لاک ڈاؤن ختم کرنے سے پہلے پھر سوچ لیں

لاک ڈاؤن ختم کرنے سے پہلے پھر سوچ لیں
لاک ڈاؤن ختم کرنے سے پہلے پھر سوچ لیں

  

کورونا کے حوالے سے ہر نئے دن کے ساتھ ابہام بڑھتا جا رہا ہے، عوام جو پہلے ہی کورونا کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہیں، آئے روز نت نئے مناظر سے یہ سوچنے لگے ہیں کہ اُنہیں بے وقوف تو نہیں بنایا جا رہا۔ یومِ حضرت علیؓ پر جو کچھ ہوا اُس نے عوام کو مزید حیران و پریشان کر دیا کہ اگر ہزاروں افراد کے جلوس اور وہ بھی کسی احتیاطی تدبیر کے بغیر کورونا کو پھیلانے کا باعث نہیں بنتے تو ہمارے گھروں سے نکلنے میں کون سی قیامت آ جائے گی۔یہ حکومتوں کی بے بسی ہی تو ہے کہ جو مساجد میں نمازوں، اعتکاف اور تراویح کے بارے میں تو اپنے ایس او پیز پر عمل کرا لیتی ہے، لیکن مذہبی اجتماعات اور جلوسوں پر پابندی لگانے کے باوجود اُنہیں روکنے پر قادر نہیں ہوتی۔ایسی بے بسی دیکھ کر عوام اگر یہ سوچنے لگیں کہ کورونا کے نام پر اُن کے ساتھ ایک سنگین مذاق کیا جا رہا ہے، تو کون سی عجیب بات ہے۔وزیراعظم عمران خان کے اُلجھے ہوئے بیانات نے بھی صورتِ حال کوبے یقینی سے دوچار کیا ہے۔اب اس ٹرانسپورٹ کھولنے کے معاملے کو ہی لے لیں، ایک طرف وہ کہتے ہیں، ٹرانسپورٹ پر پابندی ختم کرنے سے کورونا تیزی سے پھیلنے کا خطرہ ہے اور دوسری طرف کہتے ہیں ٹرانسپورٹ کھول دینی چاہئے، اس سے غریبوں پر بہت بُرے اثرات پڑ رہے ہیں۔اُدھر وہ آئے روز یہ بیان داغ دیتے ہیں کہ پولیس لاک ڈاؤن پر عملدرآمد کراتے ہوئے سختی سے کام نہ لے۔پتہ نہیں وہ پاکستانیوں کی نفسیات سے واقف نہیں یا پھر وہ سمجھتے ہیں کہ اُن کی زبان سے نکلے ہوئے لفظ ہی عوام کو راہِ راست پر لانے کے لئے کافی ہیں، کیا پاکستانی عوام کی اکثریت میں اتنا شعور ہے کہ وہ صرف کورونا کے خوف سے گھروں میں بیٹھ جائیں، یا اُن احتیاطی تدابیر ہی پر عمل کریں جو کورونا سے بچاؤ کے لئے بتائی گئی ہیں،وہ تو آج بھی اسے ایک بہت بڑا ڈرامہ قرار دیتے ہیں،جو امریکہ اور یہودیوں نے دُنیا پر قبضے کے لئے رچایا ہے۔

کورونا وائرس کے آنے کی ”خوشی“ میں جو سب سے بڑا لطیفہ ہمارے ہاں ایجاد کیا گیا،اُس کا نام ایس او پیز ہے۔21ویں رمضان کو ان ایس او پیز کے پورے ملک میں پرزے اڑتے دیکھے گئے۔یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ حکومت کے بنائے گئے ایس او پیز کو پاؤں تلے روندا گیا،بلکہ ایسا نظارہ تو ہم بار بار دیکھ چکے ہیں،جب بازار اور مارکیٹیں کھولنے کی باری آئی تو تاجروں سے مل کر ایس او پیز تیار کئے گئے، کیسے خوشنما نکات اُن میں رکھے گئے اور کیسی شاندار احتیاطی تدابیر کو اِن ایس او پیز کی فوقیت بنایا گیا، عرش پر بیٹھ کر ایس او پیز بنانے والوں کو زمین پر آکر معلوم ہوا کہ روٹی دال کا بھاؤ کیا ہے۔لوگ جب عید کی خریداری کے لئے اُمنڈ آئے تو کسی کو یہ یاد ہی نہیں رہا کہ کوئی کورونا بھی ہے اور اس سے بچاؤ کے لئے ایس او پیز،یعنی قواعد و ضوابط بھی بنائے گئے ہیں۔سب کچھ عوام کے ہجوم کی نذر ہو گیا۔ تب حکومتیں ہڑ بڑا کر اُٹھیں، پلازے سیل کئے، دکانوں کو تالے لگوائے، انتباہی بیانات جاری کئے،جن پر شام کو وزیراعظم عمران خان کے اس بیان نے پانی پھیر دیا کہ پولیس سختی نہ کرے، عوام اور تاجر خود ہی احتیاطی تدابیر کا خیال رکھیں۔اب حکومتیں ایس او پیز بنا کر پبلک ٹرانسپورٹ کھولنے جا رہی ہیں،ایسے سخت ایس او پیز بنائے گئے ہیں کہ جن پر ٹرانسپورٹرز عمل کر ہی نہیں سکتے، عمل کریں گے تو خسارے میں رہیں گے۔ظاہر ہے وہ اس کے لئے پھر دوسرا راستہ اختیار کریں گے،رشوت دے کر کام چلانے کا راستہ، پولیس اور ٹریفک پولیس کی چاندی ہو جائے گی،اتنے زیادہ صوابدیدی اختیارات اُن کے ہاتھ آ جائیں گے کہ جسے چاہیں گے روکیں گے،جسے چاہے جانے دیں گے،فیصلہ کرنے والوں نے شاید، بڑے شہروں کی ٹرانسپورٹ کو سامنے رکھ کر فیصلہ کیا ہے،انہیں معلوم نہیں کہ جو بسیں دیہاتوں سے شہر وں کی طرف آتی ہیں، اُن کی چھتوں پر بھی لوگ بیٹھے ہوتے ہیں، حکومت ایک طرف تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث کرایوں میں کمی چاہتی ہے اور دوسری طرف یہ پابندی بھی لگا رہی ہے کہ بس کی ایک سیٹ پر ایک سواری بیٹھے گی، یعنی 40سیٹوں والی بس میں 20 مسافر سفر کریں گے، کیا ٹرانسپورٹرز یہ دہرا بوجھ برداشت کریں گے کہ ایک طرف کرایوں میں کمی کریں اور دوسری طرف آدھی سواریاں بٹھا کر بسیں چلائیں۔ظاہر ہے وہ اس کا کوئی دوسرا حل نکالیں گے اور کرپشن کی نئی راہیں تلاش کریں گے۔

اب آہستہ آہستہ حکومت اس بیانیے کی طرف آ رہی ہے کہ لاک ڈاؤن ختم کئے بنا کوئی چارہ نہیں۔ وزیراعظم عمران خان اس بیانیے کے سب سے بڑے داعی ہیں،انہوں نے یہ خبر بھی سنا دی ہے کہ جون تک ہمارے پاس مریضوں کو سنبھالنے کی گنجائش موجود ہے۔ ملک اب مزید لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہو سکتا۔چلیں جی اُن کی اس منطق کو مان لیتے ہیں،مگر ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہمیں احتیاطی تدابیر پر چلنا ہو گا، کیا اُن کے کہہ دینے سے سب کچھ ہو جائے گا، کیا جزا و سزا کے بغیر دُنیا میں کوئی کام ہوا ہے۔ کیا دُنیا میں جہاں جہاں لاک ڈاؤن میں نرمی کی جا رہی ہے وہاں سخت احتیاطی تدابیر کو بھی جرمانے کے ساتھ نافذنہیں کیا گیا۔ یہاں کیا ہو رہا ہے۔ڈاکٹر ظفر مرزا ٹی وی پر بیٹھ کر یہ حکم جاری کر دیتے ہیں کہ اب کوئی بھی گھر سے بغیر ماسک پہنے نہیں نکل سکے گا، جو نکلا اُس کے خلاف کارروائی کی جائے گی،اُن کی زبان میں اتنی تاثیر ہوتی کہ لوگ بغیر چون و چرا اُن کی بات مان لیتے تو کوئی بات بھی تھی،مگر عوام نے تو اُن کی یہ بات بھی ایک کان سے سُن کر دوسرے سے نکال دی ہو گی، وہ جس کارروائی کا کہہ رہے ہیں آخر کرے گا کون؟ وزیراعظم تو کہتے ہیں پولیس سختی نہ کرے،اب بغیر سختی کے کون سی کارروائی ہو سکتی ہے۔صورتِ حال اِس قدر اُلجھی ہوئی ہے کہ جیسے ہرطرف اندھیرا ہو گیا ہو، کسی کو کچھ سجھائی نہیں دے رہا کہ کس طرف جانا ہے، کس کی بات ماننی ہے اور کیسے زندگی کو نارمل کرنا ہے۔

جہاں تک کورونا کا تعلق ہے تو وہ آج بھی ایک بڑے عفریت کے طور پر ہمارے اردگرد موجود ہے، لوگ کورونا سے گھروں میں مر رہے ہیں اور خوف وہراس کی وجہ سے اُن کے لواحقین بتا نہیں رہے۔ دوسری طرف کیسوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے اور جاں بحق ہونے والوں کا ہندسہ بھی بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے،تو کیا ہم صرف اسی بات پر خوش ہو کر سب کچھ کھول دیں کہ ہمارے پاس مریضوں کو سنبھالنے کی صلاحیت موجود ہے۔ کیا کوئی یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ مریضوں کی تعداد اُسی رفتار سے بڑھے گی، جسے سامنے رکھ کر کہا جا رہا ہے کہ مریضوں کو رکھنے کی گنجائش موجود ہے، یہ تو خود کشی کا راستہ ہے، جو ہم اختیار کرنے جا رہے ہیں، بھوک سے کوئی مرا ہے اور نہ مرے گا۔ البتہ کورونا سے مرنے والے ہر شہر میں مل رہے ہیں اگر حکومت لاک ڈاؤن ختم کرنا ہی چاہتی ہے تو ایس او پیز پر عملدرآمد کا کوئی سنجیدہ نظام بھی بنائے۔کاغذوں میں ایس او پیز بنا کر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے سے تو بات نہیں بنے گی،انہیں سختی سے نافذ بھی کرنا پڑے گا۔ابہام اور اگر مگر سے نکل کر دو ٹوک اور سنجیدہ پالیسی اختیار نہ کی گئی تو خدانخواستہ ایک بڑی تباہی ہمارا مقدر بن سکتی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -