پورا میچ فکس کرنے پر کھلاڑی کو 10کروڑ روپے ملتے ہیں، ذوالقرنین حیدر

    پورا میچ فکس کرنے پر کھلاڑی کو 10کروڑ روپے ملتے ہیں، ذوالقرنین حیدر

  

لاہور (سپورٹس رپورٹر) پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق وکٹ کیپر ذوالقرنین حیدر نے فکسنگ میں ملوث کھلاڑیوں کو ٹیم میں واپس نہ لینے کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا ہے کہ بڑے میچ فکس کرنے پر 10 کروڑ روپے تک کھلاڑیوں کو دیے جاتے ہیں۔ میچ فکسنگ پربات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے اپنے پہلے میچ میں 88 رنز بنا کر عالمی ریکارڈ بنایا، جس کی جگہ گیا تھا وہ کامران اکمل تھے اور وہ مضبوط لابی کا حصہ تھے، اس وقت پنجاب کے 8 کھلاڑیوں کی لابی تھی، یاور سیعد منیجر تھے جنہوں نے مجھے اپنے کمرے میں بلا کر کہا کہ ہم آپ کو واپس بھیج رہے ہیں کیونکہ آپ کو انجری ہے حالانکہ معمولی انجری تھی جو عموماً وکٹ کیپرز کے ساتھ ہوتی ہے۔سابق وکٹ کیپر کا کہنا تھا کہ اگلے ٹیسٹ میں 7 لڑکے پکڑے گئے جس میں کامران اکمل، محمد عامر، محمد آصف اور سلمان بٹ وغیرہ پکڑے گئے عامر نے ایک نو بال کرنے کے لیے 5 ہزار ڈالر لیے تھے، ایک ٹیسٹ میں 8 سے 9 نوبال کرائیں تو 40 ہزار پاؤنڈ آرام سے جیب میں آتے ہیں '۔ 'وسیم اکرم اکثر پہلی گیند وائیڈ کیا کرتے تھے لیکن اس وقت اتنا ریٹ نہیں تھا ایک پورا میچ فکس کرنے کے لیے اسوقت پاکستانی 4 کروڑ روپے ملا کرتے تھے'۔ذوالقرنین کا کہنا تھا کہ 'دبئی میں بکیز سے میں نے پوچھا تھا تو انہوں نے کہا کہ 2010 میں 4 کروڑ ریٹ تھا اور اب بھارت اور پاکستان کا فائنل یا اسی طرح کا اچھا میچ ہو تو 10 کروڑ روپے ہوتا ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'جن لوگوں نے میچ فکسنگ کی ہے انکو واپس نہیں لانا چاہیے کیونکہ اتنا ٹیلنٹ ہے کہ انکو دوبارہ لانے کی ضرورت نہیں ہے اور اگر لانا تھا تو پھر سب کو لاتے'۔محمد عامر کی واپسی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ 'محمد عامر کو شکیل شیخ کا تعاون تھا اس لیے واپس آئے، اگر وہ نہ ہوتے تو عامر بھی کبھی واپس نہ آتے'۔انہوں نے کہا کہ 'میں نے بورڈ کو سب بتادیا تھا لیکن ہلکی پھلکی انکوائری ہوئی اور مجھے 5 لاکھ جرمانہ ہوا جو ٹھیک فیصلہ تھا کیونکہ میں نے کسی کو بتایا نہیں تھا تو ڈسپلنری ایکشن ہوا دیگر معاملات میں کلیئر ہوا اور ڈومیسٹک کرکٹ کھیلی'۔انکا کہنا تھا کہ 'جسٹس قیوم نے اپنی رپورٹ میں معین خان، انضمام الحق، وسیم اکرم اور دیگر کو کوئی عہدہ نہ دینے کی بات کی تھی لیکن اب سب کے پاس عہدے ہیں '۔

مزید :

کھیل اور کھلاڑی -