امریکہ کا عالمی ادارہ صحت کی فنڈنگ بحال کرنے کا فیصلہ

امریکہ کا عالمی ادارہ صحت کی فنڈنگ بحال کرنے کا فیصلہ

  

واشنگٹن(آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی فنڈنگ بحال کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔تفصیلات کے مطابق امریکی صدر کا عالمی ادارہ صحت کی فنڈنگ بحال کرنے کا بڑا فیصلہ سامنے آیا ہے، صدر ٹرمپ نے ایک ماہ قبل ڈبلیو ایچ او کی فنڈنگ روکنے کا اعلان کیا تھا۔امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکا ڈبلیو ایچ او کو اتنی ہی فنڈنگ دے گا جتنی چین عالمی ادارے کو فراہم کرے گا، ٹرمپ نے اس اعلان کے ساتھ یہ امید بھی ظاہر کی کہ موجودہ بحران کے دوران عالمی ادارہ صحت تعمیری کردار ادا کرے گا۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا ڈبلیو ایچ او کو مجموعی طور پر سالانہ 400 ملین ڈالر فراہم کرتا تھا، تاہم چین نے اگر ادارے کے لیے اپنی فنڈنگ بڑھائی تو امریکا بھی بڑھا سکتا ہے۔دریں اثنا، ٹرمپ انتظامیہ نے عالمی ادارہ صحت سے کرونا وائرس پھیلنے کی غیر جانب دار تحقیق کا بھی مطالبہ کر دیا ہے۔واضح رہے کہ امریکا میں کرونا وبا بے قابو ہونے کے بعد امریکی صدر نے ڈبلیو ایچ او کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنائے رکھا ہے، گزشتہ ماہ بھی انھوں نے ایک بار پھر عالمی ادارہ صحت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ محسوس ہو رہا ہے کہ چین اس ادارے کو کنٹرول کررہا ہے۔

عالمی ادارہ صحت

واشنگٹن (این این آئی)امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہرکی ہے کہ رواں برس کے آخر تک کورونا کی ویکسین تیارکرلی جائیگی اور اسے مفت فراہم کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے امریکی صدرنے ویکسین کی تیاری میں تیزی لانے کیلئے ’آپریشن وارپ اسپیڈ‘کا اعلان کیا جس کی سربراہی چیف سائنسدان ا ور امریکی فوج کے جنرل کریں گے۔ٹرمپ نے ویکسین کی تیاری کو مین ہٹن پروجیکٹ کے بعد امریکی تاریخ کی وسیع پیمانے پر سائنسی، صنعتی اور لاجسٹکس کوشش قرار دیا ہے۔مین ہٹن پروجیکٹ دوسری جنگ عظیم کے دوران ایک ریسرچ اور ڈویلپمنٹ کا کام تھا جس سے پہلی بار جوہری ہتھیار تیار کئے گئے تھے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ویکسین تیار ہویا ناہو لیکن امریکہ معمول کی جانب واپس لوٹ رہا ہے اور واپسی کا عمل شروع کیا جاچکا ہے کیونکہ یہ بہت ضروری ہے۔دوسری جانب امریکی سائنسدانوں نے کہا ہے کہ اس سال ویکسین کی بڑے پیمانے پر فراہمی کا امکان نہیں ہے۔واضح رہے کہ کورونا وائرس کا خاتمہ کرنے کیلئے ویکسین بنانے کیلئے دنیا بھر سے سائنسدان سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں لیکن تاحال ایسی کوئی ویکسین سامنے نہیں آئی جس کے 100 فیصد نتائج سامنے آئے ہوں۔

اقمریکی صدر

مزید :

صفحہ اول -