محکمہ شماریات کے نرخ اور مارکیٹ میں فرق!

محکمہ شماریات کے نرخ اور مارکیٹ میں فرق!

  

وفاقی محکمہ شماریات اعداد و شمار کے حوالے سے اپنے تئیں حکومت اور قوم کو حالاتِ حاضرہ سے آگاہ رکھتا ہے، خصوصاً مُلک میں شرح مہنگائی کی تفصیل جو پہلے ششماہی سے سہ ماہی اور پھر ماہانہ پر آئی تھی، اب ہفتہ وار ہو گئی ہے۔ شاید یہ وزیراعظم کی خبر گیری کا اثر ہے کہ اِس بار گزشتہ ہفتے کے دام بتائے گئے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ وزیر اعظم بھی اسی محکمہ کے اعداد و شمار پر بھروسہ کرتے ہیں اور انہوں نے فرمایا ہے کہ سخت نگرانی کی وجہ سے اشیاء خوردنی اور ضروری کے نرخ ماہ رمضان میں نہیں بڑھے۔ محکمہ شماریات نے ہفتہ رفتہ کے جو اعداد و شمار دیئے وہ بڑی چابکدستی کا شاہکار ہیں، جن کے مطابق قریباً ایک درجن اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ اور قریباً 18 سے 20 کے نرخوں میں کمی ہوئی۔ اضافہ معقول اور کمی ایک ایک روپے فی کلو کے حساب سے تھی، جو بازار میں جاری نرخوں کے مطابق نہیں، کیونکہ بازار میں آٹا، گھی، چاول، آئل اور فروٹ کے نرخوں میں اضافہ ہوا، سبزیوں کے نرخوں میں کمی نہیں ہوئی اور صارف پریشان ہی رہے، حتیٰ کہ برائلر مرغی اور انڈوں کے نرخ بھی بہت زیادہ ہوئے۔ وزیراعظم نے یہ بھی بتایا کہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں دو بار میں 30 روپے فی لیٹر کمی کی، سوال صرف یہ ہے کہ کیا اس کمی کے اثرات مارکیٹ پر مرتب ہوئے تو جواب نفی میں ہے، کسی بھی شے پر کوئی اثر نہیں ہوا، نہ ہی بجلی کے نرخ کم ہوئے اور نہ ہی اشیاء ضرورت سستی ہوئیں۔ اب لاک ڈاؤن میں نرمی کی وجہ سے پبلک ٹرانسپورٹ اور ریل گاڑیوں کو چلانے پر بھی غور ہو رہا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ جب ٹرانسپورٹ چلے گی تو کرایوں میں کتنا فرق آئے گا کہ اب تک جتنی گڈز ٹرانسپورٹ جاری ہے، اس کے کرائے کم نہیں ہوئے، بلکہ بعض امور میں زیادہ لئے گئے ہیں، وزیراعظم کی توجہ کی ضرورت ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -