شہباز شریف کیخلاف کک بیکس کی ٹریل موجود،جواب دیں:حکومت،سالانہ 8کروڑ انکم ٹیکس دینے والے اپوزیشن لیڈر پر 49لاکھ روپے کے مضحکہ خیز الزام پر نیب نیازی گٹھ جوڑ کو ڈوب مرنا چاہیے:مسلم لیگ ن

  شہباز شریف کیخلاف کک بیکس کی ٹریل موجود،جواب دیں:حکومت،سالانہ 8کروڑ انکم ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ شہبازشریف کو ملنے والی کک بیکس کی ٹریل موجود،سوال وہیں کے وہیں ہیں، اپو ز یشن لیڈر جواب دیں ورنہ ریفرنس دائر ہونیوالا ہے،عید کے بعد وہاں جواب دینا پڑیں گے، مسلم لیگ (ن)کے صدر بتائیں مسرور انور،شعیب قمر اور فضل داد عباسی کون ہیں؟ نیب سے روزانہ سماعت کرنے، شہبازشریف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی اپیل کرتے ہیں۔اسلام آباد میں معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز کیساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ پریس کانفرنس میں جو مخصوص چیزیں بیان کیں اورایک نئے کمپنی جس میں شہباز شریف کے براہ راست کک بیکس اور کرپشن کا ذکر تھا جس پر 3 روز گزرنے کے باوجود خود لیگی صدر کی طرف سے جواب نہیں آیا۔انہوں نے شہباز شریف کا حوالے سے کہا کہ وہ اس وقت قرنطینہ درقرنطینہ میں چلے گئے ہیں، پہلے ہی وہ آئسولیشن میں تھے اور اب مزید آئسولیشن میں چلے گئے ہیں۔شہزاد اکبر کا کہنا تھا شہباز شریف نے اپنے چند حواریوں کو بھیجا جن میں بدقسمتی سے ایک سابق وزیراعظم بھی ہیں جنہوں نے رخ کو موڑنے کی کوشش کی، میرے خیال میں اپوزیشن کی دو پہلوؤں کی بنیاد پر حکمت عملی تھی۔ پہلی حکمت عملی تھی کہ اسمبلی اجلاس میں کووڈ-19 پر حکومتی اقدامات پر براہ راست تنقید شروع کردیں اور بے بنیاد تقاریر کی اور بار بار کہنا ہے کہ آپ کی حکمت عملی کیا ہے جبکہ اٹھارویں ترامیم کے مطابق این سی او سی اور این سی سی میں ملک کی تمام نمائندگی تھی اور حکومتیں آئینی تقاضوں کے مطابق کام کررہی ہیں۔معاون خصوصی برائے احتساب کا کہناتھا پاکستان کی کوششوں کو عالمی ادارہ صحت بھی سراہتا ہے لیکن اس کے باوجود توجہ ہٹانے کی حکمت عملی ناکام ہوچکی ہے، جبکہ دوسری حکمت عملی شہزاد اکبر کو تنقید کا نشانہ بنانا تھا۔ انہوں نے کہا شہباز شریف جن فرشتوں کو اپنی چند بھینسوں کا قیمتی اور نایاب دودھ فرو خت کرتے تھے وہ فرشتے منظر عام پر آچکے ہیں اور اصل درد، ان فرشتوں کا سامنے آناہے۔ شہباز شریف بتائیں مسرور انور، شعیب قمر اور فضل داد عباسی کون ہیں؟اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا ملک اس وقت 2 وائرسز کا شکار ہے، ایک وائرس کورونا کے نام سے جانا جاتا ہے، بدقسمتی سے اس کا ابھی تک کوئی دوائی دریافت نہیں ہوا، اس وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔جبکہ پاکستان میں بھی یہ وائرس اپنی تباہی پھیلا رہا ہے جس سے حکومت، وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں ایک بڑے جامع پلان و حکمت عملی کیساتھ نمٹ رہی ہے۔شبلی فراز کا کہنا تھا وزیراعظم اور ان کے رفقا نے بڑی تفصیل سے اپنی حکمت عملی و اعداد و شمار، موجود حالات اور آنیوالے وقت سے متعلق لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا۔ یہ وہ پلان ہے جس میں ہم اپنی طاقت اور کمزوریوں دونوں کو استعمال میں لارہے ہیں، ہمارا ملک کافی مشکلات کا سامنا کررہا ہے،اس کے باوجود عمران خان نے 1.2 کھرب روپے کے ایک جامع پیکیج کا اعلان کیا۔ اس پیکج کا مقصد معاشرے کے مختلف طبقے کی مدد کرنا تھا۔انہوں نے ملک میں جب یہ وبا آئی تو حکومت اور وزیراعظم کی حکمت عملی بڑی واضح تھی، انہوں نے ایسا پروگرام ترتیب دیا جس سے نہ صرف ملک کو اس آفت سے بچایا جائے بلکہ 2 ادارے این سی سی اور این سی او سی بنائے۔ این سی او سی میں ملک کے تمام اسٹیک ہولڈرز، ڈاکٹرز، سیاسی قائدین، پارلیمینٹیرین، ماہرین، تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ شامل ہیں کیونکہ حکومت کا یہ واضح موقف تھا کہ صرف پی ٹی آئی یا اکیلی حکومت اس سے نہیں لڑ سکتی اور اسی سلسلے میں وزیراعظم نے تمام وفاقی اکائیوں کو ایک طرح دیکھا اور انہیں مساوی طور پر شامل کیا۔شبلی فراز کا کہنا تھا ہسپتالوں کو سامان فراہم کیا گیا اس کے علاوہ تمام طبی سامان تمام صوبوں کو فراہم کیا کیونکہ ہم سمجھتے ہیں یہ ایسی جنگ ہے جسے مل کر ہی شکست دی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اسی دوران اپوزیشن خاص طور پر مسلم لیگ (ن) نے پارلیمنٹ کا اجلاس بلوایا، چونکہ مسلم لیگ (ن) کی کسی صوبے میں نمائندگی نہیں تھی اور وہ آن بورڈ نہیں تھے تو ہم نے انہیں موقع دیا کہ وہ بھی پارلیمنٹ میں آکر تجاویز دیں۔ تاہم ہوا یہ کہ جنہوں نے اجلاس بلایا تھا یعنی قائد حزب اختلاف شہباز شریف وہ خود قومی اسمبلی اجلاس سے غیرحاضر رہے۔ پارلیمنٹ میں وہی تقاریر ہوئیں جو پریس کانفرنس میں کی جاتی تھیں جبکہ شہباز شریف کا اس اجلاس میں شرکت نہ کرنا اسی بات کی غمازی ہے کہ اشرافیہ کی ذہنیت (ایلیٹ مائنڈ سیٹ) برسرپیکار ہے، وہ نہیں سمجھتے تھے کہ ان کی صحت ان کو اجازت دیتی ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں آکر خود کو خطرے میں ڈالیں، باقی پارلیمنٹیرینز اور پاکستان مسلم لیگ(ن) کی زندگی اہم نہیں، ان کی اپنی پارٹی کے بیمار رکن بھی اس اجلا س میں آئے۔ یہ چیز اس پارٹی کے کلچر کو ظاہر کرتی ہیں کہ اپنے لیے کچھ اور اپنی پارٹی کیلئے کچھ، جب بیمار ہوتے ہیں تو لندن چلے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دوسری جانب ہماری قیادت ہے، وزیراعظم عمران خان 30 فٹ سے نیچے گرے اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ ایک بین الاقوامی شخصیت ہیں، ان کیلئے سب انتظام ہوسکتا تھا لیکن انہوں نے اپنے بنائے ہوئے ہسپتال میں علاج کو ترجیح دی، یہ ہوتا ہے ایک لیڈر کا عزم اور عوام سے وابستگی۔ شبلی فراز کا کہنا تھا ہم نے تو یہی دیکھا ہے کہ یہ اقتدار میں ہوتے ہیں یا باہر ہوتے ہیں۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم نااہل ہیں تو اس پر میرے ان سے 2، 3سوالات ہیں، کیا قومی اداروں کو طاقتور بنانا نااہلی ہے؟، کیا احتساب کے عمل کو آگے بڑھانا یا غریبوں کو ریلیف دینا نااہلی ہے؟ جو کرپٹ اور نااہل تھے انہیں عوام نے 2018 میں ہی مسترد کرکے نااہل ثابت کردیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں دوسرے وائرس کا اینٹی ڈوٹ دریافت ہوچکا ہے جس کا نام عمران خان لہٰذا ہمیں گھبرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ اسے عمران خان ہی ختم کرے گا، یہ وائرس عوام کے خون کو چوستا ہے، آپ کے ملک کی بنیادیں کمزور کرتا ہے اور ملک کو قرضوں میں ڈبوتا ہے۔ ایون فیلڈ یا اس طرح کی کھربوں کی جائیدادیں جو شہباز شریف اینڈ سنز پرائیویٹ لمیٹڈ اس وائرس کا سب سے بڑا شیئر ہولڈر ہے، انہوں نے ایک بڑ ے منظم طریقے سے ملک کے وسائل کو پامال کیا اور اپنے لیے ایک دوسری دنیا بسائی،جس کا پاکستان کے عوام اور غریبوں سے کوئی تعلق نہیں۔ خدانخواستہ یہ ملک اگر اجڑتا ہے تو انہوں نے اپنے لیے ایک دوسری دنیا آباد رکھی ہے، جس میں ان کے بھائی، بیٹے، بھتیجے اور یہ خود واپس جانا چاہتے ہیں لیکن ایسا ہونے والا نہیں ہے۔

حکومت

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)پاکستان مسلم لیگ (ن)کی ترجمان مریم اورنگ زیب نے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ نیب نیازی گٹھ جوڑ نے 8کروڑ انکم ٹیکس دینے والے شہباز شریف پر 49لاکھ روپے کا مضحکہ خیز الزام عائد کیا۔مریم اورنگ زیب نے اپنے بیان میں کہا نیب نیازی گٹھ جوڑ نے دو سال الزامات کا پہاڑ کھودا اور 49 لاکھ کے الزام کا مرا ہوا بدبودارچوہا نکالا۔ سالانہ 8 کروڑ انکم ٹیکس دینے والے شہبازشریف پر 49 لاکھ روپے کا مضحکہ خیز الزام لگانے پر نیب نیازی گٹھ جوڑ کو ڈوب مرنا چاہیے۔بطور وزیراعلی کروڑوں روپے کا قانونی استحقاق چھوڑنے والے شہبازشریف پر49 لاکھ کا الزام کوئی شرم، کوئی حیا ہوتی ہے، ار بو ں اور کھربوں کے منصوبے لگانے، اور ان میں اربوں کی بچت کرنیوالے شہبازشریف پر 49 لاکھ کا الزام احتساب کے جنازے کی فاتحہ ہے۔ترجمان مسلم لیگ (ن)کا کہنا تھا کہ اربوں کھربوں کے الزامات لگانے والے اب49 لاکھ کے الزام تک آپہنچے ہیں، آئی ایف ایم جانے پرتو نہیں کی عمران صاحب 49 لاکھ کے الزام پر آج خود کشی کرلیں کیونکہ ان کا کرپشن کا جھوٹا بیانیہ اب نہیں بک رہا۔ احتساب کے ٹھیکیداروں کو چار چیلنج دیے تھے، جن کا اب تک جواب نہیں آیا، نیب نیازی گٹھ جوڑ نے آج شہبازشریف کی کرپشن کا ثبوت لانا تھا، عوام تو وہ سننا اور دیکھنا چاہتے تھے۔ شہبازشریف کے بارے میں میرے چیلنج کا عمران صاحب نے جواب دینا نہیں، نیب نے نوٹس لینا نہیں مگر جوکر ہی جواب دیدیں۔ ناکام، شرمندہ اور ہارے ہوئے ٹولے کاشریف خاندان اور مسلم لیگ (ن)کیخلاف کرپشن کا بیانیہ جھوٹا ثابت ہوچکا اور حکومت عوام کی خدمت کے امتحان میں فیل ہوچکی ہے۔ حکومت کرپشن میں رنگے ہاتھوں پکڑی جاچکی ہے، اس لیے سیاسی مخالفین کا میڈیا ٹرائل جاری ہے، عمران صاحب کی آٹا اور چینی چوری ڈکیتی کی رپورٹ چھپائی جارہی ہے، اس لیے نیب نیازی گٹھ جوڑ ہر روز تماشا لگاتا ہے۔حکومتی پریس کانفرنس کے جواب میں ان کا کہناتھا کہ کمپنیز آرڈیننس میں ترمیم کے ذریعے نئی ڈکیتی سے عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے یہ پریس کانفرنس کی گئی۔ عمران خان کے اربوں روپے کے 23 خفیہ اکاؤنٹس، فارن فنڈنگ، مالم جبہ اور ہیلی کاپٹرکیسزمیں کرپشن ہوئی، اس کا حسا ب دیں۔ترجمان مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ بلین ٹری سونامی، 100 ارب کے بی آرٹی کھڈوں، 500 ارب آٹا، چینی اور 580 ارب سے زائد ادویات کے ڈاکے کا حساب دیں، عمران خان کے فارن فنڈنگ کے وہ چیک پیش کریں جن پر ان کے دستخط ہیں اور ان کی چوری سٹیٹ بینک کے ریکارڈ کا حصہ ہے۔ عمران خان کی منی لانڈرنگ، حوالہ اور ہنڈی کا الیکشن کمیشن میں چھپایا گیا ریکار ڈ عوام کے سامنے کیوں پیش نہیں کیا جا رہا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان پی آئی ڈی میں شہبازشریف کا سرکاری خرچ پر روزانہ میڈیا ٹرائل کرنے سے آپ کی کرپشن اور نالائقی چھپ نہیں سکتی۔مریم اورنگ زیب کا کہنا تھا عدالتوں میں ثبوت نہ دینے والی ناکام لوگ سرکاری خرچ اور سرکاری عمارتوں میں الزامات کے سرکس سے عوام کو دھوکا نہیں دے سکتے۔

مسلم لیگ ن

مزید :

صفحہ اول -