بیرونی قرضے لے کرٹیکسوں میں اضافہ کیا جاتا ہے ،حافظ نعیم الرحمن

بیرونی قرضے لے کرٹیکسوں میں اضافہ کیا جاتا ہے ،حافظ نعیم الرحمن

کراچی(اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ حکمران آئی ایم ایف سے قرضے لے رہے ہیں ، جس کا فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کے ایمان اور عقیدے کو نشانہ بنایاجاتاہے ، ہمارے نصاب میں قرآنی آیات ختم کرنے ، توہین رسالت کے قانون میں ترمیم کرنے ، ٹیکسوں میں اضافہ اور ملک میں مہنگائی کرنے کی ڈیل کی جاتی ہے ۔دین بیزار طبقہ اورآئی ایم ایف پاکستان میں مذہب کی روح ختم کرنا چاہتے ہیں ۔ہمارے حکمرانوں کے اندر جرات نہیں کہ آئی ایم ایف سے دوٹوک بات کریں، ملک کے معاشی حالات اس وقت تک درست نہیں ہوسکتے جب تک معاشی نظام سود سے پاک نہ ہو ،پورا نظام معیشت سود پر چل رہا ہے جو کہ اللہ اور رسول سے جنگ کے مترادف ہے ،رمضان المبارک قرآن کا مہینہ ہے ، دین کا تقاضہ اور قرآن کی پکار یہی ہے کہ قرآن پر عمل کیا جائے اور سود سے پاک معاشی نظام نافذ کیا جائے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ یکجا اورمتحد ہوکر مزاحمتی قوت بنیں اور طاغوتی قوتوں کو للکاریںاور یہی قرآن کا پیغام ہے ۔ان خیالات کا اظہا رانہوں نے جماعت اسلامی ضلع وسطی گلبرگ علاقہ شفیق کالونی میں عوامی دعوت افطارسے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر ناظم علاقہ قالود خان ، نائب ناظم علاقہ ماسٹر سیف الرحمن و دیگر بھی موجود تھے ۔حافظ نعیم الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے مزید کہاکہ روزہ صرف بھوکے پیاسے رہنے کا نام نہیں بلکہ روزے میں جھوٹ اور فضول اعمال سے بچنا ضروری ہے ، روزہ ہماری آنکھ، زبان اور ہمارے تمام اعضاءکا بھی ہے ،روزہ درحقیقت اللہ کے حکم کی پابندی کا نام ہے ،اللہ ہی کے حکم پر عمل کرنے سے ہمارے سارے معاملات درست ہوں گے ۔انہوں نے کہاکہ روزہ انسان کے اندر تقویٰ پیدا کرتا ہے ، روزے میں انسان کے سارے معاملات اللہ کی نافذ کردہ حدود کے مطابق ہو ںتو اسے تقویٰ کہتے ہیں ، تقویٰ ہماری پوری زندگی پر محیط ہے ، ہمیں اسے محدود نہیں سمجھنا چاہیئے اور قرآن مجید کے ایک ایک حرف پر عمل کرنا چاہیے ۔انہوں نے کہاکہ رمضان کا مہینہ ہے تمام افراد اس بابرکت مہینے میں ہدف بنالیں کہ قرآن مجید ناظرہ کے ساتھ پڑھیں گے اور کم ازکم سورہ بقرہ کو ترجمہ کے ساتھ پڑھیں گے ۔انہوں نے کہاکہ سورہ بقرہ میں نکاح ، طلاق ، لین دین ، معیشت اور سود کے معاملات اوراحکامات ہیں ۔انہوں نے کہاکہ رمضان المبارک ہم سب کے لیے ایک بہت بڑا تحفہ ہے ، جس میں تینوں عشروں کی فضیلت بتائی گئی اور دعائیں بھی سکھائی گئی، رمضان میں نفل نماز کا ثواب فرض نماز کے برابر کردیا جاتا ہے جبکہ فرض نماز کا ثواب ستر نمازوں کے ثواب برابر ہوجاتاہے ، اللہ تعالیٰ نے ماہ رمضان میں ایک ایسے رات بھی رکھی ہے جو ہزاروں راتوں سے افضل رات ہے جس میں پچھلے تمام گناہوں کی بخشش کی جاتی ہے ۔اس لیے ہمیں فضیلتوں ، برکتوں والے اس مہینے کواپنی مغفرت اور بخشش کا ذریعہ بنا نا چاہیئے ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر