کورونا از خود نوٹس،وزارت صحت اور 2صوبوں کی رپورٹس جمع،سپریم کورٹ کا نیا بینچ تشکیل

  کورونا از خود نوٹس،وزارت صحت اور 2صوبوں کی رپورٹس جمع،سپریم کورٹ کا نیا ...

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی،این این آئی) کورونا وائرس سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کی پیشرفت رپورٹ وزارت صحت نے سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ہے۔سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دفاتر، شاپنگ مالز، شادی ہال یا ایسی جگہیں جہاں عوام کا ہجوم ہوتا ہے 31 مئی تک بند رہیں گی، دیہاتی اور شہری علاقوں میں چھوٹی دکانیں ایس او پیز کے تحت کھولی جائیں گی۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ تمام صوبوں میں گروسری اور چھوٹی دکانیں فجر سے شام 5 بجے تک کھلی ہونگی، سوائے ضروری اشیاء کے ہفتے اور اتوار کو مکمل طور پر لاک ڈاؤن ہو گا۔سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انٹر سٹی اور بین الاضلاعی پبلک ٹرانسپورٹ چلانے کا فیصلہ طے ہو گا، تمام تعلیمی ادارے 15 جولائی تک بند رہیں گے، سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق نیشنل پالیسی کے تحت کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔علاوہ ازیں پنجاب حکومت نے سپریم کورٹ میں کورونا صورت حال سے متعلق جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا ہے کہ وفاقی حکومت اور صوبوں کا لاک ڈاؤن پر کوئی اختلاف نہیں کیونکہ لاک ڈاؤن عوام کی صحت کے لئے ضروری تھا، وفاقی حکومت نے صوبوں کو لاک ڈاؤن سے متعلق فیصلہ سازی کا اختیار دیا، لاک ڈاؤن سے وفاقی ٹیکس متاثر ہوسکتا ہے، پنجاب میں کاروباری سرگرمیاں معطل کرنے میں وفاق کی ہدایت شامل تھی، آرٹیکل 143، 149کے تحت صوبے وفاقی حکومت کی ہدایت کی تعمیل کے پابند ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آڈیٹر جنرل کی جانب سے فنڈ کی تقسیم میں قواعد کی خلاف ورزی کے اعتراضات لگائے گئے،جن میں چوری یا غبن کا کوئی الزام نہیں، پنجاب میں ایگری کلچر انکم ٹیکس کے نفاذ کے بعد فصلوں پر عشر اکھٹا کرنا دہرے ٹیکس کے زمرے میں آتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صحت اور امن سے متعلق قانون سازی کرنا صوبوں کا اختیار ہے، عوامی صحت اور امن کیلئے صوبائی حکومت نے پنجاب انفیکشن ڈیزیز اینڈ کنٹرول پریوینشن آرڈیننس 2020کا اجرا کیا۔کورونا وائرس از خود نوٹس کیس میں سندھ حکومت نے جواب سپریم کورٹ میں جمع کرا دیا جس میں کہاگیاہے کہ سندھ حکومت نے وفاق کا ٹیکس روکنے کیلئے کوئی اقدام نہیں کیا،لاک ڈاؤن کے باعث برآمدات میں کمی سے ٹیکس میں کمی ضرور آئے گی۔ ہفتہ کو جمع کرائے گئے جواب کے مطابق وفاق کو ٹیکس ادائیگی میں رکاوٹ سے متعلق عدالت نے استفسار کیا۔ رپورٹ میں بتایاگیاکہ کورونا وائرس کے باعث مختلف صنعتوں اور کاروباری مراکز کو بند کیا گیا،لاک ڈاون میں توسیع کا فیصلہ نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی میٹنگ میں کیا گیا،آڈیٹر جنرل کی جانب سے زکواۃ فنڈ کا سالانہ آڈٹ کیا جاتا ہے،آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کیمطابق اقدامات اٹھائے جاتے ہیں۔جواب میں کہاگیاکہ سندھ حکومت کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے،سندھ میں اب تک ایک لاکھ سے زائد کورونا ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔مزید برآں کورونا از خود نوٹس کیس کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ کا نیا لارجر بینچ تشکیل دے دیا گیا، بینچ(کل) سوموار کو سماعت کرے گا۔ کورونا از خود نوٹس پر سماعت کیلئے جسٹس عمرعطابندیال اور جسٹس سجادعلی شاہ کی عدم دستیابی کے باعث سپریم کورٹ کا نیا لارجر بینچ تشکیل دیا گیا، جسٹس مشیرعالم اور جسٹس سردارطارق مسعود اب فاضل بینچ کا حصہ بن گئے۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 5 رکنی بینچ 18 مئی کو کورونا از خود نوٹس پر سماعت کرے گا۔ اس کے لئے اٹارنی جنرل پاکستان، صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز، سیکرٹری صحت اور چیف سیکرٹریز سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری کردئیے گئے۔

کورونا از خود نوٹس

مزید :

صفحہ اول -