پبلک ٹرانسپورٹ…… ضابطوں پر عملدرآمد ناممکن

پبلک ٹرانسپورٹ…… ضابطوں پر عملدرآمد ناممکن

  

پنجاب میں کل سے پبلک ٹرانسپورٹ کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،اِس مقصد کے لئے جو ایس او پیز بنائے گئے ہیں ان میں کہا گیا ہے کہ دو سیٹوں پر ایک سواری بیٹھے گی، مسافر اگلے دروازے سے سوار ہوں گے اور پچھلے دروازے سے اُتریں گے، بخار، کھانسی والے لوگ سوار نہیں ہو سکیں گے، ائر کنڈیشنر بند رکھنے ہوں گے اور کھڑکیاں کھولنی ہوں گی، سوار ہونے کے لئے مسافر تین فٹ کا فاصلہ رکھیں گے۔ اگرچہ محکمہ ٹرانسپورٹ نے اِس بات کی مخالفت کی تھی،اِس کے باوجود حکومت نے ٹرانسپورٹ چلانے کا فیصلہ کر لیا،اِس سلسلے میں راجہ بشارت کی زیر صدارت اجلاس ہوا، جس میں انہوں نے کہا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم ہوئی ہیں،اِس لئے اس کا فائدہ عوام کو پہنچنا چاہئے، کرایوں پر نظرثانی کے لئے سیکرٹری ٹرانسپورٹ کی سربراہی میں کمیٹی قائم کر دی گئی ہے، جو ٹرانسپورٹروں کے ساتھ مل کر نئے کرائے طے کرے گی۔سندھ حکومت نے ٹرانسپورٹ کھولنے کا وفاقی حکومت کا فیصلہ قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے اور صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ اویس شاہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے حکم کا احترام کرتے ہیں،مگر پبلک ٹرانسپورٹ نہیں کھول سکتے۔اُن کا کہنا تھا کہ روزانہ کورونا کیسز بڑھ رہے ہیں،ایس او پیز بنانے کے بعد جب فیکٹریاں کھولنے کی اجازت دی تو مالکان نے ان پر بھی عملدرآمد نہیں کیا،تاجروں سے بھی بار بار اپیل کی کہ ایس او پیز پر عمل کریں، لیکن ایسا نہیں ہو سکا،کیا وزیراعظم صاحب ٹرانسپورٹ کھلوا کر مُلک کو ووہان یا اٹلی بنانا چاہتے ہیں۔اگر آپ فیصلہ نہیں کر پا رہے تو کسی عقل مند سے مشورہ ضرور کر لیا کریں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم صاحب آیئے مل کر کام کریں اِس وقت صوبوں کو آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔

پنجاب میں ٹرانسپورٹ چلانے کی جو مشروط اجازت دی گئی ہے اس کے لئے جو ایس او پیز بنائے گئے ہیں ان پر عملدرآمد کرانا بڑی حد تک ناممکن ہے۔لاہور شہر میں ترک کمپنی کی جو ٹرانسپورٹ چل رہی تھی وہ بند کر دی گئی ہے اور اس کی جگہ جو کوسٹر چل رہی ہیں ان میں ایک ہی دروازہ ہے،اِس لئے ان کوسٹروں کی حد تک تو ایک دروازے سے سوار ہونے اور دوسرے سے اُترنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، جن گاڑیوں میں دو دروازے ہیں ان میں بھی اگلا دروازہ خواتین کے سوار ہونے کے لئے استعمال ہوتا ہے تو کیا اِس دروازے سے اب مرد بھی خواتین کے ساتھ ہی بس میں سوار ہوں گے اور خواتین اُترتے وقت پچھلے دروازے سے اُتریں گی؟سپیڈو بسوں میں ایک ہی بڑا دروازہ درمیان میں لگا ہوا ہے،جس کے ایک طرف سے خواتین سوار ہوتی ہیں اور دوسری طرف سے مرد، کچھ عرصہ پہلے جب ٹرانسپورٹ چل رہی تھی تو یہ دروازہ بھی آدھا کھولا جاتا تھا اور باقی مستقل بند کر دیا گیا تھا شاید اِس لئے کہ اس طرح دو چار مسافر اس جگہ کھڑے ہو سکتے ہیں، سپیڈو بسوں میں ویسے بھی نشستیں بہت ہی کم ہیں اگر بیس بائیس نشستوں والی بس میں ایک نشست خالی رکھی جائے گی تو دس بارہ مسافر بس میں سوار ہو سکیں گے، جو کھڑے ہو کر سفر کرتے ہیں اُن کے لئے بھی سماجی فاصلہ رکھنا ممکن نہیں ہو گا، لگتا ہے کہ یہ ایس او پیز کسی ایسے افسر نے تیار کر دیئے ہیں، جس نے کبھی بس میں سفر نہیں کیا اور نہ اُنہیں یہ معلوم ہے کہ جب بس سٹاپ پر آدھ پون گھنٹے کے بعد بس آتی ہے تو سوار ہونے والوں میں دھکم پیل کا کیا عالم ہوتا ہے، ایسے میں تین فٹ تک فاصلہ رکھ کر کون بس میں سوار ہو گا؟ اور کون یہ چیک کرے گا کہ کسی کو بخار یا کھانسی کی شکایت ہے، کیا ہر بس سٹاپ پر اس کا انتظام کیا جائے گا؟ ٹرانسپورٹروں کو پٹرول سستا ہونے کی وجہ سے کرائے کم کرنے کی جو ہدایت کی گئی ہے وہ بھی اس لحاظ سے محل ِ نظر ہے کہ بس میں سواریوں کی تعداد تو نصف کر دی گئی ہے اگر کسی بس میں پچاس مسافروں کے بیٹھنے اور کھڑے ہونے کی گنجائش ہو گی تو اب اس میں 25کو سوار ہونے کی اجازت ہو گی ایسے میں وہ کون سا ٹرانسپورٹر ہو گا جو کرایہ کم کرے گا،کیونکہ سستے پٹرول کی وجہ سے سے جو بچت ہو گی وہ کم مسافروں کی وجہ سے ختم ہو کر رہ جائے گی،اِس لئے کم کرائے کی تجویز بھی ناقابل ِ عمل ہے اور اس کا ثبوت کل اُسی وقت مل جائے گا جب ٹرانسپورٹ چلنا شروع ہو گی۔سندھ کے وزیر ٹرانسپورٹ نے اگرچہ بات تلخ لہجے میں کہی ہے،لیکن ان کی بات میں وزن ہے کہ جب صنعت کاروں اور تاجروں نے ایس او پیز پر عمل نہیں کرایا تو ٹرانسپورٹ میں کیسے عمل ہو گا، سندھ میں تو یہ دلچسپ صورتِ حال بھی سامنے آئی ہے کہ پان سگریٹ فروشوں نے اپنا مال کسی دکان پر رکھوا دیا اور باہر کھڑے ہو کر راہ گیروں سے پوچھنا شروع کر دیا کہ آپ کو پان یا سگریٹ کی ضرورت ہو تو ساتھ والی دکان پر دستیاب ہیں، شٹر بند کر کے دکانیں کھولنے کا سلسلہ تو لاک ڈاؤن کے وقت ہی سے جاری ہے، اِس لئے جن حکام کا خیال ہے کہ ٹرانسپورٹ ایس او پیز کے تحت چلائی جا سکتی ہے وہ درست نہیں، اس خام خیالی سے باہر نکل کر سوچنا چاہئے اور محض کاروبار کھولنے کے جوش میں اُلٹے سیدھے ایس او پیز بنا کر کام کا آغاز نہیں کرنا چاہئے ویسے تو کہیں بھی ان پر عمل نہیں ہو رہا، لیکن پبلک ٹرانسپورٹ میں تو عمل درآمد کرانا اور بھی مشکل ہے اور ”این خیال است و محال است و جنوں“ والا معاملہ ہے، لیکن اب چونکہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں ٹرانسپورٹ کھولنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، اِس لئے جلد ہی اندازہ ہو جائے گا کہ عمل درآمد کیسے اور کس انداز میں کرایا جاتا ہے، جن افسروں نے یہ ضابطے بنائے ہیں اُنہیں چاہئے کہ پیر کو جب ٹرانسپورٹ چلنا شروع ہو تو وہ شہر میں نکل کر دیکھیں کہ اُن کے بنائے ہوئے ضابطوں کی دھجیاں کس طرح اڑائی جا رہی ہیں،ویسے اُنہیں کیا پڑی ہے کہ وہ زمینی حقائق دیکھنے کے شوق فضول میں باہر نکل کر خجل خوار ہوں،انہوں نے تو آرام دہ کمروں میں بیٹھ کر جیسے تیسے ضابطے بنا دیئے ہیں، اب ان پر کوئی عمل کرتا ہے یا نہیں اُن کی بَلا سے، وہ نہ کسی کو جواب دہ ہیں نہ کوئی اُن سے جواب طلب کر سکتا ہے،اِس لئے کہ جب یہ فیصلہ کر ہی لیا گیا کہ لاک ڈاؤن بھی ختم کرنا اور ٹرانسپورٹ بھی کھولنی ہے تو پھر عملدرآمد کی پروا کون کرے گا؟

سندھ میں اِس وقت مریضوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے،اِس لئے اگر سندھ کی حکومت اپنے حالات کے مطابق ٹرانسپورٹ نہ چلانے کا فیصلہ کر رہی ہے تو اس کا یہ حق تسلیم کر لینا چاہئے۔ اگرچہ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کے درمیان بہت سے امور پر اختلاف ہیں،لیکن یہ فیصلہ ایسا ہے جس پر صوبائی حکومت کو مجبور نہیں کیا جا سکتا، البتہ جو حضرات ٹرانسپورٹ کھولنے کے لئے گرمجوشی کا اظہار کر رہے ہیں اُنہیں جلد ہی اندازہ ہو جائے گا کہ مسافروں کے ہجوم میں ایس او پیز پر عملدرآمد کرانا کتنا مشکل ہے۔ بہرحال اب اگر فیصلہ کر ہی لیا گیا ہے تو اس سے اچھے نتائج کی امید رکھنی چاہئے اور بُرے نتیجے سے پناہ مانگنی چاہئے،اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

مزید :

رائے -اداریہ -