عالمی سطح پر ”بلیک گولڈ“کی بے توقیری

عالمی سطح پر ”بلیک گولڈ“کی بے توقیری
عالمی سطح پر ”بلیک گولڈ“کی بے توقیری

  

کووِڈ - 19 وبائی مرض نے دنیا کے گورننس سسٹم کو بے نقاب کر کے رکھ دیا ہے۔ سرمایہ داری، آمریت، آزاد منڈی، بین الاقوامی تجارت اور عالمی صحت کی دیکھ بھال وغیرہ کو بری طرح متاثر ہوتے دیکھا گیا ہے۔ وائرس کا پہلا براہ راست حملہ طبی نظام اور سہولیات پر تھا۔ چین، یورپی یونین اور امریکہ جیسی سپر پاورز کو یہ بات تسلیم کرنا پڑی کہ انہیں اسلحے اور میزائلوں کی بجائے، طبی سامان اور وینٹی لیٹروں کا ذخیرہ کرنا چاہئے تھا۔ اس احساس نے اور بہت احساس پیداکر دیئے ہیں۔ تیل کی صنعت اب عالمی مارکیٹ میں اس وبا کا دوسرا نشانہ ہے۔ انسانی تاریخ میں پہلی بار ”کالے سونے“ کی قیمت منفی دیکھی جا رہی ہے، اس نے نا صرف اپنی قیمت کھو دی ہے بلکہ اب اس کا سحر بھی ٹوٹتا جا رہا ہے۔ تیل ذخیرہ کرنا بھی ایک مسئلہ ہے، کیونکہ اسٹوریج لاگت اس وقت اس کی مارکیٹ میں قیمت سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ کیسے ہوا؟ اس تباہی کے پیچھے کیا وجوہات ہیں؟ اس کا کیا اثر پڑے گا اور آگے کیا ہوگا؟ یہ وہ اہم سوالات ہیں جو پوری دنیا کے رہنماؤں اور اقوام کے لئے دردِ سر بنے ہوئے ہیں۔ دنیا کبھی بھی پہلے جیسی نہیں رہے گی اس لئے اسے اپنی پرانی روش کو بدلنا پڑے گا۔

تیل کے موجودہ بحران کو سمجھنے کے لئے ہمیں دو عوامل پر غور کرنے کی ضرورت ہے، وبائی بیماری کے دسمبر میں پھیلتے ہی اس کے اثرات، جبکہ دوسری جانب اوپیک ممالک کے مابین سیاسی حربوں کا استعمال۔ سب سے پہلے وبائی امراض کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے دنیا بھر نے لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا۔ ان لاک ڈاؤنز نے تیل اور تیل سے متعلق مصنوعات کی عالمی طلب کو چالیس فیصد سے زیادہ تک متاثر کیا۔ تیل کی مانگ میں واضح گراوٹ کی وجہ سے قیمتوں میں براہ راست کمی ہوئی۔ زیادہ تر صنعتیں، ایئر لائنز، شپنگ کمپنیاں، آٹو موٹو سیکٹر اور دفاتر بند ہونا شروع ہوگئے۔ تیل کی کھپت اور طلب میں مزید کمی واقع ہوئی۔ خاص طور پر چین میں فیکٹریوں کی بندش سے بھی گہرا اثر پڑا۔ اسٹوریج فرمیں اور آئل کمپنیاں سپلائی رکنے کی وجہ سے مزید تیل ذخیرہ کرنے سے قاصر ہوگئیں جس کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں مزید کمی واقع ہوئی، جس کے نتیجے میں آئل مارکیٹ میں حالیہ بحران پیدا ہوگیا۔ سکولوں اور دفاتر کی بندش سے کاروں، بسوں اور ٹرینوں کے رکنے سے ایندھن کی کھپت میں مزید کمی واقع ہوئی۔ طلب میں کمی کی وجہ سے تیل پیدا کرنے والے ممالک، عرب ریاستوں اور روس نے تیزی سے کم ہوتے منافع کو بچانے کے لئے کمر کس لی۔ یہی وجہ ہے کہ قیمتوں کی بے ہنگم جنگ نے جنم لیا۔

اوپیک ممالک، جو آئل کارٹیل ممالک کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں، نے سپلائی اور پیداوارمیں توازن قائم کرنے کے ذریعے بین الاقوامی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں پر کنٹرول قائم کیا۔ چونکہ بین الاقوامی منڈی میں تیل سے منافع کم ہوا، اوپیک ممالک نے انفرادی طور پر، بغیر کسی مشورے اور انتظام کے، قیمتوں میں کمی کرکے مارکیٹ شیئر پر قبضہ کر لیا۔ خاص طور پر روس اور سعودی عرب نے جارحانہ مؤقف اپنایا۔ روس نے غیر دانشمندانہ روش اپنا کر تیل کی پیداوار میں کمی سے انکار کردیا۔ اس کے نتیجے میں دو ہفتوں میں فی بیرل تیل کی قیمت میں چالیس ڈالر تک کمی واقع ہوئی۔ اس طرح کا بحران 1930ء کی دہائی کے معاشی تناؤ کے بعد نہیں دیکھا گیا۔ اوپیک کا چھٹا اجلاس اپریل میں ہوا تھا۔ اجلاس بغیر کسی نتیجے پر پہنچے اختتام پذیر ہوا۔ سعودی عرب نے ایک اور سخت مؤقف اختیار کیا اور کویت اور بحرین کے ساتھ مل کر اپنی شرائط منوانے کے لئے لابنگ کی، جس سے روسی صدر پوٹن کو دفاعی پوزیشن لینا پڑی۔ ان اقدامات کی وجہ سے تیل کی قیمت انتہائی نچلی سطح تک گر گئی۔ آخرکارامریکہ کو اس بحران کو کنٹرول کرنے کے لئے میدان میں کودنا پڑا کیونکہ دنیا بھر میں اس کی ملکیتی تیل کی کمپنیاں بڑی تیزی سے خسارے میں جا رہی تھیں۔ اگر صورتحال یہی رہتی تو امریکہ میں لاکھوں لوگ بے روزگاری کا منہ دیکھتے۔اس بار امریکہ نے سعودی عرب کو دھمکی دی کہ اگر روس کے ساتھ معاہدہ نہ کیا گیا تو امریکی فوجی امداد واپس لے لی جائے گی۔ نتیجتاً ایک ہفتہ کے اندر ہی ایک کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں سعودی سفارت کاروں کو روس کے ساتھ مشترکہ شرائط پر اتفاق کرنا ہی پڑا۔ مختصراً اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پیداوار پر کنٹرول کے ذریعے مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کو مستحکم رکھا جائے تاکہ تیل کے شعبے میں ملازمتیں محفوظ رہیں اور پوری دنیا میں بڑی بڑی کمپنیاں دیوالیہ پن سے محفوظ رہ سکیں۔ کسی بھی تباہی سے بچنے کے لئے صورتحال کوانتہائی احتیاط سے سنبھالنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، حالانکہ موجودہ بحران کا مطلب مختلف ممالک کے لئے مختلف ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق تیل کا موجودہ بحران ان ممالک کے لئے ایک نعمت ہے جن کی معیشتیں تیل کی درآمد پر انحصار کرتی ہیں۔ اس بحران سے چین، پاکستان اور ہندوستان جیسے ممالک مستفید ہوسکتے ہیں۔ اس حد تک کہ اس بحران کے نتیجے میں فوائد حاصل کر کے کرونا کے باعث معیشتوں کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان درآمدات میں سب سے زیادہ خرچ تیل کے حصول کے لئے کرتا ہے اس کا بھی زیادہ تر حصہ توانائی کے پیداواری منصوبوں کی نذر ہو تا ہے۔ اگر اس صورت حال سے بھرپور فائدہ اٹھا لیا جائے تو پاکستان تجارت میں معجزاتی کارکردگی دکھا سکتا ہے۔ دوسری طرف چین، تیل اور گیس کی فراہمی کے لئے ایران جیسے ممالک پر انحصار کرتا ہے۔ قیمتوں میں کمی کی وجہ سے چین اپنی برآمدات کو بڑھا سکے گا اور بین الاقوامی مارکیٹ میں وہ بہتر مسابقتی کردار ادا کر پائے گا۔

مینوفیکچرنگ صنعتیں جن کو ضرورت سے زیادہ مقدار میں تیل اور گیس کی ضرورت ہوتی ہے وہ مینوفیکچرنگ میں اضافہ کرسکیں گے، لیکن اس کا انحصار لاک ڈاؤن میں نرمی پر ہے، جس کا کسی حد تک آغاز ہو چکا ہے، لیکن یہ صورت حال ان ممالک کے لئے اتنی خوش آئند نہیں جنہوں نے تیل اور گیس کارپوریشنوں میں بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے یا وہ تیل یا اس کی مصنوعات کے برآمد کنندگان ہیں۔ وہ ممالک جو تیل اور گیس کے برآمد کنندگان ہیں انہیں کورونا وباء کی وجہ سے تیل کی قیمتوں اور طلب میں کمی کے باعث شدید مالی خسارے کا سامنا ہے۔دنیا کی معاشی سرگرمیوں کو دوبارہ شروع ہونے اور تیل کی طلب ماضی کے مطابق پہنچنے تک کافی وقت لگے گا۔ عالمی بینک نے پیش گوئی کی ہے کہ تیل کا حالیہ بحران برقرار رہا تو سعودی عرب، ایران، بحرین، کویت اور قطر جیسے تیل پیدا کرنے والے ممالک بھاری قرضوں کے بوجھ تلے دب جائیں گے۔ان ممالک کا اپنی معیشتوں کی دوسروں شعبوں میں منتقلی ہی واحد بچاؤ کا راستہ ہے لیکن وہ بھی اتنا آسان نہیں۔امریکہ نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ 2003ء کے عراق جیسے حملوں اور سعودی عرب کے ساتھ گٹھ جوڑ کے ذریعے تیل کے شعبہ میں اجارہ داری قائم رکھ سکے۔ تیل کی موجودہ نا قدری کا مطلب نام نہاد پیٹرو ڈالر کے لئے ایک بہت بڑا دھچکا ہے۔ امریکی اکانومی کا انحصار اس وقت مکمل طور پر تیل پر ہے اگر تیل کی مارکیٹ کریش کر جاتی ہے تو امریکی کاروباری ڈھانچہ تباہ ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ کو سعودی عرب کو دھمکی دے کر تیل کی پیداوار پر کنٹرول رکھ کر قیمتیں مستحکم رکھوانا پڑیں۔ انتہائی اقدام کے طور پر امریکی حکومت نے سعودی عرب سے فوجی تنصیبات واپس لینے کا فیصلہ اس وجہ سے کیا کہ ایران اب خطے میں امریکہ کے لئے خطرہ نہیں ہے۔

صرف امریکہ میں ہی 20 ملین افراد ملازمت سے محروم ہوچکے ہیں اور یہی صورت حال دنیا بھر میں دیکھی جا سکتی ہے۔ تیل کی مارکیٹ کریش کرتے ہی دنیا بھر میں سٹاک مارکیٹس بھی مندی کا سامنا کر رہی ہیں۔ بینکاری اورڈویلپمنٹ کے شعبے بھی امداد ی آکسیجن کے سہارے چل رہے ہیں۔ پرانی دنیا ختم ہوچکی ہے، اب اس فیصلے کا انحصار ہم پر ہے کہ ہم نے پرانے طریقوں پر قائم رہنا ہے یا ایک نیا نظریہ اپنا کر دنیا کو بہتر بنانے کی جدوجہد کرنی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -