اگر حکومت یہ کام کر لے تو مارکیٹوں میں سے رش کم کیا جا سکتا ہے۔۔۔آل پاکستان انجمن تاجران نے تجویز دے دی

اگر حکومت یہ کام کر لے تو مارکیٹوں میں سے رش کم کیا جا سکتا ہے۔۔۔آل پاکستان ...
اگر حکومت یہ کام کر لے تو مارکیٹوں میں سے رش کم کیا جا سکتا ہے۔۔۔آل پاکستان انجمن تاجران نے تجویز دے دی

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)آل پاکستان انجمن تاجران کے صدر اجمل بلوچ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے جو ایس او پیز متعارف کروائی ہیں ان کی وجہ سے خریداروں کا ہجوم ہوتا ہے،مختصر وقت میں لوگوں کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنی خریداری مکمل کریں جس کے باعث رش میں اضافہ ہوتا ہے، رش کی وجہ سے کورونا کے خدشات بھی ہیں جس پر صوبوں کی جانب سے سختی کرنے کی اپیل کی جاتی ہےجبکہ حکومت کو اوقات کار پر پابندی ختم کرنی چاہیےتاکہ رش میں کمی ہو۔

 نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے  اجمل بلوچ کا کہنا تھا کہ اگر لاک ڈاؤن میں نرمی کا دورانیہ بڑھا دیا جائے تو رش کنٹرول ہو جائے گا، عید میں کل آٹھ دن ہیں اور لاک ڈان میں نرمی کی پالیسی میں بھی تین دن مکمل لاک ڈاؤن رکھنے کی ہدایات ہیں جبکہ عید کے دوران خریدارا ور تاجر دونوں ہی پریشان ہیں۔اجمل بلوچ نے کہا کہ تاجران کو دکانیں کھولنے نہیں دی جاتیں پولیس گرفتاریاں ڈال رہی ہے، اس سے زیادہ برا وقت تاجر برادری نے کبھی نہیں دیکھا حالانکہ تاجر برادری ایسا طبقہ ہے جس نے ہر حالات میں اپنی حکومت کا مکمل ساتھ دیا، آج ایک وقت آگیاہے کہ دینے والے ہاتھوں کا شمار بھی لینے والوں میں ہے، تاجران کی مشکلات میں کمی کرنے کی بجائے بڑھائی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹائیگر فورس ابھی تک بروئے کار نہیں لائی گئی، اگر اس کو کام پر لگا کر انتظامیہ کیساتھ عوام میں سماجی فاصلوں اور حفاظتی تدابیر پر عمل درآمد کروایا جائے تو تاجر اور خریدار با آسانی مارکیٹ میں آ جا سکتا ہے، بازاروں میں انتظامیہ کی جانب سے صرف تاجروں پر سختیاں کی جاتی ہیں، بڑے کاروباری سیکٹر میں کسی قسم کا کورونا نہیں چھوٹے تاجر طبقے پر کورونا کی وجہ سے سختیاں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ لاک ڈاؤن میں دکانیں کھولنے کا دورانیہ بڑھایا جائے اور تین دن دکانیں بند رکھنے کی شرط بھی ختم کی جائے تاکہ تاجروں کو درپیش مسائل ختم ہوں۔

مزید :

بزنس -