اسماءہمارے سکول کی معزز ٹیچر ‘ میری بیٹی جیسی تھی ‘ خالد جاوید وڑائچ

اسماءہمارے سکول کی معزز ٹیچر ‘ میری بیٹی جیسی تھی ‘ خالد جاوید وڑائچ

ملتان (نیوز رپورٹر) ڈائریکٹر لارئیٹ آف سکولز چوہدری خالد جاوید وڑائچ نے کہا ہے کہ ہمارا تدریسی ادارہ پچھلے 27 سالوں سے ملتان میں انتہائی معقول فیس میں بچوں کو زیور تعلیم سے(بقیہ نمبر34صفحہ12پر )آراستہ کر رہا ہے اور بہترین نتائج دینے سمیت تعلیم یافتہ مرد و خواتین کو با عزت روزگار بھی فراہم کر رہا ہے سکول کی کارکردگی کو ڈپٹی کمشنر ملتان اور ای ڈی او تعلیم و وزیراعلی پنجاب نے بھی سراہا ہے۔ اور تعریفی اسناد بھی دی ہیں لاریٹ گروپ آف سکول میں آج بھی پچھلے 27 سالہ پرانی ٹیچرز کام کر رہی ہیں جس سے واضح ہے کہ سکول ٹیچر انتظامیہ سے مطمئن ہیں سکول کی بڑھتی ہوئی تعداد بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ سکول انتظامیہ والدین کے معیار پر پورا اتر رہی ہے۔پچھلے بارہ سالوں کا ریکارڈ دیکھیں تو سکول نے ملتان بورڈ میں مسلسل ٹاپ پوزیشن حاصل کرکے منفرد ریکارڈ بنایا ہے ان گزرے 27 سالوں میں سکول میں کوئی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا جس پر اسکول کے والدین نے ٹیچرز نے کوئی احتجاج کیا ہو 13 مئی 2019 کو جو افسوسناک واقعہ ٹیچر اسمائ کی موت کی صورت میں پیش آیا ہے اس پر انتظامیہ بھی شدید دکھی ہے اور لاریٹ سکول کی ٹیچرز اور اس تدریسی گروپ سے منسلک والدین نے بھی ادارے کی کارکردگی پر اپنے تحفظات کا اظہار نہیں کیا۔ ٹیچر اسمائ خوشی سے اسکول آتی تھی اور خوشی اور اپنی مرضی سے ریفریشر کورس میں حصہ لے رہی تھی۔ ابھی کچھ جملے ادا کیے تھے کہ چکرا کر سر کے بل گر گئی اور بے ہوش ہوگئی ساتھی ٹیچر نے فوری طور پر طبی امداد کے لیے اٹھایا اور سکول کا رکشہ اور ایک کار جس میں سکول کے پر نسپل، آیا اور ٹیچر اسمائ کو ڈال کر کے نزدیک ترین نجی اسپتال میں پہنچا دیا۔اور اس کے سگے بھائی اور ٹیچر کی ممانی کو بھی بلا لیا۔اس پورے مرحلے میں دس منٹ سے بھی کم وقت لگاو¿ اشرف نصیر ہسپتال کے ڈاکٹر نے ٹیچر کو چیک کرکے نشتر ہسپتال ریفر کر دیا اس دوران ہی سکول کے عملے نے ریسکیو کو بلا لیا اور ٹیچر کو ریسکیو کی ایمبولینس میں ڈال کر نشتر ہسپتال پہنچادیا سکول کے عملے نے سکول مالکان کو بھی اطلاع دی جس پر حارث جاوید وڑائچ اپنی والدہ کے ساتھ ہسپتال پہنچ گیا اور فیملی کے دیگر ممبران بھی جن میں خالد جاوید وڑائچ کے بھائی اور بھانجا بھی سکول کے عملے کے ساتھ ہسپتال پہنچ گئے وہاں ایمرجنسی وارڈ میں ٹیچر کو چیک کیا گیا اور اس کے بعد ڈاکٹر نے اس کی موت کی تصدیق کردی دی نشتر انتظامیہ نے ٹیچر آسمائ کے ورثائ کی تسلی و مرضی کے مطابق ڈیڈ باڈی کو ورثائ کے حوالے کردیا۔اس واقعے کی مکمل تحقیق کرکے اور تمام پہلوو¿ں کا جائزہ لے کر یہ بات وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ٹیچر کی موت سکول انتظامیہ کی غفلت یا کسی قسم کے ذہنی دباو¿ کی وجہ سے نہیں ہوئی بلکہ یہ طبعی موت تھی جو کسی بھی وقت کسی کو بھی آ سکتی ہے موت کا وقت اور جگہ کا تعین طے ہوتا ہے ہے سکول کا قصور صرف اتنا ہے کہ یہ واقعہ سکول کی عمارت میں ہوا ہے میری تمام دوستوں سے گزارش ہے کہ واقعہ کو غلط رنگ دیکر کسی بے گناہ کی تذلیل نہ کی جائے ہم حکومت پاکستان کے تمام ایجنسیوں اور اداروں کو دعوت دیتے ہیں کہ واقعے کی شفاف انکوائری کریں اور حقائق عوام تک پہنچائیں ہم ہر طرح کے تعاون کے لیے تیار ہے ایک لمحے کے لئے سوچیں اگر یہ واقعہ آپ کے ساتھ پیش آئے اور لوگ آپ کو بے قصور ہونے کے باوجود آپ کی شہرت کو خراب کریں تو آپ کے ساتھ کیا گزرے گی ہم مرحوم کے درجات کی بلندی کے لئے دعا کے ساتھ اس کے والدین سے ہر طرح کا تعاون کرنے کے لیے بھی تیار ہیں تمام سچے پاکستانیوں سے گزارش ہے کہ جن فریقین کا نقصان ہوا ہے ان کے ساتھ اظہار ہمدردی اور اس نازک وقت پر ان کا ساتھ دیں نہ کہ بلاوجہ ان کی تذلیل کریں مس اسمائ ہمارے اسکول کی معزز ٹیچر تھی اور میری بیٹی جیسی تھی جو ہم سے بچھڑ گئی جس کا نقصان ہمیں اور اس کے والدین کو ہوا اور تذلیل بھی میڈیا پر ہماری ہو رہی ہے اللہ تعالی ہم سب کو ہدایت دے۔

خالد جاوید وڑائچ

مزید : ملتان صفحہ آخر