حق، اظہار رائے؟ سوشل میڈیا پر ملک مخالف مہم!

حق، اظہار رائے؟ سوشل میڈیا پر ملک مخالف مہم!
حق، اظہار رائے؟ سوشل میڈیا پر ملک مخالف مہم!

  

میں جو اظہار رائے کے آئینی حق اور آزادیء صحافت کا علمبردار ہوں۔ اس مقصد کے لئے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے ایک ادنی کارکن کی حیثیت سے ہر تحریک میں حصہ لیا،پولیس کے ڈنڈوں سے حوالات اور جیل یاترا تک کی اور ایک سے زیادہ مرتبہ بے روزگاری کا مزہ بھی چکھا، اب اس آخری عمر میں بہت دکھی ہوں۔ ایک تو جو آزادی ہم سب نے جدوجہد کرکے حاصل کی وہ کہیں نہیں رہی اور جتنی بھی ہے، مالکان کے حصے میں آ چکی ہے اور اب تو الا ماشاء اللہ ان آجر حضرات کا بس بھی نہیں چل رہا کہ غیر محسوس طریقے سے اس پر قدغنیں آ چکی ہیں اور اب الفاظ سوچ اور تول کر بولنے یا لکھنا ہوتے ہیں کہ کہیں ناگوار طبع ناز نہ ہوں۔ یہ حالات اپنی جگہ، مجھے آج ان پر بات نہیں کرنی۔ مجھے تو دکھی دل کے ساتھ اس ”سوشل میڈیا“ نامی ذریعہ ابلاغ کی بات کرنا ہے اور اپنی تمام تر جدوجہد اور نظریاتی کیفیت کے برعکس یہ استدعا کرنا ہے کہ اس میڈیا کے ذریعے تفرقہ اور قومی وحدت کو نقصان پہنچانے کے عمل کو بند کیا جائے اور روکا جائے، مجھے دکھ ہے کہ اسی میڈیا کے توسط سے بعض حضرات میرے پیارے وطن پاکستان کو بدنام بھی کر رہے ہیں اور وہ غیر نہیں خود پاکستانی ہی ہیں، لیکن اپنی خود ساختہ غیر ملکی پناہ کو تقویت پہنچانے کے لئے اپنے ہی ملک کو بدنام کرتے رہتے ہیں۔

یہ بھی عرض کر دوں کہ ایک راسخ العقیدہ مسلمان ہوں، یہ تحریر بھی روزہ ہی کی حالت میں لکھ رہا ہوں، تاہم طبقاتی جدوجہد کا قائل ہوں، جس کے ذریعے امیر اور غریب کے درمیان بڑھتا ہوا، فرق ختم ہو اور محنت کرنے والے کو اس کی محنت کا پورا پورا صلہ ملے۔ معاشرے سے استحصال اور غربت کا خاتمہ ہو، ہر انسان کو ترقی کے مساوی حقوق ملیں اور انسانوں کے اس جنگل میں کوئی بلند قامت اور کوئی کوتاہ نہ ہو اور یہ فرق کم سے کم ہو، سب کو تعلیم، صحت اور روزگار کے مساوی مواقع ملیں اور ہر ایک کو ”میرٹ“ پر ترقی کا حق ہو، یہ حقیقی اور اصلی ”میرٹ“ ہو، خود ساختہ نہیں کہ پس پردہ قوتیں اپنے ہی بچوں کو تمام مواقع مہیا کر دیں اور محروم طبقات میں سے ابھر کر سامنے والے نظر انداز ہوں۔

قارئین! آپ بھی خیال کر رہے ہوں گے کہ آج کیا ہوا۔ خود ہی اپنی خوشامد کئے چلا جا رہا ہوں اور ابھی تک مطلب و مقصد کی بات نہیں کی، درست، تاہم یہ تمہید بھی بلا مقصد نہیں کہ جس معاملے کا ذکر مقصود ہے، وہ اس وضاحت کے بغیر جانبداری یا حسد کا تاثر بھی دے سکتا ہے۔مجھے سوشل میڈیا کے اس پہلو کی طرف توجہ مبذول کرانی ہے کہ بعض ”خود غرض“ (وطن دشمن نہیں کہوں گا) اس میڈیا کو اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے میرے اس پیارے وطن کو مجموعی طور پر بدنام کر رہے ہیں، یہ وہ عمل ہے جو اسلام اور پاکستان دشمن مغربی میڈیا اختیار کئے ہوئے ہے اور ہمارے ایسے پاکستانی بھائی بھی اسی رو میں بہہ رہے اور ملک کی شہرت داغدار کر رہے ہیں۔

اصل بات عرض کرنے سے پہلے یہ بھی عرض کر دوں کہ یہ بہت بڑی حقیقت ہے کہ ہمارا ملک ایک ترقی پذیر ملک ہے، جس کے عوام گزشتہ 72سالوں سے استحصال کا شکار ہیں، ان کو سیاسی اور سماجی طور پر اس عمل کا شکار بنایا جاتا ہے تو وسائل کے حوالے سے بھی یہ کم تر درجے پر ہیں، ملکی وسائل پر اجارہ داری ہے اور اجارہ داروں کی لوٹ مار بھی جاری ہے، یہ بھی تسلیم کہ یہاں حقیقی عوامی حکومت نہیں بنی، یہ ملک بار بار آمریت کا شکار ہوا، اور اگر سول حکومت بنی تو وہ بھی محتاج رہی اور مدارالمہام حضرات نے بہتی گنگا سے ہاتھ دھونے (کورونا والے ہاتھ دھونا نہیں) میں کبھی گریز نہیں کیا، میرے ساتھ حق حلال کی کما کر کھانے والے مزدور بدحال ہیں، طرح طرح کے مسائل کا بھی شکار تھے اور ہیں،اس سب کے باوجود یہ میرا ملک ہے، اللہ کا شکر ہے کہ میں آزاد شہری ہوں، مجھے مار پڑتی ہے تو میں چیخ بھی سکتا اور فریاد بھی کرنے کا اہل ہوں، اگرچہ جاری نظام کی بدولت اکثر بے انصافی کے سابقہ پڑتا ہے، لیکن کیا میں ان مسائل کی وجہ سے اپنے اس وطن سے نفرت کرنے لگوں، اسے دنیا بھر میں بدنام کرنے کے مواقع ڈھونڈتا پھروں اور پھر خبث باطن کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہر دم برائی کی تلاش ہی میں رہوں اور ملک کو بدنام کروں۔

یہ سب یوں عرض کیا کہ ہمارے بعض نادان دوست اپنی غرض کے لئے سوشل میڈیا کو ناجائز طورپر استعمال کر رہے ہیں اور پاکستان کے اصل مسائل پر حقائق کے ساتھ بات کرنے کی بجائے ایسے مواقع تلاش کرتے ہیں کہ ملک دنیا میں بدنام ہو اور ان کو جدوجہد کا حامل جانا جائے اور جہاں وہ ”پناہ گزین“ ہیں، وہاں ان کو بہادری کا تمغہ ملے اور وہ اس ”سیاسی پناہ“ کے حق دار تصور ہوں اور عیش کرتے رہیں، ایسے ہی ہمارے ایک دوست جو یہاں لاہور میں استحصال زدہ مزدوروں کے مسائل کی غرض سے ”جدوجہد“ کرتے رہے تھے اور یہاں صعوبتیں بھی اٹھائیں، وہ موقع پا کر عالمی این جی اوز سے جڑے اور پھر ایک روز ملک سے باہر جا کر ایک مغربی ملک (ویلفیئر سٹیٹ) میں ”سیاسی پناہ“ کے حامل ٹھہرے، اور وہاں ”پاکستان“ میں مظالم برداشت کرنے کا اعزاز پایا، اب عیش کر رہے ہیں، اب یہ محترم سوشل میڈیا پر سرگرم رہتے ہیں اور موقع بے موقع ایسی ویڈیو اور تصاویر اپ لوڈ کرتے ہیں جس کی وجہ سے ”پاکستان“ کی بدنامی ہو، حال ہی میں انہوں نے دو تین ایسی تصاویر اپ لوڈ کی ہیں، ایک تصویر ایک ایسی کوٹھڑی نما جگہ کی ہے، جہاں سیمنٹ کے فرش والا بڑا تخت پوش سا ہے، اس پر ایک مزدور لیٹا اور اسے ایک بدنما سی ڈرپ لگی ہوئی ہے۔ اس کا کیپشن صرف یہ ہے ”پاکستان کا ہسپتال“ کسی علاقے یا مقام کا نام نہیں۔ اسی طرح ایک تصویر ایک فاقہ کش کی ہے جو فٹ پاتھ پر کسی دعوت یا بارات کے بچے چاول سے پیٹ کی آگ بجھانے کی کوشش میں ہے، کیپشن ہے ”پاکستان“ اسی طرح بلوچستان سے موسوم دو تین تصاویر ہیں، جن میں غربت کی ایسی ہی صورت دکھائی گئی اور بتایا گیا کہ یہ صوبہ معدنیات سے مالامال ہے۔ میں نے اپنے مزاج کے خلاف ان صاحب کو ٹوکا اور کہا کہ وہ جگہ، مقام،شہر اور صوبہ بتائیں، ورنہ یہ تصاویر تو بھارت کی ہیں جو میرے وطن کو بدنام کرنے کے لئے پوسٹ کی گئی ہیں، ان پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ یہ سب عرض کرنے سے میری گزارش یہ ہے کہ وہ ادارے کہاں ہیں جو صاحب اقتدار لوگوں کی شان میں جائز شکائت کو بھی گناہ سمجھ کر کارروائی کے لئے تیار رہتے ہین، یہ سب ایسے حضرات کو کیوں نہیں روک پاتے اور ایسے پروپیگنڈے کا سدباب کیوں نہیں کرتے، کہاں ہے؟سائبرکرائمز ونگ اور پیمرا، میرے بھائی چیئرمین کو یہ سب کیوں نظر نہیں آتا، کیا یہ اتنا ہی باریک کام ہے کہ دکھائی نہیں دے رہا، یا بے ضرر ہے، حالانکہ یہ زیادہ زہر آلود ہے، نشاندہی کر دی اب ارباب اقتدار اور ان کے ادارے جانیں!

مزید :

رائے -کالم -