، انسان پر سب سے زیادہ حملہ آور ہوتا ہے۔اگرکوئی انسان ان کی حفاظت کر سکے تو سمجھئے کہ اس نے اپنے آ پ کو دوزخ کے عذاب سے بچا لیا ہے۔ حضور نبی کریم نے اس شخص کے لیے جنت کی ضمانت دی ہے، جو شخص ان دونوں چیزوں کی حفاظت کی ضمانت دے سکے۔ایک حدیث کاترجمہ ملاحظہ ہو: ”سہل بن سعدؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص ان چیزوں کے بارے میں مجھے ضمانت دے سکے جو اس کے دونوں کلوّں اوردونوں ٹانگوں کے درمیان ہیں،میں اس کے لیے جنت کاضامن بنتا ہوں۔“[متفق علیہ]

روزہ ان کی حفاظت کابہتر سے بہتر انتظام کرتا ہے۔انسان کے لیے روزے میں صرف کھانا پینا ہی حرام نہیں ہو جاتا بلکہ لڑنا جھگڑنا،جھوٹ بولنا،غیبت کرنا اور غیر ضرری باتوں میں حصہ لینا بھی روزے کے مقصد کے بالکل خلاف ہو جاتا ہے۔اسی طرح روزے میں صرف شہوانی تقاضوں کا پوراکرنا ہی حرام نہیں ہو جاتا بلکہ وہ تمام چیزیں بھی روزے کے منشا کے خلاف ہیں جو اس کے شہوانی میلانات کو شہ دینے والی ہوں۔روزہ خود بھی ان میلانات کو ضعیف کرتا ہے اور روزہ دارکو بھی ہدایت ہے کہ وہ حتی الامکان اپنے آپ کو ان تمام مواقع سے دور رکھے جہاں سے ان کے ان رجحانات کوغذا بہم پہنچ جانے کاامکان ہو۔

فتنے کے دروازوں کے بند ہوجانے سے اس کے لیے ان کاموں کاکرنا نہایت آسان ہو جاتا ہے جو خدا کی رضا کے کام ہیں اورجن سے جنت حاصل ہوتی ہے اور ان کاموں کی راہیں بند ہو جاتی ہیں جو خدا کی مرضی کے خلاف کام ہیں اور جن کے سبب سے آدمی دوزخ میں پڑے گا۔شیطان اس کے آگے بالکل بے بس ہو کررہ جاتاہے۔ اس کی ساری چوکڑی بھول جاتی ہے۔و ہ ڈھونڈتا ہے لیکن اس کو روزہ دار پرحملہ کرنے کے لیے کوئی راہ نہیںملتی۔یہی حقیقت ہے جو ایک حدیث شریف میں اس طرح بیان ہوئی ہے:

”حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا: جب رمضان کا مہینہ آتا ہے،جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔دوزخ کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں اور شیاطین کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں۔“ [متفق علیہ ]

قوتِ ارادی کی تربیت

روزے کی تیسری برکت یہ ہے کہ یہ آدمی کی قوت ارادی کی بہترین طریقے پر تربیت کرتا ہے۔شریعت کی حدودکی پابندی کے لیے سب سے زیادہ ضروری چیز یہ ہے کہ آدمی کی قوت ارادی نہایت مضبوط ہو۔بغیر مضبوط قوتِ ارادی کے یہ بالکل نا ممکن ہے کہ کوئی شخص شہوات وجذبات اور خواہشات کے غیر معتدل ہیجانات کو دبا سکے اور جو شخص ان کے مفرط ہیجان کو دبا نہیں سکتا،اس کے لیے یہ محال ہے کہ وہ شریعت کی حدود کو قائم رکھ سکے۔ایک ضعیف اور لچلچے ارادے کا آدمی ہر قدم پرٹھوکرکھا سکتا ہے۔جب بھی کوئی چیز اس کے غصے کواشتعال دلانے والی سامنے آجائے گی،وہ بڑی آسانی سے اس سے مغلوب ہو جائے گا اور جہاں بھی کوئی چیزاس کو اُکسانے والی نظر آجائے گی،وہیںوہ پھسل کے گر پڑے گا۔اس طرح کی ضعیف قوتِ ارادی کاانسان دنیا میں عزم وہمت کاکوئی چھوٹے سے چھوٹا کام بھی نہیں کر سکتا، چہ جائیکہ وہ شریعت کے حدود وقیود کی پابندی کرسکے بالخصوص شریعت کاوہ حصہ جوانسان کوبرائیوں سے روکتا ہے اورمضبوط صبر کامطالبہ کرتا ہے، اس صبر کی مشق روزے سے حاصل ہوتی ہے اور پھر اسی صبر سے وہ تقویٰ پیدا ہوتا ہے جو روزے کااصل مقصود ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ہے :

﴾یٰٓاَ یُّہَا الَّذِ ی±نَ اٰمَنُو± ا کُتِبَ عَلَی±کُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِ ی±نَ مِن± قَب±لِکُم± لَعَلَّکُم± تَتَّقُو± ن﴿ [ البقرہ : 183 ]

”اے ایمان والو، تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم تقویٰ حاصل کرو۔“

تاکہ تم تقویٰ حاصل کرو،یعنی صبر اور برداشت کی تربیت سے تمہاری قوت ارادی مضبوط ہو اورتمام ترغیبات و تحریکات اور تمام مشکلات و موانع کا مقابلہ کرکے تم شریعت کی حدود پر قائم رہ سکو۔ یہی قوت مومن کے ہاتھ میں وہ ہتھیار ہے جس سے وہ شیطان کے ہروارکو روک سکتا ہے جو وہ خواہشات اورجذبات اور شہوات کی راہ سے اس پرکرتا ہے۔ چنانچہ اسی بنیاد پر اس حدیث میں جواوپرگزرچکی ہے،روزے کوایک ڈھال کہاگیا ہے اورروزہ دار کو یہ ڈھال استعمال کرنے کی تعلیم یوں دی گئی ہے کہ اگرکوئی شخص اس سے گالم گلوچ یالڑائی جھگڑا شروع کردے تو اس سے کہے کہ میں روزے سے ہوں۔

جذبہ¿ ایثار کی پرورش

روزے سے انسان کے اندر جذبہ¿ ایثار کی بھی پرورش ہوتی ہے اور یہ جذبہ انسان کے ان اعلیٰ جذبات میں سے ایک ہے جن سے ہزاروں نیکیوں کے لیے اس کے اندر حرکت پیدا ہوتی ہے۔ انسان جب روزے میں بھوکا پیاسا رہتا ہے اور اپنی دوسری خواہشوں کو بھی دبانے پر مجبور ہوتا ہے تو اس طرح اسے غریبوں،فاقہ کشوں، محتاجوں اور مظلوموںکے دکھ درد اور ان کے شب وروز کااندازہ کرنے کابذات خود موقع ملتا ہے۔ وہ بھوک اور پیاس کامزا چکھ کربھوکوں اور پیاسوں سے بہت قریب ہو جاتا ہے۔ ان کی ضرورتوں اور تکلیفوں کوسمجھنے لگتاہے اور پھر قدرتی طور پراس کے اندر یہ جذبہ بھی پیدا ہوجاتا ہے کہ اگر ان کے لیے کچھ کرسکتا ہے تو کرے۔ روزے کا یہ اثرہر شخص پرا س کی استعدادو صلاحیت کے اعتبار سے پڑتا ہے کسی پرکم پڑتا ہے،کسی پر زیادہ لیکن جس شخص کے روزے میں روزے کی خصوصیات موجود ہیں ان پرروزے کا اثر پڑتا ضرورہے۔جن کا جذبہ¿ ایثار کمزور ہوتاہے،روزہ کچھ نہ کچھ ان کو بھی متحرک کردیتاہے اور جن کے اندر یہ جذبہ قوی ہوتا ہے ان کے لیے تو روزوں کامہینہ اس جذبے کے ابھرنے کے لیے گویا موسم بہار ہوتا ہے۔ ہمارے نبی کریم کی تر دستیاں اور فیض بخشیاں یوں تو ہمیشہ ہی جاری رہتی تھیں لیکن رمضان کامہینہ توگویا آپ کے جو د وکرم کامو سم بہا ر ہوتا۔حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے: ” نبی کریم یوں تو عام حالات میں بھی سب سے زیادہ فیاض تھے لیکن رمضان میں تو گویا آپ سراپاجو د وکرم ہی بن جاتے۔ “ [ متفق علیہ ]

قرآن مجید سے مناسبت

روزے کی حالت میں آدمی کی مناسبت قرآن مجید کے ساتھ بہت بڑھ جاتی ہے کیونکہ دنیاوی مشاغل کا بوجھ روزہ دار کے اوپر سے اتر ا ہوتا ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ نفس کے میلانات و رجحانات میں جیسا کہ ہم اوپربیان کرچکے ہیں،روزے کے سبب سے بڑی تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔ خاموشی،خلوت،غیر ضروری مصروفیتوں سے علیحدگی اور ترک و انقطاع کی ایک مخصوص زندگی جو روزہ دار کوحاصل ہوتی ہے،قرآن کی تلاوت اور اس کے تدبر کے لیے کچھ خاص موزونیت رکھتی ہے۔غالباً یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلی وحی آنحضرت پر اس وقت اتاری جب آپ غار حرا میں معتکف تھے۔نیز قرآن کے نزول کے لیے اللہ تعالیٰ نے رمضان کے مہینے کومنتخب فرمایا اور اس نعمت کی شکر گزاری کے لیے اس پورے مہینے میں روزہ رکھنا امت پر فرض قراردیا۔بعض احادیث میںوارد ہے کہ رمضان میں حضرت جبرائیل ؑ ہرشب میں آنحضرت کے ساتھ قرا¿ت قرآن مجید کا مذاکرہ کرنے کے لیے تشریف لایاکرتے تھے اور جتنا قرآن مجیدنازل ہواہوتا تھا اس کا مذاکرہ فرماتے تھے۔رمضان کی راتوں میں تراویح میں قرآن مجید کے سننے اورسنانے کی جواہمیت ہے وہ ہرشخص کو معلوم ہے۔یہ ساری باتیں شہادت دیتی ہیں کہ قرآن مجید کو روزوں سے اورروزوں کو قرآن مجید سے گہری مناسبت ہے۔

تبتل الی اللّٰہ

روزے کی اصل غایت دل، دماغ، جسم اورروح سب کا اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوجانا ہے۔ اسی چیز کوقرآن مجید میں تبتل الی اللّٰہ سے تعبیر کیاگیا ہے۔یہ مقام آدمی کو روزے سے حاصل ہوتا ہے اور اسی کو حاصل کرنے کے لیے روزے کے ساتھ اعتکاف کو بھی شامل کردیا گیا ہے۔اعتکاف اگرچہ ہر شخص کے لیے رمضان کے روزوں کی طرح ضروری چیز نہیں ہے بلکہ یہ اختیاری عبادت ہے لیکن تزکیہ¿ نفس کے نقطئہ نظر سے اس کی بڑی اہمیت ہے۔ اگر رمضان کے آخری عشرے میں جب روح میں تجر دو انقطاع اور اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کی ایک خاص کیفیت وحالت پیدا ہو جاتی ہے، آدمی اعتکاف میں بیٹھ جائے تو اس سے روزے کاجو اصل مقصود ہے وہ کمال درجہ حاصل ہوتا ہے۔ آنحضرت رمضان کے آخری عشرہ میں جو اہتمام فرماتے تھے، اس کا ذکر حضرت عائشہ ؓ اس طرح فرماتی ہیں: ”جب رمضان کاآخری عشرہ آتا تو آنحضرت اپنے اہل وعیال سے کنارہ کش ہو جاتے اورکمرکس کے اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے کھڑے ہوتے۔“

[ مسند احمد بن حنبل، ج، ۶، ص ۷۶ ]

روزے کی آفات اور ان کا علاج

روزے کی برکات میں سے یہ چند برکات ہم نے بیان کی ہیں لیکن یہ برکتیں اس صورت میں ظاہر ہوتی ہیں جب آدمی اپنے روزے کوان تمام آفتوں سے محفوظ رکھ سکے جو روزے کوخراب کر دینے والی ہیں۔یہ آفتیں چھوٹی اور بڑی بہت سی ہیں۔ہم تزکیہ¿ نفس کے طالبوں کی واقفیت کے لیے یہاں چند بڑی آفتوں کا ذکر کریں گے اور ساتھ ہی ان کے وہ علاج بھی بتلائیں گے جو قرآن اور حدیث میں بیان ہوئے ہیںتاکہ جو لوگ اپنے روزوں کی حفاظت کرنا چاہیں،ان سے اپنے آپ کو بچا سکیں۔

لذتوں اور چٹخاروں کا شوق

روزے کی عبادت جیسا کہ اوپر واضح ہو چکا ہے اس لیے مقرر کی گئی کہ آدمی اپنی خواہشوں پر قابو پاسکے۔یہ مقصد اسی صورت میں حاصل ہوسکتا ہے جب آدمی اس مقصد کو روزوں میں ملحوظ رکھے اور ان رغبتوں کو حتی الامکان دبائے جن کے آگے اپنی روز مرہ زندگی میں وہ اکثربے بس ہو جایا کرتا ہے اوریہ بے بسی اس کو بہت سی اخلاقی اور شرعی کمزوریوں میں مبتلا کردیتی ہے لیکن بہت سے لوگ اس مقصد کو بالکل ملحوظ نہیں رکھتے، ان کے نزدیک روزے کامہینہ خاص کھانے پینے کامہینہ ہوتا ہے۔بعض لوگوں کایہ بھی خیال ہوتا ہے کہ اس مہینے میں کھانے پینے پرجتنا بھی خرچ کیاجائے خدا کے ہاں اس کا کوئی حساب نہیں ہوگا۔اس خیال کے لوگ اگر خوش قسمتی سے کچھ خوش حال بھی ہو تے ہیںتو پھر فی الواقع ان کے لیے روزوں کا مہینہ کام ودہن کی لذتوںسے متمتع ہونے کاموسم بہار ہی بن کرآتا ہے۔وہ روزے کی پیدا کی ہوئی بھوک اور پیاس کو نفس کشی کے بجائے نفس پروری کاذریعہ بنا لیتے ہیں۔وہ صبح سے لے کر شام تک طرح طرح کے پکوانوں کے پروگرام بنانے اوران کے تیار کرانے میں اپنا وقت صرف کرتے ہیں اورافطار سے لے کر سحر تک اپنی زبان اور اپنے پیٹ کی تواضع میں اپنا وقت گزارتے ہیں۔ میں ایک ایسے بزرگ سے واقف ہوں جو ایک دین دار آدمی تھے لیکن ان کا نظریہ یہ تھا کہ رمضان کامہینہ کھانے پینے کاخاص مہینہ ہے۔چنانچہ اس نظریے کے تحت وہ رمضان کے مہینے کے لیے کھانے پینے کی مختلف چیزوں کااہتمام بہت پہلے سے شروع کر دیتے تاکہ رمضان میںان کے تنوعات سے متمتع ہو سکیں۔

ہرشخص جانتا ہے کہ روزہ کھانے پینے کے شوق کواکسا دیتا ہے لیکن روزے کامقصود اسی اکساہٹ کو دبانا ہے نہ کہ اس کی پرورش کرنا۔اس وجہ سے صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنی قوت کا ر کو باقی رکھنے کے لیے کھائے پیئے تو ضرور لیکن ہرگز کھانے پینے کو اپنی زندگی کاموضوع نہ بنالے جوکچھ بغیرکسی خاص سرگرمی اور بغیر کسی خاص اہتمام کے میسر آجائے۔ اس کو صبر اورشکرکے ساتھ کھا لے۔اگر کوئی چیز پسند کے خلاف سامنے آئے تو اس پر بھی گھر والوں پرغصے کااظہار نہ کرے۔اگرکسی کو خدا نے فراغت وخوشحالی دی ہو تواسے چاہیے کہ وہ خود اپنے کھانے پینے پراسراف کرنے کے بجائے غریب اورمسکین روزہ داروں کی مدد اور ان کو کھلانے پلانے پر خرچ کرے۔اس چیز سے اس کے روزے کی روحانیت اوربرکت میں بڑا اضافہ ہوگا۔رمضان میں نبی کریم کی فیاضی کاجو حال ہوتا تھا اس کے متعلق ایک حدیث اوپرگزر چکی ہے۔روزہ افطار کرانے کے ثواب سے متعلق ایک حدیث کا ترجمہ ملاحظہ ہو: ”زیدؓ بن خالد جہنی نبی اکرم سے روایت کرتے ہیں کہ جس نے کسی روزہ دارکو افطار کرایا،اس کے لیے روزہ دار کے برابراجر ہے اوراس سے روزہ دار کے اجر میں کوئی کمی واقع نہیں ہوگی۔“ [ ریاض الصالحین بحوالہ ترمذی ]

اشتعال طبیعت

آدمی جب بھوکا پیا سا ہو توقاعدہ ہے کہ اس کاغصہ بڑھ جایاکرتا ہے۔جہاں کوئی بات ذرا بھی اس کے مزاج کے خلاف ہوئی فوراً اس کو غصہ آجاتا ہے۔روزے کے مقاصد میں سے یہ چیز بھی ہے کہ جن کی طبیعتوں میں غصہ زیادہ ہووہ روزے کے ذریعہ سے اپنی طبیعتوں کی اصلاح کریں لیکن یہ اصلاح اسی صورت میں ہو سکتی ہے جب آدمی روزے کو اپنی طبیعت کی اس خرابی کی اصلاح کاذریعہ بنائے۔اگر وہ ا س کواپنی طبیعت کی اصلاح کاذریعہ نہ بنائے تو اس بات کا بڑا اندیشہ ہے کہ روزہ اس پہلو سے اس کے لیے مفید ہونے کے بجائے الٹا مضر ہو جائے یعنی اس کی طبیعت کااشتعال کچھ اور زیادہ ترقی کرجائے۔ جو شخص اس کو اپنی اصلاح کاذریعہ بناناچاہے اس کے لیے ضروری ہے کہ جب اس کی طبیعت میں اشتعال پیدا ہویا کوئی دوسرااس کے اندر اس اشتعال کو پیدا کرنے کی کوشش کرے تو وہ فوراً اس بات کو یاد کرے اناصائم (میں روزے سے ہوں)اور یہ چیز روزے کے مقصد کے بالکل منافی ہے۔ یہ طریقہ اختیار کرنے سے آدمی کو غصہ پر قابو پانے کی تربیت ملتی ہے اور آہستہ آہستہ یہ تربیت اس کے مزاج کو بالکل بدل دیتی ہے یہاں تک کہ اس کو اپنے غصے پر اس حد تک قابو حاصل ہو جاتا ہے کہ اس کو وہ وہیں استعمال کرتا ہے جہاں وہ اس کو استعمال کرنا چاہتا ہے۔

لیکن بہت سے لوگ اسلام کے بتائے ہوئے اس اصول کے بالکل خلاف روزے کو سپر کے بجائے تلوار کے طورپراستعمال کرنے کے عادی بن جاتے ہیں یعنی روزہ ان کے لیے ضبط نفس کے بجائے اشتعال نفس کابہانہ بن جایاکرتا ہے۔ وہ بیوی پر، بچوں پر،نوکروں پر،ماتحتوں پر، ذرا ذرا سی بات پر برس پڑتے ہیں، صلواتیںسناتے ہیں،گالیاں بکتے ہیں اور بعض حالات میں مار پیٹ سے بھی دریغ نہیں کرتے اور پھر اپنے آپ کو اس خیال سے تسلی دے لیتے ہیں کہ کیاکریں، روزے میں ایسا ہو ہی جایاکرتا ہے۔

جو لوگ اپنے نفس کو اس راہ پرڈال دیتے ہیں،ان کے لیے روزہ اصلاح نفس کاذریعہ بننے کے بجائے ان کے بگڑے ہوئے نفس کو بگاڑنے کامزید سبب بن جایاکرتا ہے۔جو روزہ بھی وہ رکھتے ہیں وہ ان کے نفس مشتعل کرنے کے لیے چابک کا کام دیتا ہے جس سے ان کانفس تیز سے تیز تر ہوتا جاتا ہے۔جو شخص روزے کی برکتوں سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ روزے کو اپنے نفس کے لیے ایک لگام کے طور پراستعمال کرے اورہراشتعال دلانے والی بات کو اسی سپرپررو کے جس کاہم نے اوپر ذکرکیا ہے۔تجربہ گواہی دیتا ہے کہ اگرروزے کے احترام کا یہ احساس طبیعت پرغالب رہے تو آدمی بڑی سے بڑی ناگواربات بھی برداشت کرجاتا ہے اور اس پرکوئی احساس کمتری طاری نہیں ہوتا بلکہ اس طرح کی آزمائش کے جتنے مواقع اس کے سامنے آتے ہیں وہ ہر موقع پر یہ محسوس کرتا ہے کہ اس نے شیطان پرایک فتح حاصل کی ہے اور اس فتح کااحساس اس کے غصہ کو ایک راحت واطمینان کی شکل میں تبدیل کردیتا ہے۔

دل بہلانے والی چیزوںکی رغبت

روزے کی ایک عام آفت یہ بھی ہے کہ بہت سے لوگ جن کے ذہن کی تربیت نہیںہوئی ہوتی ہے، کھانے پینے اور زندگی کی بعض دوسری دلچسپیوں سے علیحدگی کوایک محرومی سمجھتے ہیں اور اس محرومی کے سبب سے ان کے لیے دن کاٹنے مشکل ہوجاتے ہیں۔اس مشکل کاحل وہ یہ پیدا کرتے ہیں کہ بعض ایسی دلچسپیاں تلاش کرلیتے ہیں جو ان کے خیال میں روزے کے مقصد کے منافی نہیں ہوتیں۔مثلاً یہ کہ تاش کھیلتے ہیں،ناول،ڈرامے اور افسانے پڑھتے ہیں،ریڈیو پرگانے سنتے ہیں، دوستوں میں بیٹھ کر گپیں ہانکتے ہیں اور بعض من چلے سینما کے ایک آدھ شو دیکھ آنے میں بھی کوئی قباحت نہیں خیال کرتے۔ ان سب سے زیادہ سہل الحصول دلچسپی بعض لوگ یہ پیدا کر لیتے ہیں کہ اگر ایک دو ساتھی میسر آجائیں تو کسی کی غیبت میں مصروف ہو جاتے ہیں۔روزے کی بھوک میں آدمی کاگوشت بڑالذیذ معلوم ہوتا ہے اور تجربہ گواہی دیتا ہے کہ اگر روزہ رکھ کر آدمی کو یہ لذیذ مشغلہ مل جائے تو آدمی جھوٹ،غیبت، ہجو اوراس قسم کی دوسری آفتوں کا جن کو حدیث میں حصائد اللسان سے تعبیر کیاگیا ہے،ایک انبار لگادیتا ہے اور اسی مشغلہ میں صبح سے شام کر دیتا ہے۔یہ چیزیں آدمی کے روزے کو بالکل برباد کرکے رکھ دیتی ہیں۔

ان کاایک علاج تو یہ ہے کہ آدمی خاموشی کو روزے کے ضروری آداب میں سے سمجھے۔ہم اوپر بیان کرچکے ہیں کہ پچھلے مذاہب میں چپ رہنابھی روزے کی شرائط میںداخل تھا۔چنانچہ قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مریم روزے کی حالت میں صرف اشارہ سے بات کرتی تھیں۔اسلام نے روزہ داروں پر یہ پابندی تو عائد نہیں کی ہے لیکن اس پابندی کے نہ ہونے کے معنی یہ نہیں ہیں کہ آدمی روزے میں اپنی زبان کو چھوٹ دے دے بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اگرکوئی ضروری اور مفید بات کرنے کاموقع پیش آجائے تو کرلے، ورنہ خاموش رہے۔ جو شخص ہر قسم کی اناپ شناپ اور جھوٹی سچی باتیں زبان سے نکالتا رہتا ہے، حدیث شریف میں آیا ہے کہ پھر اس کا محض کھانا پینا چھوڑ دینا اللہ کے نزدیک ایک با لکل بے نتیجہ کام ہے:

”حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم نے ارشاد فرمایا:جو شخص جھوٹ بولنا اورجھوٹ پرعمل کرنا نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس بات کی کوئی ضرورت نہیںکہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔“ [ بخاری،کتاب الصوم ]

اس کا دوسرا علاج یہ ہے کہ آدمی کاجو وقت گھرکے کام کاج اورمعاش کی مصروفیتوں سے فاضل بچے اس کو مفید چیزوں کے مطالعہ میں صر ف کرے۔روزے کے دنوں کے لیے قرآن شریف،حدیث، سیرتِ نبوی، سیرت صحابہ اور تزکیہ¿ نفس کی کتابوں کے مطالعے کاایک باقاعدہ پروگرام بنالے۔خصوصیت کے ساتھ قرآن مجید کے تدبر پر،پابندی کے ساتھ کچھ نہ کچھ وقت ضرورصرف کرے۔قرآن مجید کو روزے کی عبادت کے ساتھ، جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے،ایک خاص مناسبت ہے۔اس مناسبت کے سبب سے روزہ دار پر قرآن کی خاص برکتیں ظا ہر ہوتی ہیں۔ہرروزہ دار کو ان برکتوں کے حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔قرآن مجید اورماثور دعاو¿ں کے یاد کرنے کے لیے بھی آدمی کچھ نہ کچھ وقت ضرور نکالے۔اس طرح قرآن مجید اورمسنون دعاو¿ں کاآدمی کے پاس آہستہ آہستہ ایک ذخیرہ جمع ہو جاتا ہے،جو آدمی کے جمع کئے ہوئے مال واسباب کے ذخیروں سے کہیں زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔

ریا

ریا کافتنہ جس طرح تمام عبادتوں کے ساتھ لگا ہواہے، اسی طرح روزے کے ساتھ بھی لگا ہوا ہے۔بہت سے لوگ روزے تو رکھتے ہیں بالخصوص رمضان کے روزے لیکن ہو سکتا ہے کہ ان میں بہت کچھ دخل اس احساس کو بھی ہوکہ روزے نہ رکھے تو پاس پڑوس کے روزہ داروں میں نکو بننا پڑے گا یا لوگوں میں جودینداری کا بھرم ہے وہ جاتا رہے گا یااپنے گھر اور خاندان والے ہی برا مانیں گے۔اس طرح کے مختلف احساسات ہیں جو رمضان کے روزوں میں شریک بن جاتے ہیں اور اس طرح وہ خلوص نیت آلودہ اورمشتبہ ہو جایاکرتا ہے جو روزے کی حقیقی برکتوں کے ظہور کے لیے ضروری ہے۔ اس لیے کہ جس بندے میں خدا کی خوشنودی کے سوا کوئی اورمحرک شریک ہوجائے، یہ روزہ وہ روزہ نہیں ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”بندہ میرے لیے اپنا کھانا پینا اور اپنی شہوت چھوڑتا ہے روزہ میرے لیے ہے اور میں اس کابدلہ دوں گا۔“ [ مو¿طا امام مالک، باب جامع الصیام ]

بلکہ یہ روزہ اسی غرض کے لیے ہوجائے گا جس غرض کے لیے رکھا گیا ہے۔

اس آفت کا اوّل علاج تو یہ ہے کہ آدمی اپنی نیت کو ہر دوسرے شائبہ سے حتی الامکان پاک کرنے کی کوشش کرے۔اسے ہر روز یہ سوچنا چاہیے کہ اپنے روزے کوتمام برکتوں سے محروم کرکے فاقہ کے درجے میں ڈال دینا انتہائی نادانی ہے۔آخر یہ مشقت اٹھانے کا حاصل کیا ہوا جب کہ یہ دنیا میں بھی موجب کلفت اور آخرت میں بھی موجب وبال بنے ؟اس طرح نفس کے سامنے باربار روزے کی قدروقیمت واضح کرنی چاہیے تاکہ اس کی نگاہ دوسروں کی طرف سے ہٹ کر خدا کی طرف متوجہ ہو۔

اس کا دوسرا علاج یہ ہے کہ آدمی رمضان کے فرض روزوں کے علاوہ نفلی روزے بھی رکھے اوراس میںدوباتوں کااہتمام کرے: ایک حتی الامکان اخفا کایعنی ان کااشتہار دینے کی کوشش نہ کرے۔دوسرے اعتدال یامیانہ روی کا یعنی نفلی روزے اسی حد تک رکھے جس حد تک خواہشات و شہوات کو حالت اعتدال پرلانے کے لیے ان کی ضرورت ہو۔اگراس حد سے آدمی بڑھ جائے گاتو و ہ چیز خود بھی ایک فتنہ ہے اور اسلام نے اس سے بھی بڑی شدت کے ساتھ روکا ہے۔روزے کی حیثیت ایک دوا کی ہے،وہ اگر ضرورت سے زیادہ استعمال کرلی جائے تو بسااوقات یہ خود بھی ایک بیماری بن جاتی ہے۔بشکریہ : ”چشمِ بیدار“ لاہور

٭٭٭٭٭٭

مزید : ایڈیشن 1