پنجاب،خیبرپختونخوا،پبلک ٹرانسپورٹ کل سے بحال،کرایہ 20فیصد کم،عوام باشعور شہری ہونے کا ثبوت دیں دوران سفر تمام ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کریں:وزیر اعظم عمران خان

پنجاب،خیبرپختونخوا،پبلک ٹرانسپورٹ کل سے بحال،کرایہ 20فیصد کم،عوام باشعور ...

  

لاہور،پشاور،کراچی (جنرل،سپیشل رپورٹرز،سٹاف رپورٹرز،مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے انٹرسٹی اور انٹر ڈسٹرکٹ ٹرانسپورٹ اور آن لائن ٹیکسی سروس کھولنے کی اجازت دیدی جبکہ کرایوں میں بھی 20 فیصد کمی کا اعلان کردیا۔ان خیالات کا اظہار وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے اجلاس کے دوران کیا، اجلاس میں کورونا وباء سے پیدا ہو نیوالی تازہ ترین صورتحال پر غور کیاگیا۔اجلاس میں کورونا وباء کی روک تھام کیلئے کیے جانیوالے حکومتی اقدامات کا جائزہ لیاگیا۔ہسپتالوں میں زیر علاج مریضوں کو فراہم کی جانیوالی سہولتوں پر بھی غور کیا گیا۔لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد بازاروں اور مارکیٹوں میں ایس او پیز پر عملدرآمد کے حوالے سے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔صوبائی وزراء راجا بشار ت، ڈاکٹر یاسمین راشد، اسلم اقبال، فیاض الحسن چوہان، چیف سیکرٹری،انسپکٹر جنرل پولیس،سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ،کمشنر لاہورڈویژن،سیکرٹری خزا نہ،سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن،سیکرٹری پرائمری و سکینڈری ہیلتھ،سیکرٹری صنعت،سیکرٹری اطلاعات اورمتعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔صوبائی وزیر ہاشم جواں بخت،عسکری حکام،سیکرٹری لوکل گورنمنٹ،چیف ایگزیکٹو آفیسر اربن یونٹ،ڈی جی پی ڈی ایم اے،سیکرٹری منصوبہ بندی و ترقیات،سیکرٹری محنت، سیکرٹری زراعت، سیکرٹری خوراک اورچیئرمین پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔وزیراعلیٰ پنجاب کی زیر صدارت ہونیوالے اجلاس میں بڑے شا پنگ مالز کو بھی ایس او پیز کے تحت کھولنے کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں پاور لومز کو بھی کام کی اجازت دینے کی منظوری دی گئی جبکہ ایس او پیز کے تحت گرجا گھروں میں اتوار کو عبادت کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا۔وزیر اعلی عثمان بزدار نے کہا کہ کورونا کا خطرہ ختم نہیں ہوا بلکہ ہمیں مزید احتیاط کی ضرورت ہے لیکن ہم نے اپنے لوگوں کو کورونا اور بھوک دونوں سے بچانا ہے شہریوں سے اپیل ہے وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ وزیر اعلی نے کہا پنجاب میں کورونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 14201 ہے اور اب تک پنجاب حکومت تقریبا ایک لاکھ 58 ہزار ٹیسٹ کر چکی ہے۔ 24 گھنٹے کے دوران 5953 ٹیسٹ کئے گئے ہیں۔ پنجاب میں ہوم آئسو لیشن کی اجازت دی جا چکی ہے۔ وزیر اعلی عثمان بزدار نے کہا جمعۃ الوداع، یوم القدس اور عید کے حوالے سے علیحدہ حکمت عملی مرتب کی جائے اور اس ضمن میں اگلے ہفتے حتمی پلان پیش کیا جائے۔ علاوہ ازیں وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے تصدیق کی ہے کہ حکومت پنجاب اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان معاملات طے پا گئے ہیں اور انٹر سٹی ٹرانسپورٹ کو کرایوں میں 20 فیصد کمی کیساتھ کھولنے کا فیصلہ ہوگیا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عام آدمی کو ملے گا۔ پبلک ٹرانسپورٹ کو وضع کردہ ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنانا ہو گا، مسا فر و ں، ڈرائیورز اور کنڈیکٹرز کیلئے ماسک پہننا لازم قرار دیا گیا ہے،بسوں میں سینی ٹائزرز اور مسافروں کے درمیان ضروری فاصلہ رکھا جائے گا۔ حکومت نے کل پیر سے پنجا ب میں آٹو انڈسٹری، شاپنگ مالز اور ٹرانسپورٹ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لاک ڈاؤن میں نرمی کا فیصلہ عوامی سہولت کے تحت کیا ہے، کرفیو اور لاک ڈاؤن میں سختی سے عام لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے۔ پنجاب میں لاک ڈاؤن میں نرمی یا سختی عوامی ردعمل کو دیکھ کر کی جائے گی، حکومتی ایس او پیز پر عمل کرتے ہوئے عوام روزمرہ کے امور سر انجام دے سکتے ہیں، کورونا سے بچاؤ صرف سماجی دوری کے مروجہ قوانین پر عمل کرنے سے ہی ممکن ہے۔ پنجاب حکومت نے انٹر سٹی ٹرانسپورٹ کھولنے کیلئے ایس او پیز تیار کر لیے،دو سیٹوں پر ایک مسافر بیٹھ کر سفر کرے گا، ایک سے دوسرے مسافر میں 3 فٹ کا فاصلہ لازمی قرار دیا گیا ہے، ایک روٹ پر سفر مکمل ہونے کے بعد بس میں جراثیم کش اسپرے کیا جائے گا، بسوں میں اے سی کے استعمال سے اجتناب کیا جائے گا،پبلک ٹرانسپورٹ میں سوار ہر مسافر کیلئے فیس ماسک، ہینڈ سینی ٹائزر لازمی قرار دیا گیا ہے۔ بس میں سوار ہونے کیلئے اگلا اور اترنے کیلئے پچھلا دروازہ استعمال ہوگا۔ایک دروازے والی بس میں مسافر پہلے اتریں گے پھر دوسرے سوار ہوں گے، بس عملہ مسافروں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرانے کے ہر ممکن اقدامات کریگا۔ کھانسی اور نزلہ زکام کی شکایت والے مسافروں کو سوار ہونے کی اجازت نہیں ہوگی، بسوں کی کھڑکیاں ہوا کے گزر کیلئے کھلی رکھی جائیں گی۔شہر میں آن لائن ٹیکسی سروس کے لیے بھی ایس او پی جاری کیا گیا ہے، جس میں مسافروں کیلئے فیس ماسک اور ہینڈ سینی ٹائزر لازمی قرار دیا گیا ہے، ڈرائیور بھی گاڑیاں چلاتے وقت فیس ماسک کا استعمال کریں گے۔ بڑے شہروں میں پھنسے مسافروں کیلئے خوشخبری، اندرون ملک فلائٹ آپریشن جزوی طور پر بحال ہوگیا، کراچی سے لاہور اور اسلام آباد کیلئے چار پروازیں شیڈول ہیں، طیاروں کو ڈس انفیکٹ اور مسافروں کے درمیان ایک نشست خالی رکھی جائے گی۔ ڈومیسٹک پروازیں 5 بڑے ایئرپورٹس سے ایس او پیز کے تحت آپریٹ کی جائیں گی۔وفاقی وزیر ہوابا ز ی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ ایس او پی پر عمل کرنا لازمی ہوگا۔ پرواز سے قبل طیارے کو ڈس انفیکٹ اور مسافروں کے درمیان ایک نشست خالی رکھی جائے گی، ماسک اور سینیٹائزر کا استعمال بھی لازمی قرار دیا گیا ہے، جہاز میں کھانے اور مشروبات کی اجازت نہیں ہوگی، ہرمسافر کو ہیلتھ ڈیکلریشن فارم بھی بھرنا ہوگا۔ خیبر پختونخوا حکومت نے عوامی سہولت کی خاطرکل بروز پیر سے تمام پبلک ٹرانسپورٹ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔مشیر اطلاعات اجمل وزیر نے بتایا پبلک ٹرانسپورٹ کو ایس او پیز کے تحت کھولا جائے گا۔ کمشنرز، ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی ٹراسپورٹز کیساتھ مل کر ایس او پیز تشکیل دیں گے۔ تیل کی نئی قیمتوں کے مطابق نظر ثانی کرایہ وصول کیا جائے گا۔ کمشنر حالات کو دیکھتے ہوئے اپنے ڈویژن کے اندر انفرادی روٹ کھولنے کا فیصلہ کریں گے۔ ایک ضلع کے اندرون یا دوسرے ضلع کے روٹ کا فیصلہ بھی کمشنرز کریں گے۔ ایسے روٹ جو مختلف ڈویژنوں کی حدود میں ہوں، ان کے کھولنے کا فیصلہ صوبائی سطح پر ہوگا، ٹرانسپورٹ کھولنے کا فیصلہ وفاق سے مشاورت سے کیا ہے۔ اس کے علاوہ پٹرول پمپ چوبیس گھنٹے کھلے رہ سکیں گے جبکہ حجام کی دکانیں ایس او پیز کے ساتھ جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو 4 بجے تک کھلی رہ سکیں گی۔ حکومت نے طورخم سرحدی گزرگاہ کو بھی پیدل آمدورفت کیلئے بحال کردیاہے۔ڈپٹی کمشنر خیبر محمود اسلم وزیر کے مطابق وفاقی حکومت کے احکامات کی روشنی میں سرحد کو بحال کیا گیا جو ہفتے میں 5 دن ٹرانزٹ اور ایک دن پیدل آمدورفت کے کھلی رہے گی۔ سرحد کی بحالی سے افغانستان میں پھنسے پاکستانی وطن واپس آسکیں گے جبکہ پاکستان سے افغانستان جانیوالے شہریوں کیلئے بھی سرحد کھل گئی ہے۔

ٹرانسپورٹ بحال

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عوام کی ضرورت و سہولت کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت پبلک ٹرانسپورٹ کھو لنے کا فیصلہ اپنے وضع کردہ ایس او پیز کے ساتھ کررہی ہے۔ہفتہ کو اپنے ٹویٹ پیغام میں وزیراعظم نے عوام پر زوردیا کہ وہ باشعور شہری ہو نے کا ثبوت دیں اور پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرتے ہوئے تمام ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔وزیراعظم نے اپنی ٹویٹ میں ایک ویڈیو بھی شیئرکی ہے جس میں پبلک ٹرانسپورٹ چلانے کیلئے ایس او پیز اور احتیاطی تدابیر کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ عوام کی سہولت کیلئے پبلک ٹرانسپورٹ کو کھولا جارہا ہے لیکن انتہائی ضرورت میں ہی سفر کریں۔ ویڈیو میں ٹرانسپورٹرز اور مسافرو ں کیلئے ہدایات بھی دی گئی ہیں۔

وزیراعظم

اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ، مظفر آباد، گلگت بلتستان (سٹاف رپورٹرز، مانیٹرنگ ڈیسک)ملک میں کورونا وائرس سے مزید 43 افراد انتقال کرگئے جس کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 866 ہوگئی جبکہ نئے کیسز سامنے آنے سے مصدقہ مریضوں کی تعداد 39738 تک جاپہنچی۔اب تک سب سے زیادہ اموات خیبرپختونخوا میں سامنے آئی ہیں جہاں کورونا سے 305 افراد انتقال کرچکے ہیں جبکہ سندھ میں 268 اور پنجاب میں 245 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔اس کے علاوہ بلوچستان میں 36، اسلام آباد 7، گلگت بلتستان میں 4 اور آزاد کشمیر میں مہلک وائرس سے ایک شخص جاں بحق ہوا ہے۔بروز ہفتہ ملک بھر سے کورونا کے مزید 1144 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور 33 ہلاکتیں بھی سامنے آئیں جن میں سندھ سے 674 کیسز 13 ہلاکتیں، خیبر پختونخوا سے 169 کیسز 14 ہلاکتیں، پنجاب سے 278نئے کیسز اور 11 اموات, بلوچستان 234 کیسز 5 ہلاکتیں، اسلام آباد 55 کیسز، گلگت بلتستان میں 9 کیسز اور کشمیر سے مزید 3 کیسز سامنے آئے ہیں۔ بروز ہفتہ سندھ سے کورونا وائرس کے مزید 674 کیسز اور 13 ہلاکتیں سامنے آئیں جس کی تصدیق وزیراعلیٰ سندھ نے کی۔مراد علی شاہ نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 4467 ٹیسٹ کیے گئے جن میں 674 نئے کیسز سامنے آئے اور 13 ہلاکتیں بھی ہوئی۔صوبے میں نئے کیسز کے بعد کیسز کی مجموعی تعداد 15590 اور اموات 268 ہوگئی ہیں۔بلوچستان میں کورونا کے 234 کیسز اور 6 اموات سامنے آئیں جس کی تصدیق صوبائی کورونا پورٹل پر کی گئی۔پورٹل کے مطابق بلوچستان میں کورونا کے کیسز کی کل تعداد 2544 اور ہلاکتیں 36 ہوگئی ہیں۔اس کے علاوہ صوبے میں 417 افراد کورونا سے صحتیاب ہوچکے ہیں۔وفاقی دارالحکومت میں کورونا وائرس کے مزید 55 کیسز سامنے آئے اور ایک ہلاکت بھی ہوئی جو سرکاری پورٹل پر رپورٹ کی گئی۔سرکاری پورٹل کے مطابق نئے کیسز سامنے آنے کے بعد اسلام آباد میں کیسز کی مجموعی تعداد 921 ہو گئی جبکہ ایک ہلاکت کے بعد دارالحکومت میں وائرس سے جاں بحق افراد کی تعداد 7 ہوگئی۔آزاد کشمیرمیں کورونا کے مزید 3 کیسز سامنے آئے جو سرکاری پورٹل پر رپورٹ ہوئے۔ پورٹل کے مطابق علاقے میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 108 ہوگئی جبکہ علاقے میں اب تک وائرس سے ایک ہلاکت ہوئی۔سرکاری پورٹل کے مطابق آزاد کشمیر میں کورونا سے اب تک 76 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں۔خیبر پختونخوا میں ہفتے کو کورونا کے مزید 169کیسز رپورٹ ہوئے اور 14 ہلاکتیں بھی سامنے آئیں جس کی تصدیق صوبائی محکمہ صحت نے کی۔محکمہ صحت کے مطابق صوبے میں کورونا کے کیسز کی مجموعی تعداد 5847 اور ہلاکتیں 305 ہوگئیں۔محکمہ صحت نے بتایا کہ پشاور میں 4، مردان 2 اور صوابی میں ایک ہلاکت ہوئی۔محکمہ صحت کے مطابق مزید 86 افراد کورونا سے صحتیاب ہوئے جس کے بعد صحتیاب ہونیوالوں کی تعداد 1699 ہوگئی۔گلگت بلتستان میں ہفتے کو مزید 9 افراد میں مہلک وائرس کی تشخیص ہوئی جس کے بعد متاثرہ مریضوں کی تعداد 527 ہوگئی۔محکمہ صحت گلگت بلتستان کے مطابق مہلک وائرس سے اب تک 4 ہلاکتیں ہوئی ہیں جبکہ کورونا سے متاثرہ 348 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔ادھر پنجاب میں کورونا وائرس کے مزید 287 نئے کیسز اور 11 اموات کا اضافہ ہوا۔ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کے مطابق صوبے میں ان نئے کیسز کے بعد مجموعی طور پر متاثرین کی تعداد 14201 ہوگئی۔انہوں نے بتایا کہ صوبے میں کورونا وائرس سے مزید 11 افراد کا انتقال ہوا جس سے مجموعی اموات 245 ہوگئیں جبکہ 4757 مریض اب تک صحتیاب ہوگئے۔علاوہ ازیں ملک میں اس وائرس سے شفا پانے والوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ24 گھنٹوں کے 725 نئے ایسے افراد تھے جو وائرس سے مکمل صحتیاب ہوگئے۔جس کے بعد ملک میں اب تک کورونا کو شکست دینے والوں کی تعداد 10155 سے بڑھ کر 10880 تک جاپہنچی۔

کورونا پاکستان

نیویارک، لندن، بیجنگ، روم، برلن، برسلز(مانیٹرنگ ڈیسک)دنیا بھر میں پھیلی عالمی وبا کورونا سے ہلاک افراد کی تعداد 3 لاکھ11 ہزار سے زائد ہو گئی۔مصدقہ مریضوں کی تعداد46لاکھ 88ہزار سے زائد ہوگئی،امریکہ میں گزشتہ روز600سے زائد اموات، مجموعی مریضوں کی تعداد15لاکھ سے زائد ہو گئی،سپین میں مزید120اموات ہوئیں جبکہ مریضوں کی تعداد2لاکھ 80ہزار تک پہنچ گئی،روس میں مزید 129اموات ہوئیں جبکہ مریضوں کی تعداد2لاکھ 73سے زائد ہو گئی،برطانیہ میں بھی گزشتہ روز مزید 490اموات ہوئیں جبکہ مریضوں کی تعداد2لاکھ 42ہزارتک جا پہنچی۔برازیل میں 249،ترکی میں 53، بھارت 130،کینیڈا 115،میکسیکو300 جبکہ اٹلی میں 153مزید اموات ہوئیں،اٹلی کورونا وائرس کے باعث دنیا کے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے لیکن اٹلی میں اب تک کورونا سے 31 ہزار 610 اموات اور 2 لاکھ 23 ہزار 885 افراد متاثر ہو چکے ہیں۔بھارت میں سخت لاک ڈاؤن کے باوجود کورونا وائرس کے کیسز چین سے زیادہ ہو گئے ہیں۔بھارت میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 85 ہزار 940 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 2 ہزار 753 افراد ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔اس بات کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سفری پابندیوں میں کچھ نرمی کیساتھ بھارت میں جاری لاک ڈاؤن کو 17 مئی سے مزید دو ہفتوں کیلئے بڑھا کر 31 مئی تک کر دیا جائے گا۔امریکا میں وائرس سے اموات کی مجموعی تعداد 89 ہزار 507 ہو چکی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں برس کے آخر تک کورونا کی ویکسین تیار ہونے کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا کی ویکسین ہو یا نہ ہو ہم امریکا کو جلد کھول دیں گے۔ برطانیہ میں عالمی وبا سے اب تک 34 ہزار افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جبکہ فرانس میں 27 ہزار 529 اور سپین میں 27 ہزار 459 افراد انتقال کر چکے ہیں۔برازیل میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں مزید ایک دن میں ریکارڈ اضافہ ہونے کے بعد وزیر صحت نیلسن ٹیچ نے چند ماہ کی ملازمت کے بعد استعفیٰ دیدیا۔برازیلین حکام کے مطابق کورونا وائرس اب تک ملک کے 38 قبائل کو متاثر کر چکا ہے اور وائرس تاریخی قبائل میں خطرناک حد تک تیزی سے بڑھ رہا ہے۔برازیل میں اب تک 2 لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد متاثر اور 14 ہزار 962 ہلاک ہو چکے ہیں۔دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 46 لاکھ 39 ہزار 157 تک پہنچ چکی ہے جس میں سے 3 لاکھ 8 ہزار 700 سے زائد افراد ہلاک اور 17 لاکھ 66 ہزار سے زائد صحت یاب ہو چکے ہیں۔حالیہ چند دنوں میں یورپی ملک میں نئے کیسز کی شرح کافی کم رہی ہے۔اٹلی نے کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد اور اموات میں مسلسل کمی آنے کے بعد پابندیاں نرم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اطالوی حکام نے دوماہ سے زائد عرصے سے لگے لاک ڈاؤن میں 3 جون سے نرمی کا اعلان کرتے ہوئے ملک کے مختلف ریجنز کے درمیان سفر کی اجازت دینے کا اعلان کیا ہے، اٹلی نے جون کی تین تاریخ سے بین الاقوامی سفر بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے، مذکورہ دن سے ہی اٹلی میں اندرونِ ملک سفر کی بھی اجازت ہوگی۔ تقریباً دو ماہ طویل لاک ڈاؤن کے بعد یہ اٹلی کی جانب سے اپنی معیشت دوبارہ کھولنے کی جانب بڑا قدم ہے۔اٹلی اْن ممالک میں ہے جہاں دنیا میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں تاہم یہاں مرض پھیلنے کی شرح حالیہ چند دنوں میں تیزی سے گری ہے۔جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک کورونا وائرس کی وجہ سے اٹلی میں 31 ہزار 610 افراد ہلاک ہوچکے ہیں یہاں متاثرین کی تعداد دو لاکھ 23 ہزار 885 ہے۔اٹلی یورپ کا وہ پہلا ملک تھا جس نے فروری میں اپنے شمالی علاقوں میں کورونا وائرس کے متاثرین سامنے آنے کے بعد ملک گیر پابندیاں نافذ کیں مگر چار مئی کو اس نے کارخانوں اور باغوں کو کھلنے کی اجازت دے کر لاک ڈاؤن میں نرمی کا آغاز کیا۔وزیرِ اعظم جوزیپے کونٹے کے دستخط کردہ حکمنامے کے مطابق 18 مئی سے چند دکانیں اور ریستوران بھی سماجی دوری کی پابندی کرتے ہوئے کھل سکیں گے۔ اس کے علاوہ کیتھولک گرجا گھر بھی اسی دن اپنی اجتماعی عبادات شروع کریں گے تاہم سماجی دوری کی سخت پابندی کرنی ہوگی۔ دیگر مذاہب کی عبادت گاہیں بھی کھولی جا سکیں گی۔تین جون سے تمام سفری پابندیاں اٹھا لی جائیں گی۔

دنیا کورونا

مزید :

صفحہ اول -