نشتر،پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن اورینگ ڈاکٹرزریفارمزکااحتجاج

نشتر،پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن اورینگ ڈاکٹرزریفارمزکااحتجاج

  

ملتان(نمائندہ خصوصی)ہاوس آفیسرز کی بھرتیوں میں بے ضابطگی کا معاملہ،ذمہ دار پروفیسر کو دوبارہ انٹرویو کمیٹی کا حصہ بنائے جانے پر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن اور ینگ ڈاکٹرز ریفارمرز کا ہسپتال میں احتجاج،ایم ایس اور سینئر فیکلٹی کی جانب سے میرٹ کو یقینی بنانے کی گارنٹی پر مظاہرہ ختم، نشتر میڈیکل یونیورسٹی و ہسپتال میں چند روز قبل نئے ہاوس آفیسرز کو انٹرویو کے ذریعے بھرتی کیا گیا بعد ازاں وارڈ روٹیشن میں میرٹ کی دھجیاں بکیھرتے ہوئے 30 ہاوس آفیسرز (بقیہ نمبر30صفحہ6پر)

جو کہ میرٹ پر تھے انکو نظر انداز کر کے یونیورسٹی کے پروفیسر نے ایک خاتون ہاوس آفیسر کو خلاف میرٹ وارڈ میں ڈیوٹی دی جس پر دیگر ہاوس آفیسرز سمیت پی ایم اے ملتان نے آواز اٹھائی تھی جس پر انکوائری ہوئی اور میرٹ کو نظر انداز کیا جانا ثابت ہوئے تاہم یونیورسٹی انتظامیہ وائس چانسلر کی جانب سے دوبارہ میرٹ کی پامالی ملوث پروفیسر کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے پاکستانی اور فارن میڈیکل گریجویٹس کے انٹرویو کا کوآرڈینیٹر بنائے جانے پر شدید غم و غصہ کو اظہار کرتے ہوئے پی ایم اے ملتان اور ینگ ڈاکٹرز ریفارمز ایسوسی ایشن کے ڈاکٹر یونیورسٹی میں جمع ہوئے اور مرکزی دروازے پر بھرپور احتجاج شروع کر دیا اس موقع پر پی ایم اے کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر رانا خاور،ڈاکٹر شیخ عبدالخالق،ڈاکٹر ذوالقرنین حیدر،وقار نیازی اور ینگ ڈاکٹرز ریفارمرز ایسوسی ایشن کے ڈاکٹر میاں عدنان کا کہنا تھا کہ رپورٹ میں جب یہ بات واضح ہو گئی کہ میرٹ کی دھجیاں اڑائی گئی اسکے باوجود ذمہ داران کیخلاف کاروائی عمل میں لانے کی بجائے اسی پروفیسر کو دوبارہ کوآرڈینیٹر بنا کر انٹرویو کمیٹی کا حصہ بنا دیا گیا ہے جو کہ وائس چانسلر نشتر میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر مصطفی کمال پاشا کی جانب سے ذمہ دار پروفیسر کو بچانے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں ہے،ادھر احتجاج کرنے والے ڈاکٹرز نے یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف بھرپور نعرے بازی شروع کر دی جس پر ایم ایس نشتر ہسپتال اور دیگر سینئر فیکلٹی ممبران پروفیسر غلام مصطفی،پروفیسر خالد قریشی و دیگر نے پی ایم اے اور ینگ ڈاکٹرز ریفارمرز کے ڈاکٹرز سے مذاکرات کئے اور یقین دہانی کروائی کے انٹرویو کے عمل کی شفافیت کو برقرار رکھا جائیگا اور انکی نگرانی میں تمام عمل مکمل کیا جائیگا جس پر مظاہرین نے انٹرویو کے عمل کو جاری رکھنے کے لئے مظاہرہ ختم کر دیا تاہم اس حوالے سے ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ اگر میرٹ دوبارہ سبوتاژ کرنے کی کوشش کی گئی تو بھرپور احتجاج پر مجبور ہو جائیں گے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -