دنیا میں کورونا وائرس کیسے پھیلا؟

دنیا میں کورونا وائرس کیسے پھیلا؟
دنیا میں کورونا وائرس کیسے پھیلا؟

  

اس بات کا پتہ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے مہلک کورونا وائرس کی وبا کہاں سے پھیلنی شروع ہوئی۔ سائنسدان کسی جاسوسی کی طرح ان واقعات کی کڑی جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جنگل میں کئی طرح کے جانوروں میں یہ وائرس ہو سکتا ہے خاص طور پر چمگادڑیں جن میں کئی طرح کے کرونا وائرس پائے جاتے ہیں۔اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کہ جنگلی حیات سے متعدی امراض پھیلنے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا اور انسانی آبادی نئے نئے وائرس کی زد میں آ رہی ہے۔ انسان جنگلات پر قبضہ کر رہا ہے جنگلات کی زمین استعمال کی جا رہی ہے جو جنگلی حیات سے منتقل ہونے والے وائرس پھیلنے کی وجہ ہو سکتی ہے۔

یہ وائرس پھیپھڑوں کو متاثر کرتا ہے اور دو بنیادی علامات بخار اور مسلسل خشک کھانسی ہیں۔مسلسل کھانسی کا مطلب ہے کہ آپ قریباً ایک گھنٹے تک کھانستے رہیں ہوں یا چوبیس گھنٹے کے عرصے میں آپ کو کھانسی کے کم از کم تین دوروں کا سامنا کرنا پڑا ہو یعنی کہ آپ کی کھانسی عام حالات کے مقابلے میں زیادہ ہو۔اس کا نتیجہ سانس پھولنے کی شکل میں بھی نکل سکتا ہے جسے اکثر سینے کی جکڑن، سانس لینے میں مشکل یا دم گھٹنے جیسی کیفیت بھی کہا جاتا ہے۔

چینی شہر ووہان میں سب سے پہلے یہ وائرس نظر آیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اسی بنا پر بھارت نے چین پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے ہاں کورونا وائرس کی صورتحال کو چھپا رہا ہے بلکہ دنیا میں وائرس کے پھیلاؤ کا ذمہ دار بھی ہے۔ چین کے ہمسایہ ممالک میں بھارت ایسا ملک ہے جہاں سرحدیں سانجھی ہونے کی وجہ سے اس وائرس کی آمد بھارت میں ہوئی۔

بھارت میں چینی سفارت خانے کے مشیر اور ترجمان جی رونگ نے بھارتی الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دوسروں پر تہمت لگانے یا الزام تراشی سے انتہائی قیمتی وقت ضائع ہوگا۔چینی حکومت نے وبا سے متعلق معلومات کے اجرا اور تبادلے کے حوالے سے ہمیشہ کھلا اور شفاف رویہ برقرار رکھا ہے۔ کوروناوائرس ایک نوول وائرس ہے جو پہلے نہیں دیکھا گیا۔ اس کا پتہ چلانے، تحقیق، جانچ اور تصدیق میں قدرتی طور پر وقت درکار ہے۔یہ امر قابل زکر ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلنے کے بعد صرف بھارت ہی نہیں دنیا کے دیگر ملکوں میں بھی چینی شہریوں کو نسلی تعصب کا نشانہ بننا پڑ ا ہے۔

بھارتی سرکار نے اپنے عوام کو یہ باور کرادیا ہے کہ کورونا وائرس کو بھارت میں لانے والے چینی باشندے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے واقعات کے ساتھ ملک کی شمال مشرقی ریاستوں کے چینیوں سے مشابہ شہریوں کو مبینہ طورپر نسلی تعصب کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔چین کی سرحد سے ملحقہ بھارت کی شمال مشرقی ریاستیں بالخصوص منی پور، اروناچل پردیش اور سکم کے باشندوں کے چہرے چین کے منگولیائی نسل کے لوگوں سے کافی مشابہ ہوتے ہیں اور عام طور پر لوگ چینی اور ان بھارتی شہریوں میں فرق نہیں کرپاتے ہیں۔ اس لیے کورونا وائرس کے پھیلنے کے بعد لوگ ان بھارتی شہریوں کو بھی چینی سمجھ کر شبہ کی نگا ہ سے دیکھنے لگے ہیں اور ان کے خلاف نسلی تعصب کے متعدد واقعات اب تک پیش آچکے ہیں۔بھارتی پولیس کو کورونا کے حوالے سے نسلی حملوں کی کوئی باضابطہ شکایت تو موصول نہیں ہوئی ہے تاہم اس نے اس طرح کے واقعات کا اعتراف کیا ہے اور یقین دہانی کرائی ہے کہ قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور لوگوں میں بیداری مہم چلائی جائے گی۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بھی چین پر الزام عائد کیا تھا کہ اس حوالے سے واضح ثبوت موجود ہیں کہ کورونا وائرس چین کے شہر ووہان کی ایک لیباٹری سے شروع ہوا۔ جبکہ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت کی طرف سے یہ دعویٰ محض قیاس پر مبنی ہے اور اس نے ایسے کوئی شواہد نہیں دیکھے ہیں۔کل ہی امریکی صدر نے کورونا کے حوالے سے ہی چین سے تعلقات ختم کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ انہیں چینی ہم منصب سے گفتگو کی کوئی خواہش نہیں۔ چین سے تعلقات ختم ہونے پر امریکہ 500 ارب ڈالر بچا لے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کورونا کو’چینی وائرس‘ بھی قرار دیا تھا جس کے رد عمل میں چین نے امریکہ کو اپنے الزام تراشیوں سے باز رہنے اور اپنے کام پر توجہ دینے کا کہا تھا۔ صدر ٹرمپ کا موقف ہے کہ اگر چین اس وبا سے بہتر انداز میں نمٹتا تو باقی وائرس دنیا تک نہ پھیلتا۔ صدر ٹرمپ نے مزید کہا تھا کہ ان کا ملک چین سے معاشی نقصانات کے ضمن میں خاطر خواہ معاوضہ ادا کرنے کا مطالبہ کرے گا۔

ایک طرف تو امریکہ چین پر وائرس کی پیدائش اور پھیلاؤ کا الزام عائد کر رہا ہے تو دوسری طرف امریکی فوج کے سربراہ جنرل مارک ملی نے کہا ہے کہ کورونا وائرس چینی لیبارٹری میں حیاتیاتی ہتھیار کے طور پر نہیں بنایا گیا یہ قدرتی طور پر ہی ماحول میں موجود تھا۔ خفیہ ایجنسی کے حکام نے کورونا وائرس کے متعلق گردش کرنے والی قیاس آرائیوں کا جائزہ لیا لیکن معاملے پر کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ چین پر امریکا کی تنقید کا صرف ایک مقصد ہے کہ خود کو کسی ذمہ داری سے بری الزمہ کر کے اپنی خراب کارکردگی سے لوگوں کی توجہ ہٹائی جائے۔ امریکی سیاستدانوں کو چاہیے کہ وہ الزام تراشی کی بجائے اپنے داخلی مسائل پر توجہ دیں تاکہ اس وبا پر جلد سے جلد قابو پایا جا سکے۔

مزید :

رائے -کالم -